سامنے داتا دربار اور پیچھے غنڈے

عمر علی خان

Omar Ali Khan

دو ہفتے قبل جمعہ کی رات میں اپنے دوستوں کے ساتھ پرانے لاہور میں ڈنر کے لیے گیا۔ یہ داتا صاحب عرس کی آخری رات تھی اور لاہور کی بڑی سڑکیں جن میں مال روڈ، آزادی چوک شامل ہیں اس دن بلاک تھیں۔ ہم نے انار کلی میں گاڑی پارک کی اور رکشہ میں لوہاری پہنچے۔ وہاں سے ہہم نے پیدل داتا دربار جانے کا فیصلہ کیا۔ زیادہ تر گلیاں بند تھیں۔ موڑی گیٹ کے پاس ہم ایک چیک پوسٹ سے گزرے اور سامنے ایک بڑی چیک پوسٹ دکھائی دی۔ وہاں سے میں نے پولیس افسر کو فیملی سمیت اندر جانے کا راستہ پوچھا۔ اس نے پوچھا: آپ نے کہاں جانا ہے؟ میں نے بتایا کہ میں فورٹ روڈ جانا چاہتا ہوں۔ اس نے ہمیں رکنے کو کہا اور کچھ منٹ بعد ہمیں اندر جانے دیا جب کہ دوسرا پولیس آفیسر اپنی ڈیوٹی میں مشغول ہو گیا۔ جب ہم دربارکے قریب سے گزرے تو میری ایک دوست نے ایک نوجوان کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ وہ ہمارا پیچھا کر رہا تھا۔ میں نے اس بات کو نظر انداز کر دیا لیکن اچانک وہ آدمی ہم سے آگے بڑھ گیا۔ جب وہ آگے بڑھا تو میں نے اپنی دوست کو اسے لات مارتے ہوئے دیکھا۔ میں نے گھبرا کر پوچھا کہ کیا ہوا ہے؟ دوست نے بتایا کہ وہ اسے چھو کر گزرا تھا۔ اگر کوئی بہادر شخص ہوتا تو اسے روک کر اسکی خبر لیتا۔ میں نے واپس دربار کی طرف مڑجانے کا فیصلہ کیا جہاں پولیس موبائل کھڑی تھی۔ جب ہم جا رہے تھے تو ہم نے اس سرخ شرٹ والے شریر کو دوبارہ دیکھا لیکن اس بار اس کے ساتھ 15 کے قریب لوگ تھے۔ انہوں نے ہمارے گرد گھیرا بنا کر ہمارا راستہ روک لیا اور ہمیں دربار سے دوسری طرف جانے پر مجبور کر دیا۔ ہم نے دوسری طرف جانے کا سوچا تو وہاں بھی انہوں نے راستہ روک لیا۔ ان میں سے ہر کوئی میری دوست کی طرف جان بوجھ کر ہاتھ بڑھاتا اور میری دوست اسے ہاتھ پیچھے ہٹانے اور راستہ چھوڑنے کا کہتی۔

کچھ دوسرے لوگوں نے دیکھا کہ ہمارے ساتھ یہ واقعہ ہو رہا تھا تو وہ ہماری مدد کو پہنچے۔ انہوں نے مل کر ان لوگوں کا حصار توڑا اور میں اور میری دوست نے جھک کر باہر نکلنے کی کوشش کی۔ لیکن کامیابی نہ ہوئی۔ کچھ دیر میں میرا کالر کسی نے پکڑ لیا۔ پھر مجھے بہت سے گھٹنوں سے سر پر چوٹیں لگائی گئیں۔ کوئی یہ کسی خاص مقصد کےلیے کر رہا تھا۔

مجھے سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ کیا کروں۔ میرا دماغ ماوف ہو رہا تھا۔ اس نے مجھے کہا کہ ہمیں جلد از جلد وہاں سے نکلنا چاہیے۔ ہم نے ایسا ہی کیا۔ پیچھے سے ایک شخص نے آواز لگائی کہ یہاں آو۔ سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ وہ اچھے لوگوں میں سے ہے یا برے لوگوں میں سے۔ لیکن ہم اس کے ساتھ چل دیے۔ ہمارے پاس اور کوئی راستہ بھی نہ تھا۔

دو یا تین منٹ بعد ہم پولیس افسران کے قریب پہنچے تو انہوں نے ہمیں پریشانی کی حالت میں دیکھا۔ انہوں نے ہمیں کھانا دینے کی پیش کش کی اور ہماری پریشانی کی وجہ بار بار پوچھی۔ انہوں نے پوچھا کہ ہم کہاں سے ہیں اور کہاں جا رہے ہیں۔ ہماری کہانی سن کر انہوں نے ہماری مدد کرنے کی ٹھانی۔ ہمارے ساتھ 10 افسران چل دیے تا کہ بحفاظت ہمیں اس علاقے سے باہر نکالیں۔ افسران ہمیں جلدی جلدی چلنے کی ہدایت کر رہے تھے اور انہیں شک تھا کہ غنڈوں کا گروہ پھر سے نہ آ دھمکے۔ ان کی پریشانی درست تھی۔ کچھ ہی دیر بعد جب ہم باہر نکلنے ہی والے تھے ہم نے اسی غنڈہ گروپ اور سرخ رنگ کی شرٹ والے شخص کو دیکھا۔ وہ پولیس کے ہمراہ ہمارے پیچھے پہنچ چکا تھا۔ جلدی ہی ہم باہر نکل آئے۔ ہم نے پولیس والوں کو شکریہ ادا کیا اور رکشہ میں بیٹھ کر گھر آ گئے۔ اگلے دن جب میں نے یہ واقعہ اپنی بہن کو سنایا تو انہوں نے کہا کہ ایسا تو ہر روز ہوتا ہے۔

اس کے انداز سے مجھے ایسا لگا جیسے اس کے ساتھ بھی ایسا واقعہ ہو چکا ہو۔ میں نے اس سے وضاحت نہیں مانگی کیونکہ اس سے میری پریشانی بڑھ سکتی تھی۔ لیکن یہ واقعہ بہت افسوسناک تھا۔ مجھے اندازہ ہوا کہ اگر یہ سچ ہے تو اس کا مطلب ہے ہ یہاں خواتین کو کس قدر تکلیف کا سامنا رہتا ہے اور وہ اس تکلیف کو چھپائے رکھنے پر مجبور ہیں۔ میں تو یہ سوچ کر بھی کانپ جاتا ہوں۔

یہ بہت مشکل معاملہ ہے کیونکہ اس واقعہ سے مجھے معلوم ہوا ہے کہ خواتین کو ہر جگہ ہراساں کیا جاتا ہے چاہے اس کے ساتھ مرد ہو یا نہ ہو اور چاہے دن ہو یا رات۔لیکن مردوں کو اس بات کا اندازہ تب تک نہیں ہوتا جب تک وہ خود آنکھوں سے ایسے واقعات نہیں دیکھ لیتے یا خود ایسے کاموں میں ملوث نہیں ہوتے۔

اس واقعہ سے مجھے اندازہ ہوا کہ ہمارے ملک میں خواتین کس قدر غیر محفوظ ہیں۔مردوں کو گھر سے نکلتے وقت اس قدر احتیاط اور خطرات کا مسئلہ نہیں ہوتا کیونکہ انہیں لگا ہے کہ وہ محفوظ ہیں۔ میرے لیے اپنی دوست کے ساتھ ایسے واقعہ کا سامنا کرنا میری آنکھیں کھولنے کےلیے کافی تھا اور مجھے سمجھ آ گئی کہ کسی بھی چیز کو فار گرانٹڈ نہیں لینا چاہیے۔

کچھ کرنا ہو گا لیکن کیا، یہ مجھے نہیں معلوم۔میں اس وقت یہ اس امید سے لکھ رہا ہوں کہ میری آواز عوام تک پہنچے اور خاص طور پر ان لوگوں تک بھی جو اس واقعہ کے ذمہ دار تھے۔ سرخ شرٹ والے بدمعاش کو میں بتانا چاہتا ہوں کہ اس کےلیے میرے دل میں صرف نفرت اور بد دعا ہے کہ اسے کہیں چین نہ ملے۔

اس کے ساتھ جن لوگوں نے ہماری مدد کی انہوں نے یقینی طور پر دو زندگیاں بچائیں۔میں پولیس کا بھی شکریہ ادا کرنا چاہوں گا۔ ہم اکثر پولیس پر تنقید کرتے ہیں لیکن تعریف نہیں کرتے۔ اس رات جب مجھے پولیس کی سب سے زیادہ ضرورت تھی تب وہ موجود تھے۔ انہوں نے ہماری حفاظت یقینی بنائی۔ میں ان پولیس والوں کا خاص طور پر شکریہ ادا کرتا ہوں۔


Courtesy:https://blogs.tribune.com.pk/story/60554/as-a-man-i-was-oblivious-to-the-reality-of-women-getting-harassed-in-public-spaces-until-that-one-night-at-data-darbar-changed-everything/

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *