کیا بیروت کا دوبارہ اجڑنا ٹھہر گیا ہے؟

لبنان کے دارالحکومت بیروت کوایک زمانے میں مشرق وسطیٰ کا پیرس کہا جاتا تھا جبکہ لبنان ایشیاء کے سوئٹزرلینڈ کے نام سے مشہور تھا۔ پہلی جنگ عظیم کے بعد جب خلافت عثمانیہ کا شیرازہ بکھر گیا تو بندر بانٹ میں لبنان فرانس کے حصے میں آیا۔ دوسری جنگ عظیم کا آغاز ہوا تو برطانیہ اور فرانس کے لئے دنیا بھر میں موجود کالونیاں بوجھ بن گئیں اور 1943ء تک آتے آتے فرانس نے لبنان کو آزادی دینےکا فیصلہ کر لیا۔
دسمبر 1946ء تک فرانس کا آخری سپاہی بھی لبنان سے نکل چکا تھا۔ 54 فیصد مسلمان، 40 فیصد عیسائی اور 5 فیصد دروز مذہب کے پیروکاروں پر مشتمل لبنان کی کل آبادی 2016ء کے ایک اندازے کے مطابق، 60 لاکھ سے زائد ہے۔ دوسری جنگ عظیم کے بعد لبنان نے دن دگنی رات چگنی ترقی کی اور دیکھتے ہی دیکھتے دنیا بھر کے سیاحوں کی توجہ کا مرکز بن گیا۔ میامی کے ساحل، سوئٹزرلینڈ کے پہاڑ اور پیرس کی عیاشیاں سب لبنان میں ایک جگہ دستیاب تھے۔

181709_493476370177_638930177_6525021_2449141_n

اسرائیل سے نقل مکانی کرنے والے فلسطینیوں نے ملک چھوڑا تو لبنان کو اپنا مرکز بنا لیا۔ لیکن پھر پی ایل او کے جنگجو اسرائیل کا غصہ لبنان کی عیسائی آبادی پر نکالنے لگے تو 30 سال سے بلاتفریق نسل اور مذہب کے ساتھ رہنے والے لبنانی ایک دوسرے کے خون کے پیاسے ہوگئے۔1975ء میں پی ایل او نے سنی مسلمانوں کو ساتھ ملایا تو عیسائیوں نے اسرائیل سے مدد طلب کر لی اور ملک خانہ جنگی کا شکار ہوگیا۔ لبنانی حکومت نے خانہ جنگی کو روکنے کے لئے شام سےمدد طلب کرلی اور یوں شامی فوج لبنان میں داخل ہوگئی۔ اس کے بعد دارالحکومت بیروت، جو سب کا شہر تھا، کسی کا نہ رہا۔
شامی فوج آئی تو اس نے لبنان میں قیام امن کو یقینی بنانے کی بجائے شیعہ آبادی کو ہتھیار فراہم کرکے پی ایل او اور عسائیوں کے سامنے لا کھڑا کیا۔ جہاں پر دروز فرقے کی اکثریت تھی وہاں انہوں نے اپنی اجارہ داری قائم کر لی اور پھر اگلے 15 برس تک یہ جنگجو ایک دوسرے کا خون بہاتے رہے۔
بیروت شہر میں گرین لائن کے نام سے لکیر کھینچ دی گئی جو سنیوں اور شیعوں اور عیسائیوں کو ایک دوسرے سے الگ رکھتی تھی۔ شامی فوج جو لبنان میں امن کے قیام کے لئے آئی تھی، اس تمام عرصے میں خانہ جنگی کو ہوا دیتی رہی۔
80ءکی دہائی میں لبنان عسائیوں، سنیوں، شیعوں، دروز ملیشیا اور اقوام متحدہ کی امن فوج میں بٹا ہوا تھا۔ 1982ء میں پی ایل او پر سرحدی مداخلت کا الزام لگا کر اسرائیل بھی میدان میں کود پڑا اور جنوبی لبان پر قبضہ کر لیا۔ اسرائیل کو روکنے کے لئے حزب اللہ کا قیام عمل میں لایا گیا جسے ایران اور شام کی بھرپور حمایت حاصل تھی۔ ایران کے 1500سے 2000 فوجی ماہرین لبنانی حکومت کی اجازت سے بیروت گئے اور حزب اللہ کے جنگجوؤں کو تربیت دی اور یوں دیکھتے ہی دیکھتے حزب اللہ لبنان میں سرگرم تمام جنگجو ملیشیاؤں سے طاقتور قوت بن گئی۔
1990ء میں طائف معاہدے کے تحت لبنان میں خانہ جنگی کا خاتمہ ہوا۔ سولہ سالہ خانہ جنگی میں ایک اندازے کے مطابق، ڈیڑھ لاکھ افراد اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ دو لاکھ افراد زخمی ہوئے اور دس لاکھ آبادی ملک چھوڑ کر چلی گئی۔ خانہ جنگی کے باعث بیروت شہر جو دنیا کے خوبصورت ترین شہروں میں سے ایک تھا، کھنڈرات میں تبدیل ہوگیا۔
مشرق وسطیٰ کی عالی شان عمارتوں میں سے ایک 26 منزلہ ہالی ڈے اِن ہوٹل جو خانہ جنگی سے صرف ایک سال پہلے کھلا تھا، اس لڑائی میں ایسا اجڑا کہ آج تک کوئی اس کی دوبارہ تعمیر کی ہمت نہیں کر سکااورشہر کے پُرفضا مقام پر موجود اس عمارت کا کھنڈرآج تک بیروت کی تباہی کی داستان سنا رہا ہے۔ لبنان میں خانہ جنگی کے بڑے کرداروں میں مقامی ملیشیاء کے علاوہ شام، اسرائیل اور یاسر عرافات کی پی ایل او بھی شامل تھیں۔ تاہم، باقی علاقائی اور عالمی قوتوں نے بھی اپنا اپنا حصہ ڈالا۔
طائف معاہدے میں رفیق حریری نے اہم کردار ادا کیا تھا جو لبنان کے ساتھ ساتھ سعودی عرب کی شہریت بھی رکھتے تھے اور اُس وقت مشرق وسطیٰ کے امیر ترین افراد میں سے ایک تھے۔ 1992ء کے انتخابات میں رفیق حریری نے پارلیمان18GeneralBlkwthImageImg1 میں اکثریت حاصل کرلی اور حکومت بنا لی۔ تعمیراتی شعبے میں اپنے تجربے اور دنیا بھر کے کاروباری افراد سے تعلق کے باعث رفیق حریری نے چند ہی سالوں میں بیروت کے کھنڈرات کو دوبارہ ایک شہر کی شکل دے دی اور 7ہزار سال پرانے اس شہر میں ایک بار پھر زندگی لوٹ آئی۔
طائف معاہدے کے تحت تمام عسکری تنظیموں نے ہتھیار پھینک دیئے۔ سوائے حزب اللہ کے جو خانہ جنگی کے دوران اتنی طاقت ور بن گئی تھی کہ رفیق حریری نے بھی خاموشی سے ان کو برداشت کرنے میں ہی عافیت جانی۔

130501125138-hezbollah-chief-hassan-nasrallah-horizontal-large-gallery
1998ء میں رفیق حریری کی حکومت نے اپنی مدت پوری کی تو لبنان دوبارہ ترقی کی راہ پر گامزن ہوچکا تھا۔ اس پورے عرصے میں جنوبی لبنان بدستور اسرائیل کے قبضے میں ہی رہا اور شامی فوج بھی لبنان میں موجود رہی۔ تاہم رفیق حریری کی زیرقیادت سیاسی عمل پُرامن طریقے سے جاری رہا۔ حزب اللہ نے اسرائیل کے خلاف گوریلا جنگ تو 1985ءسے ہی شروع کر رکھی تھی لیکن نوے کی دہائی میں اس جنگ میں شدت آگئی اور جنوبی لبنان میں جھڑپیں ہوتی رہیں۔ 2000ء تک آتے آتے اسرائیل نے لبنان سے نکلنے میں ہی عافیت جانی اور یوں جنوبی لبنان اسرائیل کے تسلط سے آزاد ہوگیا۔
لبنان سمیت دنیا بھر میں اسرائیل کی پسپائی کو حزب اللہ کی فتح قرار دیا گیا اور شیعہ مسلک کی نمائندہ تنظیم تمام مسلمانوں کی نظروں میں اہمیت اختیار کر گئی۔ حزب اللہ کے سربراہ حسن نصراللہ ایک ہیرو بن کر سامنے آگئے۔ حزب اللہ کی اس کامیابی کے بعد ایران نے بھی کھل کر حزب اللہ کی مدد کی اور ایک گوریلا فورس کو چند سالوں میں ایک طاقتور فوج کی شکل میں اسرائیل کے سامنے لا کھڑا گیا۔ اسی حزب اللہ نے 2006ء اور 2011ء میں بھی اسرائیل کے ساتھ جنگ لڑی اور اپنی طاقت کی دھاک بٹھا دی۔
سنہ 2000 میں رفیق حریری ایک بار پھر حکومت میں آگئے اور 2004ء میں اپنے استعفے تک وزیر اعظم رہے۔ 2005ء میں رفیق حریری کو ایک خودکش بم حملے میں مار دیا گیا۔ رفیق حریری کے قتل کا الزام شام اور حزب اللہ پر لگایا گیا جبکہ حزب اللہ نے اس قتل کے لئے اسرائیل کو مورد الزام ٹھہرایا۔ رفیق حریری کے قتل کے بعد لبنان میں مظاہروں کا ایک سلسلہ شروع ہوا جسے ’سیڈر انقلاب‘ کا نام دیا جاتا ہے۔ بیروت میں روز لاکھوں لوگ سڑکوں پر نکل کر شامی فوج سے ملک چھوڑنے کا مطالبہ کرتے رہے۔ اپریل 2005ء میں سیڈر انقلاب کامیاب ہوا اور شام نے 30 سال بعد اپنی فوجیں لبنان سے واپس بلوالیں۔
رفیق حریری کے فرزند سعد حریر ی نے اپنے والد کے قتل کے بعد اٹھنے والی سیاسی لہر کو ایک پارٹی کی شکل دی اور 2009ء کے انتخابات میں سب سے زیادہ 30 نشستیں حاصل کر لیں لیکن حزب اللہ سے اختلافات اور سیاسی اتحاد بنانے میں ناکامی کے باعث حزب اختلاف کا حصہ بن گئے جبکہ حزب اللہ نے عیسائی نمائندہ جماعت فری پیٹریاٹک پارٹی اور دیگر جماعتوں کے ساتھ مل کر حکومت بنا لی۔ 2016ء میں حزب اللہ اور فیوچر پارٹی کے اختلافات دور ہوئے اور سعد حریری کی پارٹی کو حکومت کا حصہ بنا کر وزارت عظمیٰ کی کرسی سعد حریری کو دی گئی جبکہ فری پیٹریاٹک پارٹی کے میشال عون صدر بنے۔
گزشتہ دنوں سعد حریری نے سعودی عرب کے دورے کے دوران مستعفی ہونے کا اعلان کردیا تو صدر میشال عون نے الزام لگایا کہ سعودی عرب سعد حریری سے زبردستی استعفیٰ لے رہا ہے اور اس نے انہیں نظر بند کر کے رکھا ہوا ہے۔
کچھ دن بعد سعد حریری منظر عام پر آئے اور پھر فرانس چلے گئے۔ فرانسیسی صدر میکرون نے سعد حریری کو ملک واپسی پر آمادہ کیا اور اب وہ دوبارہ لبنان واپس جا کر وزارت عظمیٰ کی ذمہ داریاں نبھا رہے ہیں۔ لیکن اس مختصر عرصے میں جو واقعات پیش آئے وہ لبنان میں ایک اور خانہ جنگی کی جانب اشارہ کر رہے ہیں۔ حزب اللہ فی الحال چپ ہے لیکن سعد حریری کی جانب سے قتل کی سازش کا الزام لگانے کے بعد حزب اللہ اور سعد حریری زیادہ دیر حکومت میں اتحادی نہیں رہ سکتے۔سعودی والی عہد حزب اللہ کو ایرانی کٹھ پتلی اور ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کو ہٹلر قراردے کر اپنے عزائم کا اظہار کر چکے ہیں۔

19hariri-sub-facebookJumbo
جب میں یہ سطور لکھ رہاہوں تو اسرائلی فوج کے سربراہ کا بیان آیا ہے کہ اسرائیل جب بھی لبنان پر حملہ کرے گا، حزب اللہ کے سربراہ حسن نصراللہ کو قتل کرنے کی کوشش ضرور کرے گا۔ اسرائیلی جنرل کا یہ بیان ممکنہ طور پر حزب اللہ اور اسرائیل کے درمیان ایک اور جنگ کی اطلاع ہو سکتاہے۔
اہم سوال یہ ہے کہ اگر حزب اللہ اور اسرائیل کے درمیان ایک اور جنگ چھڑ گئی تو سعد حریری حزب اللہ کا ساتھ دیں گے یا خاموش تماشائی بنے رہیں گے؟ ایسی صورتحال میں ایران اور سعودی عرب کا کیا رد عمل ہوگا؟ سعودی عرب اور ایران کی لڑائی میں یمن اور شام تو اجڑ چکے ہیں، اگر لبنان بھی ان دونوں ملکوں کا میدان جنگ بن گیا تو بیروت کو ایک بار پھر اجڑنے سے کوئی نہیں روک سکتا۔ لبنان کے پاس اب کوئی رفیق حریری بھی نہیں ہے جو بیروت کو دوبارہ تعمیر کر سکے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *