ایک بامقصد زندگی جینے والے اردشیرکاوس جی

Photo-Irfan-Hussain-sb-2

میں آخری بار اردشیرکاوس جی سے چند ماہ پہلے ملا تھا جب مجھے معلوم ہوا کہ ان کی صحت بہت خراب ہے۔ ان کے پاس ان کے بہت سے چاہنے والے موجود تھے۔ جتنی دیر میں وہاں رہا انہوں نے میرا ہاتھ تھامے رکھا اور اپنے پیار اور شفقت کا اظہار کیا۔ ہم ایک دوسرے کی آراء سے اختلاف رکھتے تھے لیکن اہمیت دیتے تھے۔ کاوس جی بھٹو کے بہت سخت مخالف تھے جس کی وجہ یہ تھی کہ بھٹو نے ان کی کمپنی کو سرکاری کھاتے میں شامل کر لیا تھا اور انہیں گرفتار بھی کروایا تھا۔ لیکن انہیں دوسرے سیاستدانوں سے بھی بہت سی شکایات تھیں۔ کافی مشقت کے بعد سندھ گورنمنٹ نے کووازجی کو پولیس پروٹیکشن فراہم کر دی۔ ان کو سب سے زیادہ تکلیف دہ چیز کراچی کے لینڈ مافیا لگتی تھی۔ وہ ہفتہ وار کالم میں سیاستدانوں اور لینڈ مافیا کو کھری کھری سناتے تھے ۔ وہ اپنے شہر کی لینڈ سکیپ کو تباہی سے بچانے کےلیے سالوں عدالت کے چکر لگاتے رہے ۔ بلڈر اور قبضہ گروپ کو ہر روز کسی نہ کسی طرح اندیشر کی وجہ سے عدالتوں کا منہ دیکھنا پڑتا تھا۔ وہ شہری نامی این جی او کے بہت پرستار تھے جو 90 کی دہائی میں غیر قانونی تعمیرات کو روکنے کے لیے بنائی گئی تھی۔ جب میرے بھائی ناوید جو اس این جی او کے بانیوں میں سے ایک تھے کو ان کے آفس میں ہی 1997 میں قتل کیا گیا تو اردشیرکاوس جی آخری وقت تک ہسپتال میں ان کے ساتھ تھے۔ اس حملے سے کاوس جی کو معلوم ہوا کہ لینڈ مافیا کتنا خطرناک ہے۔ کاوس جی ہمیشہ ایک باعزت شخصیت کے طور پر جانے جاتے تھے۔ وہ بہت اچھے لباس میں ملبوس رہتے اور زندگی کے ہر لطف سے اپنے آپ کو محظوظ کرتے۔ انہوں نے اپنی دولت کو اپنی خواہشات کے مطابق خرچ کیا جیسا کہ ان کی سپورٹس کار اور دوسری چیزون کو دیکھ کر اندازہ ہوتا ہے۔

پاکستان میں ان سے زیادہ امیر بہت لوگ ہیں لیکن ان کی طرح کا فلئیر کسی کے پاس نہیں ہے۔ وہ جب میرے گھر آتے تو میری ماں کےساتھ گپ شپ لگاتے ۔ میری ماں کو ان کی مزاحیہ فطرت اور گجراتی لہجہ بہت پسند تھا۔ وہ ہر جملہ 'ارے' یا 'سالہ' لفظ سے شروع کرتے تھے۔ وہ امراء کو تگنی کا ناچ اس لیے نچا پاتے تھے کہ ہر شخص کو ان کا مزاحیہ مہذب انداز پسند آتا تھا اور وہ انہیں ہر قسم کی معلومات دینے کے لیے تیار ہو جاتا تھا۔ دنیا بھر میں ان کے بہت سے قارئین تھے ۔ وہ ایڈیٹوریل کٹ سے بہت پریشان ہوتے تھے اور بلیو پنسل کے استعمال پر گھنٹوں بحث کرتے تھے۔ ایک امیر پارسی فیملی سے تعلق رکھنے والے کاوس جی انسانیت دوست شخص تھے جو کہ بر صغیر کے لوگوں کی خاص پہچان ہے۔ ان کی کاوس جی فاونڈیشن سے بہت سے طلبا کو مختلف اداروں میں تعلیم کے حصول کا موقع ملا۔ انہوں نے بہت سی زندگیاں بدلیں لیکن کسی کو خبر تک نہ ہونے دی۔

اردشیرکاوس جی کا ہر آرٹیکل امینہ جیلانی کی مدد سے مکمل ہوتا تھا جو ان کی ایسوشی ایٹ اور قریبی دوست تھیں۔ جب کاوس جی کی بیوی نینسی کی وفات ہوئی تو ان کے گھر سنبھالنے کا کام امینہ نے کیا۔ وہ گھر کے تمام انتظامات کو دیکھتیں۔ امینہ خود بھی ہفتہ وار کالم دی نیشن کےلیے لکھتی تھیں۔

ایک چیز جو مجھ میں اور اردشیرکاوس جی میں مشترک ہے وہ ہے کتے رکھنے کا شوق۔ کچھ سال قبل میں نے اپنے کتے جیک رس اور پفن کا ذکر ایک کالم میں کیا۔ امینہ نے مجھے کاوس جی کا ایک فوٹو بھیجا جس میں وہ 4 جیک رسل کتوں کے ہمراہ اپنے بیڈ روم میں موجود تھے۔ میں جب بھی ان کے گھر جاتا تو یہ کتے میری پوری تلاشی لینے کے بعد اپنے مالک کے پاس لوٹ جاتے۔ ان کے پاس ایک کوکایٹو بھی تھا جو کسی بھی مہمان کے آنے پر انہیں آوازیں نکال کر خبر کر دیتا تھا۔

اس کے علاوہ جو چیز ہمارے درمیان مشترک تھی وہ سیکولرزم تھی۔ وہ اکثر جناح کی 11 اگست 1947 کی تقریر کا حوالہ اپنے کالم اور گفتگو میں دیتے ہوئے یہ باور کرانے کی کوشش کرتے کہ قائد اعظم ایک سیکولر پاکستان چاہتے تھے۔ ہم دونوں مذہبی انتہا پسندی کے سخت خلاف تھے اور اسے پاکستان کا سب سے برا مسئلہ سمجھتے تھے۔ کاوس جی کے لیے مذہبی شدت پسندی ان تمام اشخاص اور اقدار کے لیے خطرہ کا باعث تھی جو انہوں نے اس زندگی میں دیکھے اور اپنائے تھے۔ اگرچہ سیاسی معاملات پر ہمارے بیچ اختلاف رہا کرتا تھا لیکن جب میں سیاست کے علاوہ کسی مضمون پر لکھتا تو کاوس جی اسے بہت پسند کرتے تھے۔ ایک بار جن میں نے انارسزم کی فلسفیانہ بنیادوں پر مضمون لکھا تو انہوں نے فون کر کے کہا: سالہ یہ آج تم نے کیا لکھا ہے؟ اگرچہ وہ جنرل مشرف کے سپورٹر تھے لیکن جب مشرف شدت پسندوں سے آہنی ہاتھوں سے نمٹنے میں ناکام رہے تو کاوس جی مشرف سے دور ہوتے گئے۔ وقت کے ساتھ ساتھ وہ پاکستان کے حالات کو دیکھ کر ڈیپریشن کا شکار ہو گئے اور انہیں کوئی امید نہ رہی کہ یہ ملک اپنے خود ساختہ گھاو سے کیسے صحت مند ہو پائے گا۔

اردشیرکاوس جی کبھی کسی بڑے آدمی کی خوشنودی حاصل کرنے کے لیے چاپلوسی نہیں کرتے تھے اور ان لوگوں کو سخت نا پسند کرتے تھے جو اپنے آپ کو بہت عظیم یا ضروری سمجھتے تھے۔ وہ اپنے کالم اور عام گفتگو میں بیوروکریٹس اور سیاستدانوں کو خوب رگڑتے تھے۔ چونکہ کاوس جی  کو کسی قسم کی لالچ نہ تھی اس لیے سیاستدان اور بیوروکریٹ ان کی ایمانداری اور بہادری سے خوفزدہ رہتے تھے۔ جب ان کا انتقال ہوا تو بہت سے ایسے لوگ بھی ان کی موت پر افسوس کرنے آئے جو ان کی زندگی میں ان کی عزت نہیں کرتے تھے۔ لیکن سب سے اہم بات یہ ہے کہ لاکھوں قارئین ان کی تحاریر کی وجہ سے انہیں ایک طویل مدت تک بھلانہیں پائیں گے۔


Courtesy:http://aurora.dawn.com/news/1141106/

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *