ادب دوستوں کے لئے ایک خوبصورت ناول

نورالعین ساحرہ

noor-ul-ain-sahira

انڈسٹرئیلزم نے انسانوں کو فطرت سے کوسوں دور کر دیا ہے ۔ ان کے پاس اتنا وقت ہی نہیں بچا کہ وہ قدرت کی نیرنگیوں سے لطف اندوز ہوسکیں ۔ ہر وقت دماغ پر ڈھیروں بوجھ اور مختلف ذمہ داریوں کا احساس انسان کو ذہنی طور پر الجھا کر معذور بنا دینے کے در پر ہے ۔ ایسے ہی کسی ایک لمحے میں (Sufism ) پر بیسڈ نجمہ محمود صاحبہ کے ناول "جنگل کی آواز" جیسے خوبصورت اور تخلیقی فن پارہ کا پہلا حصہ مع تعارف سننے کا موقع ملا تو خود کو ایک عجیب مسحور کن وارفتگی کا شکار پایا۔ افسانوی مبادیات میں ایک انوکھا سا طلسمی منظر نامہ جو ختم ہونے کے بعد بھی دیر تک اچانک پیش آ جانے والے کسی روحانی اور رومانی تجربے کی طرح احساس کی زیریں تہوں میں سرمستی گھولنے کا سبب بنتا رہا ۔ ایسی ڈکشن سنتے ہوئے مظاہر فطرت سے پر ایک انجانی ،انوکھی دنیا سے گزرنے کا موقع ملا، جہاں داخلی شکست و ریخت کا شکار ایک نسوانی کردار اپنی ذات کی تلاش میں سرگرداں جنگلوں کے پر پیچ راستوں پہ بھٹکتا پھر رہا ہےجسے پراسرار نئی دنیاؤں کو فتح کرنے کا جنون بھی ہے مگر اپنی راہ میں حائل غیر اخلاقی اور اذیت ناک رویوں کی بدصورتی کا احساس بھی -

j

وجودی کرب میں ڈوبا یہ کردار اپنی ذات کی تلاش میں گم (من عرف نفسه فقد عرف ربه) کی عملی شکل دکھائی دیتا ہے۔ اس پورے قصے کو بیان کرنے کے لئے ناول کے پہلے حصے میں (Nature imagery) کا خوبصورت استعمال انتہائی عمدگی سے کیا گیا ہے ۔ بلاشبہ عورت مظاہر فطرت کا عظیم حصہ ہے۔ اسکی سرشست میں ( positivity) اور ( creativity) کوٹ کوٹ کر بھری ہوتی ہے۔ مضبوط ،بہادر،خوبصورت،مہربان اور مستقل مزاجی سے جینے کا ڈھنگ سکھانے کے علاوہ زندگی کے تمام نشیب فراز سے بہ احسن گزر جانے والی ، کبھی اپنی منفی روایات سے بغاوت اور کہیں صدیوں پرانی مثبت اقدار کو سینے سے لگائے پشت در پشت منتقل کرکے نئی دنیاوں کی بنیاد رکھنے والی۔ اپنے ارد گرد کے ماحول کے ساتھ اسکا باہمی ربط اور تعلق کس قدر گہرا ہے یہ بتانے کو کسی دلیل کی ضرورت نہیں پڑتی۔ اسی تعلق کا اظہار فن پارے میں جا بجا ملتا ہے ۔ متن کی تانیثی قرآت ناول کے پہلے حصے کو (Eco feminism) کے قریب بھی لے جا تی ہے۔ اسے سنتے ہوئے بار بار ایسا بھی لگتا رہا کہ جیسے یہ کوئی ( Meditation Therapy) ہو یا پھر (Very powerful and Relaxing Delta or Theta Brain Waves ) ہوں جو دماغ کو بہت پرسکون کر کے سلانے کا کام کرتی ہیں ۔ کہیں کہیں یہ بھی احساس ہوا جیسے ایلیٹ اپنی نظم "ویسٹ لینڈ" کے آخری حصوں میں" پلٹنے" کا مشورہ دیتا ہے اور یہ پلٹنا اپنی زمین اپنی ثقافت اور مذہب کے اسی رحجان کی طرف اشارہ ہے جو صوفی ازم کے بہت قریب ہے۔

میں نجمہ آپا کی شکر گزار ہوں انہوں نے مجھے یہ سننے اور لطف اٹھانے کا موقع دیا۔ میری یہ ادنٰی سی رائے اس ناول کے صرف پہلے حصے پر ہے ۔ اس سے زیادہ جاننے کا ابھی موقع نہیں ملا۔ ایک بات جسکی خاص طور پر تعریف کرنا چاہوں گی کہ آپا نے یہ ناول لکھتے ہوئے جہاں جہاں سے بھی ( inspiration) لی ,انکا خصوصی طور پر ساتھ میں ( خلیل جبران، ورڈزورتھ ، جمیلہ ہاشمی ، سید حامد، شکسپئیر) ذکر کیا کہ" چراغ سے چراغ جلتا ہے"

یو ٹیوب پر موجود یہ فن پارہ سننے کے لئے لنک حاضر ہے
https://www.youtube.com/watch?v=OILx2FBRtac&feature=youtu.be

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *