ن لیگ میں دراڑ کا نہ ختم ہونے والا انتظار

اشعر رحمان

ashar-rehman

عمران خان ان ماہرین کی فہرست میں شامل ہو گئے ہیں جو پچھلے کافی عرصہ سے ن لیگ میں دراڑ کی باتیں کر رہے ہیں۔ چونکہ ایسا واقعہ اگر پیش آتا تو زیادہ فائدہ عمران خان کو ہو گا اس لیے انہوں نے اپنے دعوے کے ساتھ یہ بھی کہا ہے کہ بہت سے ن لیگی ممبران پارٹی چھوڑ کر ان کی پارٹی میں آنے کے لیے ان سے رابطے میں ہیں۔ پچھلے  کافی عرصہ سے ن لیگ ٹوٹنے کی افواہیں گردش کر رہی ہیں۔ وزیر اعظم کی نا اہلیت کے بعد ایسا لگتا تھا کہ اگر کچھ گھنٹوں میں نہیں تو کچھ دنوں میں ہی پارٹی ٹوٹنا شروع ہو جائے گی۔ پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار ایسا ہوا ہے کہ مشکل کا شکار پارٹی اتنی دیر تک  اپنی جگہ پر قائم ہے اور اس کے ممبران کی تعداد میں کوئی کمی نہیں آئی ہے۔  پارٹی ٹوٹنے کی خبریں دینے والے  اب بھی کچھ  ادھر ادھر کی باتیں کر کے اپنی امید قائم رکھے ہوئے ہیں۔ مسٹر مانیکا کا پارٹیوں میں فاروڈ بلاک  کے حوالے سے اکثر ذکر سننے کو ملتا ہے۔ 2008 میں انہوں نے ق لیگ میں فارورڈ بلاک بنا کر شہباز شریف کو پنجاب میں حکومت بنانے کا موقع فراہم کیا۔ ان کے فارورڈ بلاک نے بہت اہم کام کیا کیونکہ اس بلاک کے بغیر شہباز شریف حکومت نہیں بنا سکتے تھے کیونکہ پیپلز پاورٹی اور ق لیگ مل کر پنجاب حکومت بنا سکتی تھیں۔ عطا مانیکا نے پارٹی توڑنے میں جو کردار ادا کیا اسے خاطر خواہ اہمیت نہ مل سکی۔

مسٹر عطا مانیکا  اور ان کے زیادہ تر ساتھیوں کو 2013 تک ن لیگ کا حصہ بنا لیا گیا تھا۔مانیکا نے سیٹ جیتی اور انہیں وزارت بھی مل گئی  اور ساتھی ہی شہباز شریف کی حکومت ایک بار پھر قائم ہو گئی۔  لیکن تازہ ترین حالات میں مانیکا کو کچھ دیر انتظار کرنا پڑا ۔ اور وہ دوبارہ پارٹی کے ساتھ ق لیگ جیسا سلوک نہیں کر پائے۔

اگر پرانی لاجک کے مطابق دیکھا جا ئے تو یہ کہا جا سکتا ہے کہ مانیکا نے پارٹی ٹوٹنے کے لیے ایک بند کا کام کیا جس کے ٹوٹتے ہی باقی ممبران کےلیے دروازے کھل گئے۔ن لیگ میں اس طرح کا کوئی دروازہ ابھی تک نہیں کھلا جس کا پارٹی کو بہت  فائدہ ہوا ہے۔

اس سب پر حاوی گرینڈ تھیوری ہے جس کے تحت پاکستان میں جمہوریت کے بلوغ کی خوشیاں منائی جا رہی ہیں۔ ن لیگ کا سیاستدان آپ کو یقین دلا سکتا ہے کہ جمہوریت کی مضبوطی کی وجہ سے اب خفیہ ہاتھ آزادی سے حرکت نہیں کر سکتے۔ اس نئے حصول منزل  کی خاطر مسلم لیگ ن باقی تمام پارٹیاں جو غیر جمہوری قوتوں کا آلہ کار بنتی ہیں کے خلاف سینا تان کر کھڑی ہے۔اس کے علاوہ بھی کچھ وجوہات ہیں  جس ن لیگ کی اندرونی مضبوطی کا ذریعہ ہیں۔ ایک سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ  نواز شریف کے متبادل شہبز شریف کی صورت میں موجود ہیں۔ بہت سے ذرائع کے مطابق شہباز شریف اس پارٹی کی قیادت سنبھالنے کے لیے سب سے مضبوط امیدوار ہیں جو پارٹی کے قیام اور مضبوطی کو برقرار رکھنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

انہیں ابھی تک کوئی پارٹی چیلنج نہیں کر پائی ہے۔ عدالت کا معاملہ الگ ہے لیکن فی الحال بہت سے سیاستدان نواز شریف کے ساتھ کھڑا رہنے کو ہی ترجیح دیں گے۔ ان کو امید ہو گی کہ شہباز شریف کو پارٹی کا لیڈر بنانے پر میاں نواز شریف رضا مندی ظاہر کر دیں۔اگر پارٹی کی قیادت شہباز شریف کی بجائے مریم نواز کو تھمائی جاتی ہے تو پارٹی کی از سر نو تعمیر  کی ضرورت ہو گی جس میں بہت وقت لگ سکتا ہے۔ انہیں اپنے لحاظ سے پارٹی کو نئے طریقے سے منظم کرنا پڑے گا۔

ایک چیز جو ن لیگ کو جوڑے ہوئے ہے وہ اگلے الیکشن کے انعقاد کی غیر یقینی ہے۔جب ممبران کو معلوم ہو گا کہ الیکشن بہت قریب آ چکے ہیں تو وہ محرک ہو جائیں گے  اور کچھ گھنٹوں میں پارٹی بدلنے کی خبریں آنے لگیں گی۔ ایسے وقت میں جب ن لیگ کی قیادت عدالتوں میں کیسز لڑنے پر مجبور ہے، اس سے معلوم ہو جائے گا کہ پارٹی اگلے الیکشن کے انعقاد کا واضح اعلان کیون نہیں کرنا چاہتی۔

جب دوسرے لوگ جلد انتخابات نہیں چاہتے تو ن لیگ کیوں کر ایسا چاہے گی؟  وہ بھی ایسے وقت پر جب پارٹی کا لیڈر عدالتی کیسز کا سامنا کر رہا ہو۔ ن لیگ اپنے اقتدار کوطول دینا چاہتی ہے اس کی ایک واضح لاجک ہے ، اس ایک چھوٹا سا امپریشن بھی  اہمیت کا حامل ہے۔ یہ پارٹی کسی طرح بھی اپنی مرضی سے اقتدار سے علیحدہ ہونا نہیں چاہے گی ، خاص طور پر اس کڑے وقت میں اسے کسی بھی قسم کی طاقت اور اقتدار کی ضرورت سب سے زیادہ ہے۔ عمران خان پارٹی میں دراڑ کی خبریں پھیلاتے رہیں گے  لیکن ن لیگ کے اندر ابھی بہت سی آپشنز موجود ہیں۔

 Courtesy:https://www.dawn.com/news/1371068/the-long-wait-for-breakup

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *