ٹرمپ کی پاکستان پالیسی ناکام ہو گی ۔ لیکن کیوں؟

afzalm2

مدیحہ افضل

تحریک لبیک پاکستان کے ہزاروں کارکنوں نے پچھلے دو ہفتوں سے اسلام آباد کو بلاک کر رکھا ہے۔ ان کا الزام ہے کہ زاہد حامد  نے توہین مذہب کے قانون میں تبدیلی کی کوشش کی جس پر انہیں حکومت سے فارغ کیا جانا چاہیے۔ پاکستان کے توہین مذہب کے قوانین کے مطابق پیغمبر اسلام ﷺ کے خلاف کوئی بھی لفظ مذہب کی توہین ہے جس کی سزا موت ہے۔ قانون میں حلف کے الفاظ میں رد و بدل کی گئی تھی اور مولوی طبقہ کا کہنا تھا کہ یہ احمدیوں کو خوش کرنے اور سہولت دینے کے لیے کی گئی ہے  جو کہ پاکستان کے آئین کے مطابق غیر مسلم ہیں۔  پاکستان میں توہین مذہب ایک حساس مسئلہ ہے جس میں صرف الزام لگنے پر بھی ملزم کو عدالتی فیصلے سے قبل ہی ہلاک کر دیا جاتا ہے۔ قانون میں تبدیلی کے خلاف بھی ملک بھر میں احتجاج کیا جاتا ہے۔پچھلے کچھ سال میں ملک میں دہشت گرد حملوں میں کمی آئی ہے جس کی وجہ پاکستانی فوج کا تحریک طالبان کے خلاف آپریشن ہے لیکن نظریاتی شدت پسندی پا کستان میں اب بھی عرو ج پر ہے۔ لیکن ٹرمپ کی پاکستان پالیسی کا محور  ملک کے اندر موجود شدت پسندی یا دہشت گردی نہیں ہے۔ ٹرمپ انتطامیہ صرف پاکستان کے اندر سے حقانی نیٹ ورک کا صفایا چاہتی ہے۔ یہ خیال کیا جاتا ہے کہ حقانی نیٹ ورک کو پاکستان کے اندرونی عناصر کی حمایت ہے  اور حقانی گروپ پاکستان کے اندر سے ہی امریکہ اور افغانستان کے خلاف کاروائیاں کرتا ہے۔ حالیہ ٹرمپ پالیسی اسی چیز کو مدنظر رکھ کر بنائی گئی ہے۔  لیکن ساری توجہ صرف حقانی گروپ پر مرکوز کرنا اصل مسئلے تک پہنچنے کا صحیح طریقہ نہیں ہے ۔ اصل مسئلہ پاکستان کی شدت پسندی اور دہشت گردی سے نمٹنے میں
ناکامی ہے ۔ جب تک پاکستان اس اہم مسئلے سے خود نہیں نمٹتا،  تب تک امریکہ کی طرف سے حقانی گروپ پر کاروائی کا دباو کسی کام کا نہیں ہے۔
*واشنگٹن کی سوچ*
*امریکہ نے ہمیشہ پاکستان کے بارے میں منفی سوچ اپنائے رکھی  اور اس سوچ میں وقت کے ساتھ ساتھ تبدیلیاں ہوتی نظر آئیں۔ سب سے سخت رویہ ڈونلڈ ٹرمپ نے خود اپنایا اور 21 اگست کو اپنی پالیسی واضح کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی طرف سے دہشت گردوں کو پناہ دینے کے عمل کو اب مزید خاموشی سے برداشت نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کو ہم اربوں ڈالر دیتے ہیں اور وہ انہیں لوگوں کو پناہ دیتا ہے جو ہمارے دشمن ہیں ۔ ایسا مزید نہیں چلے گا۔ جو امریکی اہلکار پاکستان سے ہمدردی رکھتے تھے ان کا بھی خیال ہے جس کا وہ برملا اظہار کرتے ہیں کہ پاکستان کے ساتھ امریکہ کے تعلقات میں بہتری تبھی ممکن ہے جب یہ ملک اپنی ریاست کو دہشت گردوں کےلیے ٹھکانہ نہ بنائے۔ گاجر اور ڈنڈے کی امریکی پالیسی کا تعلق مالی امداد سے ہے۔ اگست کے اختتام پر امریکی انتظامیہ نے پاکستان کو 250 ملین ڈالر فوجی امداد  جاری کرنے کا فیصلہ حقانی نیٹ ورک کے خلاف کاروائی سے مشروط کر دیا۔ اوباما بھی حقانی نیٹ ورک کے حوالے سے پاکستان پر دباو ڈالتے تھے لیکن ٹرمپ کی طرح جارحانہ طریقہ نہیں اپناتے تھے۔ اس کے ساتھ امریکہ نے
بھارت کو بھی افغان امن عمل میں شریک کرنے کا اعلان کر کے پاکستان کی دکھتی رگ پر ہاتھ رکھا۔ پاکستان ہمیشہ انڈیا کو اپنا دشمن اور اپنے لیے خطرہ قرار دیتا ہے۔ اس لیے ٹرمپ نے بھارت کے ساتھ شراکت داری کا اعلان کر کے پاکستان کے خوف کو مزید بڑھا دیا۔
*پاکستان کا موقف*
*اس نئی امریکی پالیسی نے پاکستان کو سخت گہرا گھاو دیا ہے۔ جواب میں پاکستان نے جارحانہ مزاج اختیار کرتے ہوئے اپنا موقف اپنایا ہے۔ اکتوبر میں پاکستان کے وزیر خارجہ واشنگٹن گئے اور کھلے الفاظ میں پاکستان کا موقف بیان کیا۔ پاکستان کا موقف ہے کہ ملک میں تمام دہشت گردوں کے ٹھکانے تباہ کر دیے گئے ہیں اور وزیرستان کے علاقے کو طالبان سے خالی کرا کر پاکستانی فوج نے اہم کامیابی حاصل کی ہے ۔ پاکستان کہتا ہے کہ افغانستان طالبان کو پناہ دیتا ہے جہاں سے طالبان پاکستان پر حملے کرتے ہیں۔ پاکستان کا کہنا ہے کہ امریکی شرائط پر امریکہ سے اتحاد جاری نہیں رکھا جا سکتا۔ امریکہ کو پاکستانی کی کوششوں کو سراہنا ہو گا اور پاکستان کی نظر سے معاملات کو دیکھنا ہو گا ۔ پاکستانی اہلکاروں نے پاکستان امریکہ دوستی کے ماضی کے واقعات کے ذریعے دوستی کے پیغام کو مضبوط کرنے کی تجویز دی۔ پاکستان کا موقف ایک لحاظ سے درست ہے۔ امریکہ کی افغانستان اور پاکستان کے بارے میں پالیسی تبدیل ہونا ایک تاریخی تسلسل ہے۔ امریکہ نے سعودی عرب اور پاکستان کی مدد سے افغانستان میں جہاد یوں کو طاقت فراہم کر کےسوویت یونین کے خلاف جنگ لڑی۔ اب امریکہ کا جہادیوں کے خلاف لڑنا اس کی دوغلی پالیسی کا عکاس ہے۔ حقانی گروپ سوویت یونین کے خلاف امریکہ کا اتحادی تھا۔ پاکستان کو یہ معلوم نہین ہو رہا کہ شدت پسندی کے خلاف کامیابی کے در اصل معنی کیا ہیں ۔تحریک طالبان کے خلاف پاک فوج کا آپریشن کامیاب رہا ہے لیکن ملک میں موجود شدت پسندی پر قابو نہیں پایا گیا ہے۔ دہشت گردی پر اخراجات کی تفصیل کاروائی کی کامیابی کی ضامن نہیں ہوتی۔ ملک میں اب بھی مدرسے بہت زیادہ تعداد میں ہیں،  نفرت انگیز باتیں کی جاتی ہیں، گلیوں میں غنڈہ گردی نظر آتی ہے،  اور میڈیا میں شدت پسند گروپوں کے حمایتی موجود ہیں۔ امریکہ میں کوئی بھی یہ ماننے کو تیار نہیں کہ پاکستان نے دہشت گردوں کے تمام ٹھکانے ختم کر دیے ہیں۔ پاکستان یہ سمجھنے میں ناکام ہے کہ دہشت گرد گروپوں کو **asset **کسی صورت قرار نہیں دیا جا سکتا۔ ان دہشت گردوں کے خیالات اور نظریات ہی بہت خوفناک ہیں۔ انہیں آپ اثاثہ قرار دیں یا نہ دیں، وہ کسی بھی وقت پاکستان کے خلاف ہو سکتے ہیں جیسا کہ ماضی میں بہت سی نظیریں ملتی ہیں۔ پاکستان اور امریکہ کو آگے کیا لائحہ عمل اختیار کرنا چاہیے اصل بات یہ ہےکہ حقانیوں کے خلاف کاروائی کے معاملے میں امریکہ کی پاکستان پر دھونس بے فائدہ ثابت ہو گی۔ اس سے امریکہ کی پالیسی کی غیر یقینی صورتحال واضح ہوتی ہے۔ امریکہ کی طرف سے بھارت کو افغانستان میں کردار دینے کی بات نے پاکستان کو بہت پریشان کر دیا ہے۔ امریکی دھمکیان پاکستان کو مزید غیر محفوظ بنا دیں گی اور پاکستان امریکہ اور بھارت کو دور رکھنے کے لیے مزید دہشت گرد گروپوں کا سہارا لینے پر مجبور ہو گا۔ اب پاکستان کو چین کی صورت میں ایک مضبوط اتحادی میسر ہے۔ اب پاکستان کا امریکی امداد پر انحصار کم ہو گیا ہے جو کہ پہلے ہی بہت کم میسر ہے۔ پاکستان کے دوست چین نے بیلٹ اینڈ روڈ پراجیکٹ کے تحت پاکستان میں 57 بلین ڈالر انویسٹمنٹ کا وعدہ کر رکھا ہے۔ اس سب کا مطلب یہ ہے کہ اب پاکستان امریکہ کا اتنا محتاج نہیں رہا کہ ہر حکم کی بجاآوری کرے۔  امریکی دھمکیاں پاکستان کو مزید غیر محفوظ بنا دیں گی۔ نتیجتا امریکہ کی صرف ایک گروپ کی وجہ سے پاکستان پر دباو ڈالنے کی عادت کسی طرح فائدہ مند ثابت نہیں ہو سکے گی۔ اس معاملے میں جو پیشکش امریکہ پاکستان کو کرتا ہے وہ پاکستان کے مفاد کےلیے کافی نہیں ہے۔ پاکستان کو تبھی فائدہ ہو گا جب یہ خود ملک میں اور بارڈر پر شدت پسندی پر قابو پائے  کیونکہ یہی شدت پسندی ملک میں دہشت گردی کے واقعات کا باعث بنتی ہے۔ یہ فیصلہ صرف پاکستان ہی کر سکتا ہے۔ جب پاکستان یہ فیصلہ کر لے گا کہ ملک میں کوئی بھی دہشت گرد تنظیم باقی نہ رہے  اور یہ سمجھ لے گا کہ یہی شدت پسند گروپ ملک میں دہشت گردی کا ذریعہ ہیں تبھی یہ ملک محفوظ بن جائے گا۔ واشنگٹن کو چاہیے کہ پاکستان کو باور کرائے کہ اسے خطرہ بھارت سے نہیں بلکہ شدت پسندی اور دہشت گردی کے ٹھکانوں سے ہے۔ ایسا کرنا آسان نہیں او ر اس میں بہت وقت لگے گا۔ پہلی بات اس ضمن میں یہ ہے کہ امریکہ ملی ٹینٹ اور دہشت گرد تنظیموں کی میپنگ کر کے پاکستان کو مختلف دہشت گرد گروپوں کے روابط سے آگاہ کرے  چاہےان میں سے کچھ کا تعلق پاکستان کی اسٹیبلشمنٹ سے ہی کیوں نہ ہو۔ سیکیورٹی اسٹیبلشمنٹ کو اگر اس خطرے کا اندازہ ہو بھی تو شہریوں کو اس کا اندازہ بلکل نہیں ہے۔ اس لیے شہریوں کو یہ سمجھانا اور ان کی مدد حاصل کرنا سب سے اہم قدم ہے۔ دوسرا اہم قدم یہ ہو گا کہ پاکستان کو یہ بتایا جائے کہ شدت پسندی پاکستان کے مفاد میں نہیں ہے چاہے فی الوقت یہ ملک کے لیے فائدہ مند نہ بھی ہو۔ قانون میں اقلیتوں کے خلاف جو شدت پسندی کا اظہار کیا جاتا ہے  وہ بہت خطرناک امر ہے۔
*اس ضمن میں چین بہت مددگار ثابت ہو سکتا ہے کیونکہ پاکستان چین کی ہر بات مانتا ہے۔ پاکستان کے ا مریکہ اور چین کے ساتھ تعلقات سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ پاکستان بد معاشی کے سامنے نہیں جھکتا اور محبت اور دیر پا دوستی کو زیادہ اہمیت دیتا ہے۔ پاکستان چاہتا ہے کہ اسے بھارت کی طرح عزت سے دیکھا جائے۔ پاکستان کی یہ خواہش صرف امریکہ ہی پوری کر سکتا ہے۔ چونکہ امریکہ کو لگتا ہے کہ شاٹ ٹرم سکیورٹی مفادات کے معاملے میں پاکستانی آرمی ان کی مدد کرتی ہے تو امریکہ پاکستان کے ساتھ تعلقات کو اہمیت دینے لگتا ہے۔لیکن پاکستانی فوج اپنے ملک میں شدت پسندی کے بڑے جن کو قابو کرنے میں دلچسپی نہیں رکھتی۔ پاک فوج دہشت گردوں کے ٹھکانوں  کو اپنے مفادات کےلیے استعمال کرتی ہے۔ صرف پاکستان کی سیاسی جماعتیں اور حکومت ہی ملک میں طویل المدتی طور پر شدت پسندی کا خاتمہ ممکن بنا سکتے ہیں۔ اس لیے امریکہ کو چاہیے کہ پاکستان آرمی کی بجائے سویلین حکومتوں کے ساتھ قریبی تعلقات بنانے کی کوشش کرے۔ ان میں سے کوئی بھی کام آسان نہیں ہے۔ جب پاکستانی حکومت ، فوج اور سیاسی عناصر خود اپنے رویہ میں تبدیلی کی ضرورت محسوس کریں گے  اور اس کے لیے ضروری اقدامات بھی کریں گے ، حقانی گروپ کے ٹھکانے ختم کریں گے  تو پاکستان اور
امریکہ کے بہت سے مفادات حاصل ہونا  ممکن ہو جائے گا۔

Courtesy : https://www.brookings.edu

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *