نا اہلی کے قوانین

Dr. Ikram ul haq

"ہمارے ملک کی ساری عدالتیں انصاف کی عدالتیں ہیں لیکن سپریم کورٹ  انصاف کا سب سے بڑا علم بردار ادارہ ہے۔ کوئی بھی بلیک لیٹر اس ادارے اور انصاف کے بیچ حائل نہیں ہونا چاہیے۔ " جسٹس آصف سعید کھوسہ ،( پانامہ پیپر کیس عمران خان بمقابلہ میاں نواز شریف )

محمد حنیف کی طرف سے فائل کی گئی پٹیشن میں جو عمران خان کے خلاف داخل  کی گئی  ہے، ایک اہم ایشو اٹھایا گیا ہے ۔ اس میں عمران خان کے اثاثوں کی تفصیلات میں لندن فلیٹ کی تفصیلات شامل نہ کرنے پر انہیں نا اہل قرار دینے کی استدعا کی گئی ہے۔ یہ فلیٹ نیازی سروسز لمیٹڈ کے نام سے قائم شدہ آف شور کمپنی کے تحت 3 مئی 1984 کو خریدا گیا تھا۔  ایک ذرائع کے مطابق یہ کمپنی 1 اکتوبر 2015 تک ایکٹو رہی۔

قانون میں یہ ایک طے شدہ حقیقت ہے کہ کمپنیز اور شئیر مالکان  distinct entitiesکہلاتے ہیں۔ کمپنی کا مکمل مالک ہونے کے باوجود بھی ایک شخص پر لازم نہیں کہ وہ  اسے اپنا اثاثہ قرار دے۔ لیکن کسی کمپنی میں شئیر رکھنے والا شخص  اس بات کا پابند ہے کہ وہ اپنی جائیداد اور اثاثوں کی تفصیل میں شئیر کی تفصیلات شامل کرے۔ 2013 تک ویلتھ ٹیکس ایکٹ 1963 کے مطابق ہر آف شور کمپنی کا بینفشری بھی اس بات کا پابند تھا کہ وہ ویلتھ ٹیکس ادا کرے۔

یہ الزام لگایا جاتا ہے کہ 2013 میں اپنے اثاثوں کی تفصیلات جمع کرواتے وقت عمران خان نے آف شور کمپنی میں حصے کا ذکر نہیں کیا۔عمران خان نے آن دی ریکارڈ اعتراف کیا ہے کہ انہوں نے برطانیہ میں فلیٹ پر ٹیکس کی رقم بچانے کےلیے آف شور کمپنی بنائی ۔ یہ جائیداد انہوں نے 1984 میں خریدی اور 17 مارچ 2003 کو بیچ دی تھی۔  سوال یہ ہے کہ کیا عمران خان نے کوئی ایسی قانون کی خلاف ورزی کی ہے جس کی بنیاد پر انہیں آرٹیکل 62-1-ایف کے تحت نا اہل قرار دیا جائے؟ جسٹس اعجاز افضل نے اپنے فیصلے میں تفصیل سے لکھا ہے کہ  کسی مستندثبوت کے بغیر سپریم کورٹ آئین کے آرٹیکل 184 – 3 کی طرف سے دی گئی صوابدید کے مطابق  آرٹیکل 62-1-ایف کا استعمال نہیں کر سکتی۔

سپریم کورٹ نے ہمیشہ ایمانداری کے معاملے میں ثبوت حاصل کرنے میں بد دلی کا مظاہرہ کیا ہے  اور کسی شخص کو آرٹیکل 184 – 3 کے تحت نا اہل اس وقت تک قرار نہیں دیا جب تک واضح ثبوت موجود نہ ہوں۔ یہ البتہ ہر بار واضح ہوتا تھا کہ نا اہلی کے فیصلے کے خلاف اپیل نہیں کی جا سکتی۔ یہی صورتحال وزیر اعظم نواز شریف کے کیس میں بھی تھی۔ اگر کوئی شخص کسی وجہ سے امیدوار کے لیے کاغذ جمع کرواتے وقت نا اہلی  سے بچ بھی جاتا ہے تو بھی ہائی کورٹ اور اپیکس کورٹ کے پاس اختیار ہے کہ  حقائق تک پہنچ کر واضح ثبوت حاصل کرنے کے بعد امیدوار کی قسمت کا فیصلہ کریں۔ کرنل فرزند علی بمقابلہ ویسٹ پاکستان پی ایل ڈی 1970 ایس سی 98 میں سپریم کورٹ نے کہا تھا کہ ادارے میں خدمات جاری رکھنے کے حوالے سے یہ ایک مداخلت قرار پائے گی  اس لیے اسے کھلے تناظر میں دیکھا جائے گا۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ عمران خان اور نواز شریف کے پانامہ معاملے میں پٹیشنز کے معاملے میں اصل حقیقت یہ ہے کہ یہاں ایک ناقابل تردید ثبوت کی ضرورت تھی جو کہیں موجود نہیں تھا۔

رائے حسن نواز بمقابلہ حاجی محمد ایوب کیس پی ایل ڈی 2017 ایس سی 70 میں پاکستان کی سپریم کورٹ نے کہا: اگر کسی الیکشن امیدوار کے اثاثوں کی تفصیلات، اس کی آمدنی، کمائی اور دولت کے تمام دستاویزات مشکوک ہوں تو الیکشن ٹریبیونل کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ اس معاملے کی پوری تحقیقات کرے  اور معلوم کرے کہ روپا کی آرٹیکل 12-2 کے مطابق امیدوار قانون کے مطابق کس حد تک اپنی جائیداد اور اثاثے ڈیکلئر کرنے میں امانت دار رہا ہے۔

روپا ایکٹ 1973 کی سیکشن 76 اے کے تحت الیکشن ٹریبیونل  پانامہ پیپرز کے معاملے میں سو موٹو ایکشن لے سکتا ہے۔ اگر یہ عمل شروع کر لیا جاتا تو سپریم کورٹ کو جے آئی ٹی بنانے کی ضرورت ہی نہ پڑتی۔ الیکشن ٹریبیونل ، نیب، ایف آئی اے، ایف بی آر، اورالیکشن کمیشن آف پاکستان معاملے کی تحقیقات میں عدم دلچسپی کی وجہ سے سپریم کورٹ کو آرٹیکل 184-3 کے تحت کاروائی میں مدخل ہونا پڑا۔

چونکہ معاملہ عدالت میں ہے اس لیے بہتر ہے کہ اس کیس کی  تفصیلات میں نہ جایا جائے۔ اس کے باوجود یہ بتانا لازمی ہے کہ کسی بھی امیدوار کی درستگی کے لیے اثاثوں اور قرضوں کی سٹیٹمنٹ  دوسری مالی ادائیگیوں کی تفصیلات کے ہمراہ ROPA کے سیکشن 12(2)اور انکم ٹیکس آرڈی ننس 2001 کی شق 115 کے مطابق لازمی دستاویزات سمجھی جاتی ہیں۔ ان تمام تفصیلات کو ظاہر کرنا جس کا حکم سپریم کورٹ نے دیا ہے ، ایک انسان کی اہلی اور نا اہلی  کو ثابت کرنے کے لیے بے حد ضروری ہے۔

محمد صدیق بلوچ بمقابلہ جہانگیر خان ترین کیس پی ایل ڈی 2016 میں سپریم کورٹ کا کہنا تھا کہ ایک بے ایمان اور جھوٹا شخص  قانون سازی کے عمل میں شرکت کا اہل نہیں ہو سکتا اور نہ ہی وہ کسی سرکاری  عہدے کے قابل سمجھا جا سکتا ہے۔ساتھ ہی عدالت نے یہ بھی کہا کہ واضح ثبوت کے بغیر نا اہلی کا فیصلہ نہیں دیا جا سکتا۔  محمد سعید بمقابلہ الیکشن پٹیشن ٹریبیونل پی ایل ڈی 1957 میں کورٹ نے کہا تھا کہ کسی بھی غیر اخلاقی حرکت اور غلط رویے  کا واضح اور ناقابل تردید ثبوت پیش کرنا لازمی ہے۔ بہت سے کیسز میں اس بیان کو ایک اصول کے طور پر سامنے رکھا گیا ہے  اور مستقبل میں بھی اس سے مدد لی جاتی رہے گی۔

Courtesy:https://dailytimes.com.pk/11295/laws-of-disqualification/amp/

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *