پنجاب اسمبلی کے سامنے تحریک لبیک کا دھرنا پانچویں روز بھی جاری !

2

لاہور۔ تحریک لبیک کے دوسرے دھڑے کاپنجاب اسمبلی کے سامنے دھرنا پانچویں روز بھی جاری رہا، دھرنے کے باعث مال روڈ پر کاروبار شدید متاثر ہوا جبکہ ٹریفک کا نظام درہم برہم ہوگیا۔ وزیر اعلٰی نے گرفتار کارکنوں کو رہا کرنے کا حکم دیدیا۔ چیئرنگ کراس پر دھرنے کی قیادت کرنے والے ڈاکٹر اشرف آصف جلالی نے خادم رضوی کے دھرنے اور حکومت سے ہونیوالے معاہدے سے لاتعلقی کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ مطالبات کی منظوری تک لاہور میں دھرنا جاری رکھیں گے۔

پنجاب اسمبلی کے سامنے چیئرنگ کراس پر پریس کانفرنس کرتے ہوئے اشرف آصف جلالی نے کہا کہ جب تک صوبائی وزیر قانون رانا ثناء اﷲ استعفٰی نہیں دیتے اور دیگر مطالبات تسلیم نہیں کئے جاتے احتجاج جاری رکھیں گے، ان کی وضاحتیں منظور نہیں، فیض آباد دھرنا ختم کرنے کے لئے دھرنے کی قیادت نے ان سے رابطہ کیا اور نہ ہی اعتماد میں لیا۔ اسلام آباد دھرنے کی قیادت نے جو معاہدہ کیا ہم اس سے اتفاق نہیں کرتے۔ ضرورت پڑی تو حکومت پر دباؤ بڑھانے کے لئے دیگر صوبوں میں بھی احتجاج کے سلسلے کو پھیلائیں گے۔ انہوں نے کہا حلف نامہ تبدیل کرنے سے متعلق راجہ ظفر الحق رپورٹ کو فی الفورمنظر عام پر لایا جائے۔ ترمیم کرنے والے ذمہ داران کے خلاف کارروائی کی جائے اور اسلام آباد میں جو افراد دھرنے کے موقع پر شہید ہوئے انہیں شہید کرنے والوں کے خلاف ایف آئی آر درج کی جائے اور کارروائی کا آغاز کیا جائے۔ رانا ثناء اﷲ کے خلاف مقدمہ بھی چلایا جائے۔

اشرف آصف جلالی نے کہا تعجب ہے حلف نامہ ختم نبوت میں تبدیلی کے ذمہ دار وں کے تعین کیلئے 3 نومبر کو حکومت نے 20 دن لیے تھے اور اب فیض آباد مذاکرات والوں سے نئے سرے سے 30 دن لے لیے ہیں، یہ سرا سرحکومت کی بد نیتی ہے، یہ صرف اصل مجرموں کو چھپانے کی ایک کوشش ہے لیکن ہم مزید دن نہیں دے سکتے۔ ادھر ترجمان پنجاب حکومت کے مطابق وزیر اعلیٰ نے تحریک لبیک یارسول اللہ کے حراست میں لیے گئے کارکنوں کو جذبہ خیر سگالی کے تحت رہا کرنے کا حکم دیا:۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *