تحریک لبیک کے دھرنے سے متعلق بحث میں حصہ لینے والا سماجی کارکن لاپتہ !

2

لاہور۔ وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں تحریک لبیک کے دھرنے سے متعلق بحث میں حصہ لینے والا سماجی کارکن رضا خان گزشتہ روز لاپتہ ہو گیا ۔ ”پاکستان ٹوڈے “کی رپورٹس کے مطابق ”لوکی“ مقامی کمیونٹی نے ”اسلام آباد میں مذہبی جماعتوں کی جانب سے دھرنا“کے موضوع پر مباحثے کا انعقاد کیا جس میں رضا خان سمیت مختلف طبقات سے تعلق رکھنے والی سماجی شخصیات نے شرکت کی تھی جس کے بعد رضا خان لاپتہ ہو گئے ۔

اس حوالے سے سماجی کارکن جبران ناصر نے فیس بک پر پیغام دیتے ہوئے وزیراعلیٰ پنجاب کی توجہ اس طرف دلائی اور کہا رضا خان لاہور میں اپنی رہائش گاہ کے قریب سے لاپتہ ہو گیا ہے ۔رضا خان آغاز دوستی تنظیم کے کنوینئر تھے جو کہ پاکستان اور بھارت کے طالب علموں کو قریب لانے کے لیے کردار ادا کرتی ہے اور اس کے ساتھ ساتھ وہ ”لوکی“ نامی ترقی پسند تنظیم کو بھی مینج کرنے میں مدد فراہم کرتے تھے ۔جبران ناصر نے بتایا کہ رضا خان کے بھائی نے پولیس کو درخواست جمع کرائی ہے لیکن ابھی تک پولیس کی جانب سے ایف آئی آر درج نہیں کی گئی ۔مذکورہ مباحثے کا انعقاد کرنے والے ایک آرگنائزر نے بتا یا کہ ہم نے ملک میں جاری حالیہ کشیدگی پر ایک مباحثے کا انعقاد کیا تھا ،جمہوری معاشروں میں اپنے خیالات کے اظہار کی آزادی ہوتی ہے اور اسی آزادی کے تحت اس موضوع پر بات کی گئی ۔انہوں نے بتا یا کہ ہم نے درخواست بھی جمع کرادی ہے مگر نصیر آباد تھانے کی پولیس ایف آئی آر درج نہیں کر رہی ۔


اس حوالے سے ایک اور سوشل میڈ یا ایکٹوئسٹ عتیقہ شاہدنے فیس بک پر پیغام دیتے ہوئے کہا کہ ہم رضا خان سے آخری مرتبہ ہفتے کو ملے تھے جب اسلام آباد دھرنے سے متعلق مباحثے کا انعقاد کیا گیا تھا اور وہاں بہت دھواں دار گفتگو ہوئی تھی ۔انہوں نے بتا یا کہ رضا خان امن کے خواہ اور اچھے انسان ہیں جو وکلا کی تحریک میں حصہ لینے پر جیل بھی گئے۔ان کا کہنا تھا کہ ہم نے شہر کے ہسپتالوں میں بھی تلاش کیا ہے لیکن وہ نہیں ملے ۔عتیقہ شاہد نے دعاکی کے وہ محفوظ ہوں اور جنہوں نے بھی انہیں اغوا کیا ہے وہ سمجھ سکے کہ رضا خان امن پسند اور انصاف پر یقین رکھنے والے انسان ہیں :۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *