آقا کے نام پر سیاست 

haq nawaz

ایک مسلمان اس وقت مسلمان ہوہی نہیں سکتا جب تک وہ حضور پاکؑ پر کامل ایمان کا اقراری نہ ہو۔ہمارا تو ایمان یہ ہے کہ اس دنیا کی وجود ہی ہمارے نبی کی بدولت ہے اور اللہ تعالیٰ نے ان کو وہ مقام عطاکیا ہے جو کسی دوسرے نبی کو نہیں ملا ہے اور یہ سب کچھ ہمیں قرآن اور احادیث سے معلوم ہوئی ہے۔اللہ تعالیٰ رب العلمین ہے تو حضور کو رحمت العلمین بنایاہے یعنی اللہ تعالیٰ پوری دنیا میں جن و انس کا رب ہے تو حضور پر نور کو تمام انسانوں کیلئے رحمت بنا کر بھیجاجن کا ذکر ہمیں قرآن وحدیث میں ملتا ہے ۔ ہمیں ایک دوسرے کے ایمانوں اور مسلمان ہونے پر شق نہیں کرنا چاہیے شاید دوسرا ہم سے لاکھ بہتر ہو۔ یہاں میں صرف ایک واقعہ ذکر کرتا ہوں کہ دنیا کا سب سے بڑا منافق عبداللہ بن عبیاں کی جب موت واقع ہوئی تو حضور پاکؑ نے ان کا جنازہ پڑھنے کا ارداہ کیا تو آپ کے دوست اور جنت کا بشارت پانے والے حضرت عمرؓ آگے ہوئے اور کہا کہ آپ کس کا جنازہ پڑھانے جا رہے ہیں تو نبی ؑ نے کہا کہ مجھے معلوم ہے کہ میں کس کا جنازہ پڑھانے جارہا ہوں ، حضرت عمرؓ نے پھر کہا کہ انہوں نے آپ کو بہت تکلالیف دی اور ہر وقت دھوکہ دیا تو حضور مسکرائیں اور کہا کہ ہاں مجھے معلوم ہے کہ ان کی بہشت نہیں ہوگی لیکن پھر بھی میں نے پڑھنا ہے تیسری دفعہ حضرت عمرؓ نے کہا کہ یہ دنیا کا سب سے بڑا منافق ہے اس آدمی کا جنازہ پڑھ رہے ہیں نہ پڑھیں تودونوں جہاں کے سردار نے فرمایا کہ عمرمیں پڑھتا ہوں شاید اللہ میرے جنازہ پڑھنے سے ان کی بہشش کرے۔جب حضور پرنور نے دنیا کے سب سے بڑے منافق کا جنازہ پڑھا اور اس منافق کو قبر میں اترا تو حضور پاکؑ آگے آئیں اور قبرمیں ان کے منہ میں اپنا لوابہ(تھوکہ) مبارک ڈالا کہ شاید اللہ تعالیٰ اس وجہ سے ان کی بخشش کریں۔یہ ادا دیکھ کراس وقت ایک ہزار سے زیادہ منافقین اور کافروں نے اسلا م قبول کیا کہ اتنا بڑا دل اورمعاف کرنا صرف پیغمبر ہی کا کام ہوسکتا ہے کوئی آور یہ کرہی نہیں سکتا کہ جس آدمی نے ان کو اتنی تکالیف دی ہواور اللہ تعالیٰ نے اس وجہ سے ان کو سب سے بڑا منافق قرار دیا ہوکہ دوزخ کے سب سے نیچے حصے میںیہ منافق ہوگا جنہوں نے ہمارے آقا کو بہت دھوکہ اور فریب دیا لیکن اس کے باوجود اللہ تعالیٰ سے ان کے حق میں دعائیں مانگنا کیا ظاہر کرتا ہے کہ ہمارے نبی واقعی سب انسانوں کیلئے رحمت العامین ہے اور اپنی اس کردار سے ان لوگوں نے بھی اسلام قبول کیا جو پہلے بہت دعوت کے باوجود نہیں کیا۔ اس واقعے نے ثابت کیا کہ آپؑ نے اپنی زندگی سے عملی طور پر یہ درس دیا کہ ہم انسانوں کی بھلا کیلئے اور دوسروں کو بہتر انسان بنانے کیلئے کام کر یں ، دوسروں کیلئے مسائل اور دکھ درد کا سبب نہ بنے جب انسان اچھا بنا جائے تو اللہ تعالیٰ ان کو ایمان کی دولت سے بھی مال مالا کر دے گا ۔
انسانوں سے ہمیشہ غلطیاں ہوتی ہے۔ کہتے کہ اگرغلطی نہ ہوتو وہ فرشتہ ہے اگر غلطی کرکے معافی مانگا لیں تو وہ انسان ہے اور غلطی کرکے ان پر ڈٹ جائے تو وہ شیطان ہے ۔ جس نبی ؑ پر ہماری جان ومال قربان ہے انہوں نے ہمیں یہ سبق بھی دیا کہ مسجد تنگ کرو لیکن راستہ کھول دواور راستے سے پتھر ہٹانابھی صدقہ ہے لیکن اس پر جان ومال قربان کرنے کے باوجود ہم راستے بند کرتے ہیں جس سے لاکھوں لوگوں کو تکلیف پہنچتی ہے لیکن اس طرف متوجہ ہی نہیں ہوتے کہ ہم آخرلاکھوں انسانوں اور مسلمانوں کوکیوں تکلیف دے رہے ہیں۔حکومت نے ختم النبوت قانون میں ترمیم کرکے غلط کیا لیکن جب ان کو معلوم ہوا تو ردعمل پر اس تر میم کو واپس لیا گیا جس سے میرے خیال میں بات ختم ہوگیا ۔
اب اسلام آباد میں احتجاج کرنے والے تحریک لبیک کا ایک گروپ پہلے آیا تھا جن کو حکومت نے مذاکرات کے ذریعے تین دن بعد واپس کیا اس کے بعد دوسرے گروپ نے احتجاج شروع کیا حالانکہ وزیراعلی شہباز شریف اور سابق وزیراعظم میاں نواز شریف کی رہائشی گاہیں لاہور میں ہے وہا ں ہی ان کے گھروں پر دھرنا دیا جاتا لیکن اسلام آباد میں جوڑا شہروں کا راستہ بند کرکے لاکھوں لوگوں کو تکلیف دے کر نجانے کونسے دین اور پیغمبر کی تعلیمات پر عمل ہورہاہے۔موجود نون لیگ حکومت سے کوئی توقع نہیں کہ وہ کسی مسئلے کو مذاکرات اور بات چیت سے حل کریں بعض ناقدین تو یہ بھی کہتے ہیں کہ ان سب کے پیچھے خود وز یراعلیٰ شہباز شریف یا ان کے کارندے ہیں تاکہ ملک کے حالات خراب ہوجائے اور کسی طریقے سپریم کورٹ فوج کو حکم کریں کہ حالات کو سنبھالا جائے اور یہ لو گ سیاسی شہید بن جائے لیکن افسوس کی بات یہ ہے کہ ہمارے نادان دوست جن کی محبت پر کوئی سوال نہیں وہ اس سیاست میں استعمال ہورہے ہیں اور اپنے ہی ملک کے املاک جلا کر،راستے بند کرکے لاکھوں مسلمانوں کو تکلیف کا سبب بن رہے ہیں۔ عام مسلمان تو حکومت سے نالاں ہے وہ حکومت کے خلاف احتجاج کر رہاہے لیکن ان کو معلوم نہیں کی ان اس نادانی کا ملک وقوم کو کتنا نقصان پہنچ رہا ہے اس لئے ایسے حالات میں ہمارے آقانے خاموش رہنے کا حکم دیا ہے کہ نقصان کا اندیشہ ہوتو حکمت سے کام لیا جائے اور خاموشی اختیار کی جائے لیکن افسوس صد افسوس کہ ہمارے حکمرانوں سمیت مذاہب کانام لینے والے یہ لوگ بھی اپنی سیاست چمکانے کیلئے عام لوگوں کاستعمال کرکے سیاست کررہے ہیں۔حکومت نے غلطی کی اور اپنی غلطی واپس لی تو بات ختم ہوگئی بعض لوگوں کو سیاست کاموقع اس میں ملا نہیں شاید وہ اب پورا کرنا چاہتے ہو۔
مذہبی گروپوں کی زیادہ ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ ایسے حالات ملک میں پیدا نہ کریں جس سے عام لوگوں کا نقصان ہو ،پھر بھی اگر یہ لوگ اتناہی فکرمند یا سیاست کے شوقین ہے تو جس طرح عمران خان نے چار مہینے کا دھرنا سابق پریڈ گرونڈ میں دیا یا جلسے موجودہ پریڈ گرونڈ میں کیے اسی طرح ایک سائٹ پر یہ لوگ بھی اپناحتجاج اور دھرنا دیں تو کسی کو اعتراض نہیں ہوگا ، معاملہ اگر وزیرکی برطرفی سے حل ہوسکتا تھاتو نااہل حکومت کو کرنا چاہیے تھا لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہ قصور صرف ایک وزیر کا نہیں، حقائق کو ضرور عوام کے سامنے لانا چاہیے تاکہ معاملے کا معلوم ہوسکیں، پھر بھی جس نبی کا نام ہم لیتے ہیں انہوں نے ہمیں ایک دوسرے کو معاف کرنا بھی سکھایا،ہمیں ایک دوسرے کو معاف کرنے اور صبرکی تلقین پر بھی عمل کرنا چاہیے جس سے ہمارے اکثر معاملات اور مسائل خود ختم ہوجائیں گے اور زندگی میں آسانی پیدا ہوجائے گی۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *