ارد شیر کاوس جی ۔۔۔۔سچ کی علامت 

ajmal shahdin

ارد شیر کاوس جی ایک عالی شان آدمی تھے ۔ عالی شان کالفظ ہی ان کی شخصیت کے بیان کیلئے موزوں ٹھہرتا ہے ، اس سے کم کوئی نہیں ۔ کبھی کبھی وہ مجھے ایک یونانی دیوتا یا بادشا ہ لگتے تھے ۔ پاکستانی قو م کے وہ ایک دبنگ ہیروتھے ۔عام آدمی بھی یہ جانتا تھا کہ یہ بابا جو بھی بول رہا ہے ۔ سچ بول رہا ہے یا اس کی سچی رائے یہی ہے ۔ کوئی خوف ، کوئی ڈران کے پاس سے چھو کر بھی نہیں گزرا تھا۔
میری ان سے پہلی ملاقات بہت کوشش کے بعد ہوئی ۔ میں نے پاکستان میں سنڈیکیٹ جرنلزم کی بنیاد رکھی تھی جس کے تحت کالم نگاروں خصوصاََ انگریزی کالم نگاروں کے اُردو تراجم اُردو کالم کی شکل میں بیک وقت شائع ہوئے تھے اور آج 12سال بعد بھی ہوتے ہیں حتیٰ کہ آج کچھ کالم نگار تو انگریزی کالم کو ہی تیاگ چکے ہیں اور مکمل طور پر اُردو کالم نگار بن چکے ہیں ۔ میری فطری خواہش تھی کہ کاوس جی بھی میرے سنڈیکیٹ کا حصہ بنیں اور اعزاز مجھے حاصل ہو ۔ محترم ایاز امیر صاحب کی سفارش سے جناب ارد شیر کاوس جی مجھے ملنے کے لئے راضی ہوگئے ۔ مجھے وہ پہلی ملاقات آج بھی تمام تر جرئیات کے ساتھ یاد ہے ۔میں باتھ آئی لینڈ میں ان کے خوبصور ت وِلا /بنگلہ پر پہنچا ۔ ان کے دیرینہ خادم ہاشم نے مجھے بیرونی ڈرائنگ روم میں بٹھایا ۔اتنے میں ایک بڑا سفید پرندہ (جو بعد میں ان کا پالتو طوطا ثابت ہوا) آگیا اوراس نے مجھ پر چیں چیں کرنا شروع کردیا ۔ کچھ لمحوں کے بعد اندازہ ہوا کہ وہ اپنے لہجے میں انگریزی بول رہا تھا اور مجھ سے سوالات کررہا تھا ۔کاوس جی کی معتمد خاص محترمہ امینہ جیلانی نے اس انسپکٹر طوطے سے میری گلو خلاصی کرائی ۔ کچھ ہی دیر بعد کاوس جی تشریف لے آئے ۔پہلے پہل تو ان کا لہجہ سخت تھا مگر جیسے ہی کچھ دیر بعد انہیں میری حسنِ نیت کا احساس ہو اتو اپنے مخصوص انداز میں بے تکلف ہوگئے ۔ اسی لمحے وہ سنڈیکیٹ کا حصہ بن چکے تھے ۔ایاز امیر صاحب سے ان کی دوستی بھی تھی مگر کچھ مقابلے کا رجحان بھی ۔ کہنے لگے ایاز امیر کو اُردو کالم کے کتنے پیسے ملتے ہیں ۔ میں نے بتایا کہ وہ اس وقت سب سے زیادہ معاوضہ وصول کرنے والے کالم نگار ہیں تو کہنے لگے میں اس سے بھی 30ہزار روپے زیادہ لوں گا ۔ اگر کرسکتے ہوتو کرلو، میں نے یہ چیلنج قبول کرلیا !ایکسپریس کے سلطان لاکھانی ان کے مداح تھے لہٰذا ان کا اردو کالم پہلے ایکسپریس ، بعد میں روزنامہ جناح او رپھر ان کی وفات تک ایکسپریس میں ہی شائع ہوتا رہا ۔

کچھ ہی عرصے میں وہ مجھ پر اعتماد بھی کرنے لگے تھے اور شفقت بھی ۔ میں جب بھی کراچی جاتا۔ ان سے ملنے ضرور جاتا۔ بہت ساری باتیں ہوتیں ان کے بے لاگ تبصرے چلتے رہتے ۔ایک دن میں ان سے کہا کہ یہ آپ کے ڈرائنگ روم میں بحری جہاز کے خوبصورت ماڈل کیوں رکھے ہوئے ہیں ؟ کہنے لگے یہ میرے قیمتی جہاز رستم اور سہراب ہیں جنہیں بھٹونے نیشنلائزیشن میں قومیا لیا تھا ۔ کہنے لگے یہ جہاز کروڑوں روپے کی مالیت کے تھے ، یہ ماڈل اس وقت پینٹر کے پاس تھے اس لئے بچ گئے ۔میں انہیں اپنے جہازوں کی یاد میں گھر لے آیا اور اب انہیں نگاہوں کے سامنے رکھتا ہوں ۔ بھٹونے کوئی Compensationبھی نہیں دیا ۔
بھٹو کے وہ سخت خلاف تھے حا لانکہ جوانی میں دونوں بہترین دوست تھے ۔اکٹھے کھاتے اور پیتے ، مجھے صحیح طرح نہیں یا د مگر شاید بھٹو کی شادی میں کاوس جی گواہ بھی تھے ۔
ایک با ر مجھے کہنے لگے روزنامہ ڈان میں بھی میرے شےئر ز تھے ۔ میرے والد نے جناح صاحب کے کہنے پر ڈان کے شےئرز خریدے تھے ۔ وہ کافی عرصے میری ملکیت میں رہے مگر منافع وغیرہ کچھ نہیں ملتا تھا ۔ نقصان کی ہی رپورٹ آتی تھی ۔میں نے وہ بھی ہارون خاندان کو دے دےئے ۔
ان کے ڈرائنگ روم میں مختلف پارسی شخصیات کے مجسمے تھے ، وہ مجھے ان کے بار ے میں بتاتے رہتے ۔کہتے ان سب نے کراچی کی بہت خدمت کی ہے ۔ میں نے بھی ایک فاؤنڈیشن قائم کررکھی ہے جو فلاحی کام کرتی ہے ۔ ڈاکٹرادیب رضوی کے بہت قائل تھے ۔"SIUT"میں انہوں نے کئی قیمتی مشینیں خرید کے عطیہ کیں ۔

ایک دن میں ان سے ملنے گیا تو وہ بہت اچھے موڈ میں تھے ۔ اپنے گہرے نیلے سلیپنگ گاؤن میں ہی اٹھے اور اپنی نیلے رنگ کی سپورٹس کار خود ڈرائیو کرتے ہوئے نکالی ، حفاظتی پولیس سکواڈ بھی ان کے پیچھے پیچھے چلیں ، کہنے لگے سالے یہ نہیں مانیں گے ، میں ان سے کہتا رہتا ہوں کہ مجھے اکیلے جانے دیا کرو میں نے کئی بار کہا ہے کہ یا تو مجھے لندن کے جوکر(الطاف حسین ) سے خطرہ ہے یا مولویوں سے ۔ باقی سارا کراچی مجھے پیار کرتا ہے ۔ مگر جب وہ مجھے ٹھوکنے آئیں گے تو یہ سالے کیا کرسکیں گے ۔ میرے لیے وہ بہت بڑا اعزاز تھا کہ وہ مجھے خود ڈرائیو کرکے اپنی تما م پسندیدہ جگہوں پر لے جارہے تھے ۔ وہ مچھر کالونی پہنچے جہاں غریب واقعی مچھروں کی سی زندگی گزارتے ہیں ۔وہا ں انہوں نے دی سٹیزن فاؤنڈیشن کو عطیہ دے کر جدید سکول بنوایا تھا جس کا نام کاؤس جی کیمپس ہے ۔
پھر وہ مجھے اپنی والدہ AVAاور والد رستم کے نام پر بنائے گئے دو خوبصورت پارکس دکھانے لے گئے ۔ کہنے لگے کراچی کے پراپرٹی مافیا نے مجھے بہت بار پیشکشیں کیں مگر میں نے سوچا کہ اس قیمتی زمین کا سب سے بہترین مصرف کراچی والو ں کے لئے پار ک ہیں جہاں ہرعام آدمی آسکتاہے ۔یہ ان کراچی کے لوگوں کے لئے نہایت قیمتی تحائف ہیں ۔
اس سفر میں میں نے ان سے پوچھا تو انہوں نے بتایا کہ میرا بیٹا باہر ( شاید امریکہ ) میں مقیم ہے جبکہ میری بیٹی یہیں ہے ۔بیٹے کی کوئی اولاد نہیں ہے جس پر مجھے بہت افسوس ہوا کہ کاوس جی کی نرینہ نسل یہیں شاید ختم ہوجائے تو مجھے غصے سے کہا ۔ نہیں ہوا تو نہیں ہوا ۔خدا کا کام ہے ۔ میں کیا کروں ؟
جنرل مشرف کے بارے میں روشن خیالی کی وجہ سے اچھی رائے رکھتے تھے مگر آمریت انہیں پسند نہیں تھی ۔ میاں نواز شریف کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ زیادہ میل جول نہیں ہوا مگر میاں صاحب میری بہت عزت کرتے ہیں ۔ انہوں نے بتا یا کہ قاضی حسین احمد بھی مجھے ملنے آئے تھے اور ہمارے درمیان بہت سی باتیں بہت کھل کھلا کے ہوئیں جن میں میں نے انہیں کہااس ملک کا نقصان پہنچانے میں ملا کا بھی بہت ہاتھ ہے ۔قاضی صاحب کی وسیع انطرفی کے بھی قائل تھے ۔
کاوس جی کی دبنگ طبیعت اور کھری گفتگو نے انہیں پاکستان کی ہر دل عزیز شخصیت بنا دیا تھا ۔ جو لوگ ان سے اتفاق نہیں بھی کرتے تھے وہ بھی ان کا احترام کرتے تھے ۔ایک بار سپریم کورٹ نے انہیں تو ہین عدالت کا نوٹس دیا تو انہوں نے پھر سپریم کورٹ کے خلاف لکھا ۔ہنستے ہوئے کہنے لگے انہیں ہمت نہیں ہوئی کہ کیس زیادہ آگے تک چلائیں ، میں تو چاہتا تھاکہ وہ مجھے بلاتے رہیں اور میں اپنی بات کہتا رہوں ۔
کراچی کے معاملات ، ماحولیات اورآزادیِ اظہار ان کا خاص شعبہ تھا۔ و ہ ایک مفادِ عامہ کی تنظیم’’ شہری‘‘ کے ذریعے مفادِ عامہ کے مقدمات دائر کرتے رہتے ۔ مسلسل جدو جہد ان کی فطرت میں تھی ۔ انہیں کوئی خوف ان کے مشن سے نہیں ہٹا سکتا تھا ۔ وہ اپنے چند ساتھیوں کے ہمراہ اس قو م کا مقدمہ لڑتے رہتے تھے جن میں امینہ جیلانی سر فہرست تھیں ۔ممبئی حملے پر انہیں بہت افسوس ہوا ان کی ہوٹل تا ج ممبئی کے ساتھ یادیں بھی وابستہ تھیں ۔ کچھ عرصہ بعد جب میں ہندوستان ٹائمز کی دعوت پر انڈیا کے دورے پر روانہ ہونے لگا ،تو انہوں نے آفر کی کہ وہ رتن ٹاٹا (چئیرمین ٹا ٹا گروپ)سے ملاقات کے لئے فون کرسکتے ہیں ۔ شکیل عادل زادہ صاحب کی سفارش سے گلزار صاحب سے بھی ملاقات ممکن تھی مگر میرا شیڈول ایسا بنا کہ ان دونوں شخصیات سے ملاقات نہ ہوسکی ۔
قائداعظم کا پاکستان ۔11اگست کی تقریر اور اس میں اقلیتوں کو برابر کا شہری ماننے کا اعلان ۔ اس کے لیے وہ ساری عمر جدو جہد کرتے رہے قائد اعظم کی تصاویر جس میں وہ اپنے کتوں کے ساتھ دکھائی دیتے ہیں ۔ وہ بطور خاص اپنے آٹو گراف کے ساتھ اپنے ملا قاتیوں کو تحفتاََدیتے ۔مجھے بھی انہوں نے یہ تصویر دی اور اس پر لکھا "Grow to be like him"یہ تصویر دینے سے پہلے مجھ سے پوچھا ، تم یہ تصویر لگا سکوگے ؟ میں نے کہا میں اسے ہمیشہ اپنے دفتر میں لگائے رکھوں گا؟ آج بھی یہ پورٹریٹ میر ے دفتر میں آویزاں ہے ۔
ایک تصویر میری 5سالہ بیٹی ماہین اجمل کے لئے بھی آٹو گراف کے ساتھ بھیجی ۔ شاید وہ بڑی ہوکر اس کی معنویت سمجھ پائے ۔
وہ اس شہری آزادیوں سے محروم ملک میں روشنی کا ایک مینار اور جدو جہد کا استعارہ تھے ۔ہر طرف جھوٹ کی یلغار میں سچ کی علامت تھے ۔ ان کے جانے کے بعد اب کوئی دوسرا کاوس جی نہیں آئے گا لیکن ہم ان کے پرستار شہری آزادیوں کی جدو جہدقائداعظم کے افکارکی روشنی میں جاری رکھیں گے ۔ اِ ن شاء اللہ !

(مضمون نگار پاکستان میں سنڈیکیٹ جنرلزم کے بانی اور ’’روزنامہ پاک بینکرز‘‘ کے مدیر اعلیٰ ہیں)

ارد شیر کاوس جی ۔۔۔۔سچ کی علامت ” پر ایک تبصرہ

  • نومبر 28, 2017 at 4:42 PM
    Permalink

    بہت خوب اجمل صاحب آپ کی پیشے سے وفاداری کے شروع دن سے قائل ہیں, ماشاءاللہ...., تعارفی پیرائے میں "تھا " نے ڈرا دیا شاید موصوف اب ہم میں نہیں رہے... اللہ آپ کو مزید کامیابیوں سے نوازے. آمین

    Reply

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *