صدر سے رحم کی اپیل

آئی اے رحمان

ia rehman

محترم صدر پاکستان ممنون حسین صاحب،

میں آپ سے چھ اشخاص کی حفاظت کے معاملے میں مدد کی اپیل کرنے کی جسارت کرنے کا خواہش مند ہوں۔ ان میں سے ایک خاتون صحافی ہے جو انسانی حقوق کا پرچار کرنے والوں میں سے ہے ، ایک نوجوان ٹیچر ہے،  اور چار نوجوان طلبا ہیں جو  بلوچستان سے تعلق رکھتے ہیں۔ زینت شہزادی جو ایک نوجوان اور غریب طبقہ سے تعلق رکھنے والی صحافی تھیں وہ اپنے ساتھی انسانوں کی مد دکرنے کے خواب دیکھتی تھیں۔ انہیں جولائی 2015 کو ان کے گھر کے سامنے سے اغوا کیا گیا  اور ان کا نام لاپتہ افراد کی لسٹ میں شامل کر لیا گیا۔ میں آپ کو اس نوجوان صحافی خاتون کے بارے میں کچھ تفصیلات بتانا چاہتا ہوں۔

جب زینت کو معلوم ہوا کہ ایک بھارتی شہری حامد انصاری  ایک پاکستانی لڑکی کی مدد کرتے ہوئے مشکل میں گھر گئے ہیں تو انہوں نے ایک ہیومن رائٹ  ڈیفنڈر کی حیثیت سے اس بھارتی شہری کی مدد کرنے کی ٹھانی۔ انہوں نے حامد انصاری کی ماں کو قائل کیا کہ وہ انہیں حامد کا کیس پشاور ہائی کورٹ میں داخل کرنے کی اتھارٹی دیں۔ انہوں نے انڈین ہائی کمیشنر سے بھی ملاقات کی  جس کا مقصد اپنے کیس کے حوالے سے ان کی مدد لینا تھا۔ اس سب میں کسی قسم کی قانونی خلاف  ورزی نہیں تھی ا س لیے ان کے خلاف کوئی قانونی کاروائی نہیں کی گئی۔ ان کی گمشدگی کا کیس کمیشن آف انکوائیری آف انفورسڈ ڈس اپیرنسز کے ادارے  میں داخل کیا گیا جس کے سربراہ  ریٹائرڈ جسٹس جاوید اقبال تھے۔

کمیشن نے اس معاملے میں لاہور میں بہت سی  میٹنگز کا انعقاد کیا  اور پولیس اور جے آئی ٹی کی رپورٹس حاصل کیں۔ خفیہ ایجنسیوں کے نمائندوں سے بھی معلومات لی گئیں لیکن کوئی ادارہ زینت کو بازیاب نہ کروا سکا۔ ان کے خاندان کی زندگی اجیرن ہو گئی۔ نا امیدی کی حالت میں ان کے بھائی نے خود کشی کر لی۔ کچھ ہفتے قبل جسٹس جاوید اقبال نے خود ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان کو فون کر کے بتایا کہ  زینت اپنے گھر پہنچ چکی ہیں۔ یہ خبر سن کر دنیا بھر کے ہیومن رائٹ ایکٹوسٹ حضرات بہت خوش  ہوئے اور کسی نے شہزادی کی کہانی سننے  میں کوئی دلچسپی نہ دکھائی۔ نگہت شہزادی کی واپسی کی تصدیق ان کی ماں نے بھی کی  لیکن شہزادی سے رابطہ ممکن نہیں بنایا گیا۔ کچھ دیر بعد نگہت کی ماں نے بتایا کہ وہ اسلام آباد ہسپتال میں موجود ہیں۔ وہ آخری بار تھی جب ان کی ماں نے کال موصول کی۔

اس کے بعد سے زینت شہزادی کا پھر سے کوئی اتا پتہ نہیں  اور ملک اور دنیا بھر کے ہیومن رائٹ کمیونٹی پریشان ہے۔ آپ لازمی ان لوگوں کا پتہ لگا سکتے ہیں جو زینت کو اغوا کیے بیٹھے ہیں۔ ان کےلیے ناممکن نہیں ہو گا کہ وہ کسی جگہ پر آ کر اپنا بیان ریکارڈ کروائیں سپریم کورٹ نے نگہت کی بازیابی کے بعد ان کے بیان کا ریکارڈ  عدالت میں پیش کرنے کا حکم دیا تھا۔میری لسٹ میں دوسرے شخص حامد انصاری ہیں جو بھارتی مینیجمنٹ انسٹیٹیوٹ میں پروفیسر تھے اور فیس بک پر ان کی پاکستانی لڑکی جس کا تعلق کوہاٹ شہر سے ہے سے دوستی ہو گئی۔ جب لڑکی کو معلوم ہوا کہ اسے اس کا حق نہیں ملے گا تو اس نے بھارتی شہری کو مدد کےلیے بلایا۔ حامد کو پاکستان کا ویزا نہ مل سکا لیکن وہ افغانستان پہنچے جہاں سے وہ پاکستان میں ویزا کے بغیر داخل ہو سکتے تھے۔ انہیں کوہاٹ کے ایک ہوٹل سے گرفتار کر لیا گیا ۔ یہ نومبر 2012 کا واقعہ ہے۔ پچھلے پانچ سال سے حامد انصاری پاکستانی اتھارٹیز کے قبضہ میں ہیں۔ ایک ملٹری کورٹ نے انہیں غیر قانونی طریقے سے پاکستان میں داخل ہونے پر تین سال قید کی سزا سنائی تھی۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ حامد نے ایک قانون توڑا ہے  لیکن ان کا مقصد کوئی جرم کرنا نہیں بلکہ اپنے پیار، اور ایک لڑکی کی مدد کے لیے انہوں نے ایسا کیا ۔ اس کے لیے وہ ایک عرصہ تک تکلیف دہ سزا بھی بھگت چکے ہیں۔ مجھے ایک خط کے ذریعے حامد کی ماں نے درخواست کی ہے کہ میں اس کی رہائی کےلیے متعلقہ محکمہ سے مدد کی اپیل کروں۔ اسی لیے میں آپ کے سامنے یہ درخواست پیش کر رہا ہوں۔ حامد کی ماں کی درخواست ہے کہ پچھلے پانچ سال کو اس کی سزا کی مد میں گنا جائے اور اسے انسانی ہمدردی کے جذبہ کے تحت فوری رہا کیا جائے۔ اسے اپنے خاندان سے فون پر بات کرنے کی اجازت بھی مرحمت فرمائی جائے۔

محترم صدر پاکستان، آپ کی حکومت نے بہت سے بڑے بڑے غیر ملکی مجرموں سے بھی ہمدردی کا معاملہ کیا ہے۔ آپ کی   طرف سے انسانی ہمدردی کے جذبہ کے تحت حامد کو معاف کرنے سے دنیا میں ہمارا امیج بہتر ہو گا  اور بھارت میں موجود پاکستانی قیدیوں کےلیے زندگی  آسان ہو سکتی ہے۔ سب سے آخر میں میں چار بلوچ سٹوڈنٹ ایکٹوسٹس کی رہائی کی بھی اپیل کرنا چاہتا ہوں۔ ان کے نام ثناء اللہ، حسان، نصیر اور رفیق ہیں۔ مجھے آفیشل جواب کا بھی اندازہ ہے کہ مجھے بتایا جائے گا کہ یہ تو آئے روز ہوتا ہے۔ لیکن میں کہنا چاہتا ہوں کہ جو روز ہوتا ہے وہ کسی دن تو بند کرنا ہو گا۔ اگر ان طلبا نے قانون توڑا ہے تو انہیں کھلی عدالت میں ٹرائل میں پیش کیا جائے۔ انہیں اپنے خاندان سے ملنے ، وکیل کی مدد لینے اور دوسرے پراسس کا حق دیا جائے۔ طلبا اور نوجوانوں سے ایسا سلوک کرنے سے بلوچستان کے عوام میں پاکستان کے لیے مزید نفرت پیدا ہو گی۔ بلوچوں کا دل تبھی جیتا جا سکتا ہے جب ان کے حقوق کا تحفظ یقینی بنایا جائے۔ سب سے اہم بات یہ کہ قانون کو اپنا راستہ لینے دیا جانا چاہیے لیکن میں نے آپ کو درخواست اس لیے کی ہے کہ ان معاملات میں قانون کو صحیح طریقے سے  کام کرنے نہیں دیا جا رہا ۔ میں اس بات پر بہت شرمندہ ہوں کہ میں پراپر چینل کے زریعے آپ کے پاس درخواست لے کر حاضر نہیں ہو سکا لیکن اس قدم کی کچھ وجوہات ہیں  جن کی بنا پر میں یقین رکھتا ہوں کہ صدر پاکستان میری اس کوتاہی کو نظر انداز کرتے ہوئے  رحم کی یہ اپیل منظور کر لیں گے۔

آپ کا مخلص

آئی اے رحمان ، ہیومن رائٹ ایکٹوسٹ،

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *