قانون قدرت اور ھم

tariq ahmed

یہ خدائی قانون ھے۔ جب اس کی دنیا میں انسانی فلاح اور بھلائی اور ترقی کو لے کر کوئی پروگریس ھوتی ھے۔ انسانی تہذیب ایک یا دو قدم آگے کو حرکت کرتی ھے۔ تو اس کے فوائد تمام اقوام کو پہنچتے ھیں۔ یہ فوائد پہنچانے کے اللہ کے طریقے پراسرار ھیں ۔ لیکن اقوام عالم کی تاریخ ان واقعات سے بھری پڑی ھے۔ خواہ یہ سائنس کی ترقی ھو۔ ایجادات اور دریافتیں ھوں۔ آرٹ اور میڈیسن ھو۔ اور یا پھر ماڈرن جمہوری اور فلاحی ریاست کا تصور ھو۔ اولین اسلام کا پھیلاؤ اپنے ساتھ یہی تبدیلی لے کر گیا۔ برصغیر میں انگریزوں کی آمد اپنے ساتھ سائنس کی ترقی لائ ۔ جب کسی قوم کے تاقتور حلقے بوجہ اپنے لوگوں کو ان فوائد سے محروم رکھنا چاہتے ھیں۔ تو وہ قوم تقسیم ھو جاتی ھے۔ جب ھمارے مقتدر حلقوں نے اپنے لوگوں کو مسلسل ان کے حق حکمرانی سے محروم رکھا ۔ ریاست کو جمہوری اور فلاحی بنانے کی بجائے اسے سیکیورٹی ریاست بناے رکھنے پر اسرار کیا۔ اور پھر اس سیکیورٹی کے نام پر فوائد سمیٹتے رھے۔ تو بنگالیوں نے ھم سے الگ ھونے کا فیصلہ کر لیا۔ آج بنگلہ دیش ھر معاملے میں ھم سے آگے ھے۔ جب بنگالی ھمارا حصہ تھے۔ تو وہ ھر معاملے میں پیچھے تھے۔ ادھر ھماری چالاکیاں دیکھیں۔ پہلے بھارت ایک دشمن تھا۔ اب چاروں طرف دشمن بیٹھے ھیں۔ ھمارے مجاہدین اور طالبان بھی ھمارے دشمن بن چکے ہیں ۔ متحدہ کا تجربہ بھی ناکام ھو چکا ھے۔ اور ھم اب بریلویوں کی شکل میں مستقبل کے نئے دشمن کو تیار کر رھے ھیں ۔ ھم نے سندھی بھٹو کو پھانسی پر لگایا۔ بلوچی بگٹی کو قتل کیا۔ باچا خان کے فالوورز کو غدار ڈکلیر کیا۔ اور اب پنجابی نواز شریف کا تماشا لگا رھے ھیں۔ ھم اسقدر ھشیار اور چالاک ھیں۔ سیکیورٹی کے نام پر اپنی بالادستی کے لیے ھر کچھ کریں گے۔ سیاستدانوں کو تگنی کا ناچ نچوائیں گے۔ میڈیا کو ھولڈ کریں گے۔ عدلیہ کو کنٹرول کریں گے۔ مزھب کو استعمال کریں گے۔ کبھی کلی پاور ، کبھی شیئرڈ پاور اور کبھی کنٹرولڈ ڈیموکریسی کے تجربے کریں گے۔ اور کبھی اپنی کٹھ پتلیوں سے سول حکومت کو مکمل بے دست و پا کر دیں گے۔ مسلسل منفی پروپیگنڈے سے سیاستدانوں کو ملعون ٹھہرائیں گے۔ خود کو گلوری فائ کریں گے۔ اس لیے کہ ھم بہت ھشیار اور چالاک اور منظم ھیں۔ لیکن ھم اسقدر نکمے اور نالائق ھیں۔ تاریخی شعور اور تاریخ کی قوتوں کی عمل پذیری سے اسقدر بے بہرہ ھیں ۔ کہ ھم یہ نہیں سمجھ سکتے۔ ھم غلط کر رھے ھیں۔ احساس قوت اور احساس برتری اور مفادات نے ھمیں دولے شاہ کے چوھے بنا دیا ھے۔ ھم اپنی ناک سے آگے نہ دیکھ سکتے ہیں نہ سونگھ سکتے ھیں۔ ورنہ ھمیں معلوم ھوتا۔ ھم خدا کے اسی قانون کی خلاف ورزی کر رھے ھیں۔ جس کی وجہ سے بنگالی ھمیں چھوڑ گئے تھے۔ سندھی ، مہاجر ، بلوچی، پشتون ھم سے ناراض ھیں۔ اور اب پنجابی غصے میں ھیں۔ ھمارے دشمنوں کی تعداد بہت بڑھ چکی ھے۔ اور ھم سمجھتے ھیں۔ ھم اکیلے ان تمام تاریخی، سیاسی، سماجی اور معاشرتی عوامل سے نمٹ لیں گے۔ کوئی جعلی سیٹ اپ بنا کر سروائو کر لیں گے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *