جالب بنام بلاول بھٹو

sohail warraich

گھاٹی شاعراں ، ساتواں آسمان
گلی حبیب جالب ، 26نومبر 2017ء
پیارے بلاول!
السلام علیکم! آپ مجھے شاید جانتے بھی نہ ہوں کیونکہ میں آپ کے سیاست میں آنے سے پہلے ہی مکافات نگر چلا آیا تھا۔ میں وہاں اوریہاں دونوں جگہ ہمیشہ ظالموں کے خلاف آواز بلند کرتارہا ہوں۔ جبر کے خلاف جدوجہد اور شاعری کی وجہ سے مجھے شاعر مزاحمت کہا جاتا ہے۔کبھی مجھے شاعر عوام کے نام سے بھی متعارف کروایاجاتا تھا۔ میں نے ذوالفقارعلی بھٹو سے محبت بھی کی اور جب وہ جاگیرداروں اورسرمایہ داروں کی گود میں جا بیٹھے تو پھر کھل کر ان کی مخالفت بھی کی۔ بینظیربھٹو اپریل1986میں پاکستان واپس آئیں توکھل کر ان کی حمایت کی مگر جب وہ حکومت میں آئیںتوغریبوں اور مظلوموںکی حمایت میں ان کےخلاف کھل کر شاعری بھی کی۔
بلاول!!آج میں عالم بالا میں آپ کے نانا ذوالفقار علی بھٹو کے پاس آ پ کی شکایت لے کر گیا تھا کہ پیپلزپارٹی تو مزاحمت کی علامت تھی لیکن بلاول مزاحمت کا سبق بھول کر ان سے دوستی کر رہا ہے جن کے خلاف مزاحمت ضروری ہے۔ بلاول نے مصلحت کی پالیسی اپنالی ہے۔ قائد عوام نے غور سے میری بات سنی اور آپ کی ماما بینظیر بھٹو کو بلا کر میرے سامنے ہی میرا موقف بتایا۔ بینظیر بھٹو میری طرف دیکھ کر مسکرائیں اور پھر قائد عوام سے کہا کہ جالب بہت حساس ہیں۔ یہ آپ اور مجھ پر بھی تنقید کرتے رہے ہیں۔ ابھی تو بلاول نے سیاست شروع کی ہے۔ مفاہمت، مزاحمت یا مصلحت کے فیصلے کا وقت تب آئے گا جب پیپلزپارٹی کوفیصلہ کن مرحلہ درپیش ہوگا۔ ابھی تو کنفیوژن کا دور ہے۔ اس میں مصلحت ہی بہترین راستہ ہے۔میں نے بینظیر کی بات سن کر کہا کہ غریبوں، کسانوںاور مظلوموں کی جماعت پیپلزپارٹی ختم ہو کر رہ گئی ہے۔ تحریک ِ انصاف اور مسلم لیگ ن نے پیپلزپارٹی کا ووٹ بنک ختم کر دیا ہے۔ دو تازہ ترین سروے یہی ظاہر کر رہے ہیں کہ پنجاب میں 2018کے الیکشن میں بھی پیپلزپارٹی کا ووٹ بنک بڑھنے کا امکان نہیں ہے۔ نواز شریف اور عمران خان دونوں مڈل کلاس اور اپرکلاس کے نمائندے ہیں۔ دونوں اپنی اپنی جگہ مزاحمت کی سیاست کررہے ہیں۔ عمران خان، ن لیگی حکومت کے خلاف اور ن لیگ اسٹیبلشمنٹ اور عدلیہ کے خلاف، ایسے میں غریبوں کی نمائندہ پیپلزپارٹی مصلحت کا شکار ہے جس سے جوش اور جذبہ ختم ہو گیا ہے۔
ذوالفقار علی بھٹو جس طرح بطور وزیراعظم میری تلخ و شیریں گفتگو اورکاٹ دار شعروں کو برداشت کرتے تھے اب بھی اسی طرح زیرلب مسکراتے رہے۔ بینظیر بھٹو مجھ سے متفق نہ ہوئیں۔ قائد عوام نے مجھے کہا اگر تم زندہ ہوتے تو بلاول کوکیسے سمجھاتے؟ میں نے مسکراتے ہوئے کہا کہ جب بینظیر کاجھکائو امریکہ کی طرف ہوا تھا تو میں نے کہا تھا؎
نہ جا امریکہ نال کڑے
بینظیر مسکرائیں اور کہا مجھے آپ کا پیغام پہنچ گیا تھا۔ میں نے قائد عوام سے کہا کہ بلاول کے لئے میں نے انہی اشعار میں کچھ تصرف کیا ہے ، اجازت ہو تو سنائوں۔ انہوں نے کہا ضرور ارشاد۔ میں نے جھک کر ترنم سے پڑھا؎
نہ جا ’’فرشتیاں‘‘ نال منڈے
ایہہ گل نہ دیویں ٹال منڈے
ایہناں قتل آزادیاں دا کیتا
ایہناں ایس دھرتی دا لہو پیتا
ایہناں کٹوایا بنگال منڈے
نہ جا ’’فرشتیاں‘‘ نال منڈے
بھٹوصاحب اور بینظیر دونوںنے مسکراتےہوئے تالیاں بجائیں۔ بینظیر نے کہا پاپا کو وہ نہتی لڑکی والا شعر بھی سنائیں۔ میں نے انتہائی پرسوز آواز میں اپنا صرف یہ مصرع پڑھا؎
ڈرتے ہیں بندوقوں والے ایک نہتی لڑکی سے
قائد عوام اور بینظیر دونوں بہت خوش ہوئے۔ میں نے کہا کہ بلاول کے لئے میں نے اپنے انہی اشعار میں ترمیم کی ہے اور پھر ترنم سے درج ذیل اشعارپڑھے؎
بہلاتے ہیں بندوقوں والے ایک کرشماتی لڑکے کو
ورنہ اڑاتے، چمکتے اجالے ایک کرشماتی لڑکے کو
بھٹوصاحب نے قہقہہ لگایا اور کہا جالب تم نہیں بدلے۔ تمہاری تیز نگاہی اور ذہنی ندرت اب بھی ویسی ہی ہے۔ میں نے اسی سوز و ترنم سے اگلا شعر پڑھا؎
ڈرے ہوئے تھے، مرے ہوئے تھے لرزیدہ لرزیدہ تھے
ملّا، تاجر، جنرل گھیر چکے ایک کرشماتی لڑکے کو
بینظیر بولیں۔ جالب صاحب! آصف شاعری کو میرے سے زیادہ سمجھتا ہے۔ مجھے جیل سے جو خط لکھتا تھا اس میں بڑی شاعری ہوتی تھی، جو میں اپنی ایک سہیلی کی مدد سے سمجھتی تھی۔ آج کل بھی وہ احمد فرازؔ کی انقلابی شاعری سن کر سوتا ہے۔ آصف اور بلاول کے ذہن میں کیا چل رہا ہے کسی کو علم نہیں مگر بلاول میرا خون ہے۔ مجھے علم ہے کہ وہ بہادر ہے اور باغیرت ہے۔ جب موقع آئے گا تو وہ ہر مصلحت سے کنارہ کش ہو جائے گا۔
پیارے بلاول! میں نے آپ کی ماما ’’بینظیر‘‘ سے پوچھا بلاو ل کو آپ کوئی ایڈوائس کیوں نہیں بھجواتیں؟ تو بینظیر نے جواب دیا کہ بلاول کو جتنی تربیت دینی تھی میں دے چکی۔اب فیصلہ اسی نے کرنا ہے۔ مجھے مایوسی ہوئی تو میں نے زور سے پڑھا؎
ایسے دستور کو، صبح بے نور کو
میں نہیں مانتا، میں نہیں مانتا
میں نے یہ شعر پڑھا ہی تھا کہ قائد عوام نے بینظیر کے کان میں کچھ کہا اور وہ مجھے کہنے لگیں۔ آپ بلاول کو کھلا خط لکھیں۔ ہماری جو گفتگو ہوئی ہے وہ بھی لکھیں اور ساتھ ہی ہم تینوں کی طرف سے یہ بھی لکھ دیں کہ میثاق جمہوریت پر بہرصورت عمل ہونا چاہئے ۔ نواز شریف ہو یا عمران خان سب کو ہی یہ سوٹ کرتا ہے اور سب کو اس پر عمل کرنا چاہئے۔ بینظیر نے کہا قائد عوام کے زمانے میں 1973کے متفقہ آئین کا معجزہ ہوا تھا اور ہم نے بھی اپنے تمام تجربات کی روشنی میں میثاق جمہوریت بنایا تھا۔ ابھی کل آصف نے اس معاہدے پرکچھ اعتراض کئے ہیں۔ میری اورقائد عوام کی رائے ہے کہ قوم کو آگے جانے کے لئے اسی میثاق جمہوریت کی ضرور ت ہے۔ بینظیر نے کہا کہ بلاول کو پیغام دیں کہ میثاق جمہوریت پر ڈٹ جائے۔ عمران خان بھی اس کی حمایت کرے گا اور نواز شریف کی بھی یہی مجبوری ہوگی۔ یہ ساری گفتگو آپ تک امانتاً پہنچا رہا ہوں۔
والسلام
حبیب جالب، شاعر زمانہ

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *