آرمی چیف کا کیا کام؟

سپیشل رپورٹ 

judge

اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے دھرنے میں فوج اور آرمی چیف کے کردار پر سوال اٹھائے ہیں، مولویوں کے ساتھ معاہدے پر عدالت نے شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے حکومت سے پوچھا ہے کہ فوج کا میجر جنرل کس قانون کے تحت ثالثی کر سکتا ہے؟ جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے کہا کہ آئین پاکستان کے تحت کسی آرمی افسر کا ثالثی بننا کیسا ہے، جسٹس شوکت عزیز صدیقی کا کہنا تھا کہ کیا قمر جاوید باجوہ آئین سے باہر ہیں، جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے کہا کہ وہ ثالث کیسے بن سکتے ہیں، یہ تو لگ رہا ہے کہ ان کے کہنے پر ہوا، ریاست کے ساتھ کب تک ایسے چلتا رہے گا،فوجی کیوں خواہ مخواہ ہیرو بنے پھرتے ہیں، جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے کہا کہ آرمی اپنے آئین کردار مین رہے، جسٹس شوکت عزیز صدیقی کا کہنا تھا کہمجھے معلوم ہے کہ میری جان کو بھی خطرہ ہے، الحمد للہ! میں عاشق رسول صل صلی اللہ علیہ وسلم ہوں، عدلیہ کے خلاف باتیں کی گئیں، کیا دھرنے والوں نے معافی مانگی، یہ کیسا معاہدہ ہے، میرے بارے میں باتیں کی گئیں، میں نے آئین کے مطابق حکم جاری کیا اور اس پر قائم ہوں، جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے وفاقی وزیر داخلہ احسن اقبال نے کہا کہ جس شخص کا کورٹ مارشل ہونا چاہیئے تھا اس کو ثالث کیوں بنایا گیا، جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے کہا کہ فوجی افسر کی جو ویڈیو وائرل ہے اس کی تحقیقات کروائی جائیں,جسٹس شوکت صدیقی نے احسن اقبال کو کہا کہ آپ نے اسلام انتظامیہ کو ذلیل کروا دیا، پولیس کو آپ نے بے رحمی کے ساتھ ذلیل کرایا، احسن اقبال نے کہا کہ ہم نے تو نہیں ذلیل کرایا، جسٹس شوکت عزیز نے کہا کہ یہ تاثر کہ ہر مرض کی دوا فوج ہے، ایک بھی ملزم کو پکڑنا ہو گا تو فوج کرے گی، آپ اس تاثر کو تقویت دے رہے ہیں، فیض آباد آپریشن کی رپورٹ طلب کرتے ہوئے عدالت نے ہدایت کی ہے کہ بتایا جائے آپریشن کیوں ناکام ہوا _  جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے پوچھا کہ دھرنا حمزہ کیمپ کی جگہ ہوا، اگر جی ایچ کیو کے سامنے ہوتا تو کیا دھرنہ ہوتا۔ وزیر داخلہ نے کہا کہ یہ تومظاہرین بتائیں گے۔ جسٹس شوکت عزیز نے کہا کہ نہیں آپ بتائیں جس پر عدالت میں قہقہے گونج اٹھے _

عدالت میں آئی ایس آئی کے افسر نے کہا کہ سوشل میڈیا پر آنے والی رپورٹس غیر تصدیق شدہ ہیں،عدالت کو سوشل میڈیا رپورٹس پر رائے نہیں دینی چاہیے، آئی ایس آئی افسر نے بتایا کہ پرامن راستے سے معاملہ حل کرنے کا حکم ملا تھا ، دنیا میں مظاہرین کو کنٹرول کرنے کے دو طریقے ہیں، پرامن مذاکرات یا تشدد سے مظاہرے ختم کرائے جاتے ہیں، جج نے کہا کہ آپ نے وارننگ دینی تھی اور ایکشن لینا تھا ، جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے کہا کہ ہم فوج کے ساتھ شانہ بشانہ لڑنے کو تیار ہیں، 65ء کی جنگ میں خود فوج کے لیے جھولی پھیلا کر چندہ اکٹھا کیا، فوج ہمارا فخر ہے، جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے کہا کہ فوج میں ہمارے باپ بیٹے اور بھائی شامل ہیں، مگر فوج کو اپنا کردار آئینی حدود میں ادا کرنا چاییے، جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے کہا کہ آج ہی حکومت اور مظاہرین کے تحریری معاہدے کی کاپی دے، جمعرات تک رپورٹ دیں کہ فوج دھرنے معاملے پر ثالث کیسے بنی ؟ ختم نبوت ترمیم کیس میں حکومت نے اب تک جواب کیوں جمع نہیں کرایا،حکومت جمعرات تک ختم نبوت ترمیم کیس کا جواب جمع کروائے، ردالفساد کیا ہوا؟ کیا یہ فساد نظر نہیں آتا؟

Courtesy:http://www.pakistan24.tv/2017/11/27/7882

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *