بھٹو خاندان سے جڑی یادیں

اویس توحید

owais toheed

اس دن میں لاڑکانہ سے اپنی ماں کےلیے پان خرید رہا تھا جب دکاندار توفیق بھائی نے ریڈیو کی آواز اونچی کی۔ نیوز کاسٹر خالد حمید نے 11 بجے کے بلیٹن میں بتایا کہ زوالفقار علی بھٹو کو نماز جنازہ کے بعد دفنا دیا گیا ہے۔ ایک دم پورا شہر کا حلیہ بدل گیا۔ لوگ اپنی دکانیں بند کر کے گھروں کی طرف بھاگنے لگے۔ ہر گاوں والا پریشانی میں سر پکڑ کر بیٹھ گیا۔ کچھ دیر کےلیے بھٹو کا شہر لاڑکانہ ایک قبرستان کا منظر پیش کرنے لگا۔ اس کے بعد دو فوجی گاڑیاں وہاں سے گزریں اورکچھ ہی دیر میں بھٹو زندہ باد کے نعرے بلند ہونے لگے۔ میں نے اپنےد وست کے ہمراہ گڑھی خدا بخش قبرستان سائیکل پر پہنچنے کی کوشش کی لیکن فوجی گاڑیوں نے ہمارا راستہ روک لیا۔ لوگ وہاں اکٹھا ہونا شروع ہوئے اور فوجی ان پر گن تانے کھڑے دکھائی دیے۔ عوام کے ہجوم کو تفتیشی رپورٹ کی ضرورت بھی نہ پڑی اور 'قاتل قاتل، ضیا قاتل کے نعرے لگنے لگے۔ سوئم والے دن ممتاز بھٹو اور کھر کو غدار غدار کے نعروں کا سامنا کرنا پڑا۔ بعد میں معلوم ہوا کہ لاڑکانہ اور آس پاس کے علاقوں سے سینکڑوں لوگوں کو گرفتار کیا گیا ہے۔ میرے بچپن کی یادیں ذولالفقار علی بھٹو کی جادوئی شخصیت سے تعلق رکھتی ہیں۔ مثلا

مجھے شاہ آف ایران اور ملکہ فرح دیبا کو موہنجوداڑو اائیر پورٹ پر پھول پیش کرنے کا موقع دیا گیا۔ میں نے غلط سائیڈ پر قدم رکھا اور بھٹو صاحب نے مجھے اٹھا کر صحیح طرف رکھ دیا۔

A rare photograph of the Bhutto Family in its prime. Seen from left to right are Begum Nusrat Bhutto, Benazir Bhutto, Murtaza Bhutto (looking leftwards), Zulfikar Ali Bhutto and Shahnawaz Bhutto. | Photo: Dawn / White Star Archives

1977 کے انتخابات میں وہ اپنے ساتھی ڈاکٹر اشرف عباسی کے ساتھ میرے گھر تشریف لائے۔

انہوں نے مجھے اپنے لیے ووٹر اکٹھے کرنے کاکہا تو میں نے کہا کہ آپ انقلاب کےلیے کام کریں۔ جس پر وہ کھلکھلا کر ہنس دئے۔

انہوں نے میرے بھائی کو'جسارت' اخبار پڑھنے سے منع کیا اور بتایا کہ یہ رائٹ ونگ کی پروپیگنڈا مشین ہے۔

میں ان کی کھلی کچہری بھی گیا۔ میں نے سکالر شپ کےلیے درخواست دی۔ انہوں نے کہا کہ میں یہ وزیر تعلیم وحید بخش بغیو کو دوں جو ادھر ہی بیٹھے ہوئے تھے۔

میں نے انہیں بتایا کہ وہ انگریزی نہیں پڑھ سکیں گے کیونکہ وہ میرے ہمسائے ہیں اور میں انہیں جانتا ہوں۔وہ اس بات سےبہت محظوظ ہوئے۔ بعد میں مجھے معلوم ہوا کہ وہ زمینداروں کو اپنی پارٹی میں جگہ دیتے تھے لیکن عام آدمی کے سامنے انہیں شرمندہ کرتے تھے۔

جب میں پہلی بار زمینی راستے سے پنجاب گیا تب میں 20 سال کا تھا۔ میں اور میرے دوستوں نے اپنی رقم جمع کر کے ایک کار پر لاہور جانے کا فیصلہ کیا۔ یہ 1986 تھا جب بے نظیر بھٹو لاہور ائیر پورٹ پر واپس قدم رکھنے والی تھیں۔ ہم ان کا استقبال کرنے جا رہے تھے۔ وہاں ہزاروں کا مجمع پہلے سے موجود تھا۔ لوگ جشن منا رہے تھے۔ جشن منانے والوں میں وہ بھی تھے جنہیں پیپلز پارٹی سےتعلق کی بنا پر گرفتاریاں، تشدد، سے گزرنا پڑا تھا۔

ہر شخص بے نظیر کا دیدار کرنے کے لیے ترس رہا تھا۔ ہر کوئی ملک میں جمہوریت کی بحالی چاہتا تھا۔ اس کا نتیجہ 1998 میں دیکھنے کو ملا جب ہر وڈیرا اور زمیندار پیپلزپارٹی کے امیدوار کے سامنے ڈھیر ہوتا چلا گیا۔ میں نے بے نظیر سے کئی بار ملاقات کی جب میں ایجنس فرانس پریس میں کام کرتا تھا۔ میں نے ان کا جارحانہ رویہ بھی دیکھا۔ انہوں نے فاروق لغاری کی غداری پر گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا:

"میں انہیں اپنا بھائی سمجھتی تھی لیکن انہوں نے پیٹھ میں چھرا گھونپا۔ انہوں نے تو مرتضی کے چہلم کا بھی انتظار نہیں کیا۔ " بے نظیر کو یقین تھا کہ ان کی پارٹی کے خلاف سازش ہو رہی ہے اور بھٹو خاندان کے افراد کو آپس میں لڑا کر ان کو کونے لگانے کی پلاننگ پر عمل درآمد کیا جا رہا ہے۔ مرتضی بھٹو اپنی بہن کی حکومت پر سخت تنقید کرتے تھے اور انقلابی طرز پر ملک میں تبدیلی لانے کی خواہش کا اظہار کیا کرتے تھے۔ ہم نے ان کی جلاوطنی کے بارے میں گھنٹوں ان سے باتیں کیں اور ان سے دنیا کے بڑے لیڈران یاسر عرفات، نجیب، اسد اور قذافی سے ملاقات کے بارے میں سوالات پوچھے۔ میں نے ان کو بتایا کہ وہ پاکستانی سیاست کے لیے موزوں نہیں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آئیڈیلز کے بغیر وعدوں اور دعووں سے آگے کچھ نہیں رہ جاتا۔ میں انہیں آخری بات جمعہ کے روز کلفٹن میں ملا جہاں انہوں نے مجھے، جاوید سومرو اور مظہر عباس کو بلا رکھا تھا تا کہ وہ اگلی پبلک میٹنگ کے لیے ہمیں مدعو کریں لیکن اپنے سٹوری ڈیڈ لائن کی وجہ سے ہمیں انکار کرنا پڑا۔ پریس کانفرنس کے کچھ دیر بعد مجھے پیغام ملا کہ 70 کلفٹن پر فائرنگ ہوئی ہے۔ روڈز بلاک تھے، میں فوری طور پر مڈ ایسٹ ہسپتال کی طرف بھاگا۔ میں نے دیکھا کہ زخمیوں کو اندر لے جایا جا رہا تھا۔ ناصر حسین اپنا سر دیوار پر مار رہے تھے۔ مرتضی بھٹو کا قتل ہو چکا تھا۔ بے نظیر ہسپتال کے اندر دھاڑیں مار مار کر رو رہی تھیں۔ غنوی بھٹو اپنی بیٹی فاطمہ بھٹو کو ساتھ لیے غمگین ایک طرف کھڑی تھیں۔ ایک بار بھر گڑھی خدا بخش کا قبرستان غم سے بھرے لوگوں کو اپنی طرف کھینچ لایا تھا۔ ملک بھر میں پھر سے بد نظمی پھیل چکی تھی۔

اس لمحے مجھے نصرت بھٹو کا رہ رہ کر خیال آ رہا تھا جنہوں نے پہلے اپنے خاوند کو کھویا، پھر چھوٹے بیٹے شاہنواز بھٹو کو کھویا اور اب اپنے بڑے بیٹے جن کی سیاسی جھگڑے میں وہ ساتھی تھیں کو بھی کھو چکی تھیں۔ میں نے فاطمہ سے ملاقات کی جس نے اپنے والد کی یادوں پر ایک تفصیلی گفتگو کی۔ تب میں نے سوچا کہ بھٹو خاندان کی باگ ڈور اپنے ہاتھ میں لیں گی لیکن وہ ایک مصنفہ بن گئیں اور اب وہ میری دوست بھی ہیں۔

2007میں جنرل پرویز مشرف نے ملک میں ایمرجنسی نافذ کر دی اور تمام نیوز چینلز پر پابندی لگائی۔ جب صحافیوں نے مزاحمت کی تو انہیں پولیس نے سخت تشدد کا نشانہ بنایا۔ میں اس دوران کچھ سینئر صحافیوں کے ہمراہ حراست میں بھی رہا۔ جب پولیس سٹیشن میں ہمیں لے جایا گیا تو بے نظیر نے فون کر کے ہمارے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا۔ انہوں نے جیو کا بھی دورہ کیا اور عمران اسلم، میر ابراہیم اور مجھ سے ملاقات کی۔ کارساز حملے میں وہ بال بال بچی تھیں۔ میں نے انہیں کہا کہ وہ ٹائم بم کی طرح ہر لمحہ خطرے میں ہیں اس لیے انہیں اپنی سکیورٹی پر بہت دھیان دینا ہو گا ۔ انہوں نے جواب دیا: جب باہر عوام کا سمندر مجھے ملنے آیا ہو تو میں اندر چھپ کر کیسے بیٹھ سکتی ہوں؟ کچھ ہفتے بعد ہی انہیں قتل کر دیا گیا۔ تب میں گڑھی خدا بخش میں تھا۔ سندھ بھر میں ماتم چھا گیا۔ ذرا سی بات سے حالات کنٹرول سے باہر ہو سکتے تھے لیکن پارٹی لیڈرشپ نے عوام کو ٹھنڈا کیا۔ میں نے بلاول اور ان کی بہنوں کی اپنی ماں کےلیے فاتحہ پڑھتے دیکھا۔ میں سوچ رہا تھا کہ آئندہ کبھی مجھے یہاں کسی کود فنانے نہ آنا پڑے۔ اس پارٹی کے ساتھ میری بہت سی اچھی، بری ، افسوسناک اور خوش خبری سے بھری یادیں جڑی ہیں۔ اب میں پچاس سال کا ہو چکا ہوں اور پارٹی کے بھی پچاس سال پورے ہو چکے ہیں۔ پچھلے چند سالوں میں مجھے کینسر سے لڑنا پڑا اور مجھے جیت ملی۔ پارٹی کے اندر بھی بہت سے کینسر ہیں جن کا پارٹی کو مقابلہ کرنا ہے۔ میں نےاس بیماری سے یہ سیکھا ہے کہ یہ اندرونی ہی رہتی ہے اور باہر کے عوامل اس پر اثر انداز نہیں ہوتے۔ یہ اندر سے ہی شروع ہوتی ہے۔ یہی حال پیپلز پارٹی کا ہے۔ اس کی مشکلات اندرونی ہیں جن سے پارٹی کو لڑتے رہنا ہے تا کہ پارٹی کی بقا ممکن ہو سکے۔


Courtesy:https://www.dawn.com/news/1374387

 

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *