نیا پاکستان 

محمد اسلم 
po
نئے پاکستان کے بنیادی خدوخال سامنے آ چکے ہیں۔ کامل یقین ہورہا ہے کہ نئے پاکستان میں ریاست کے محافظ کالی وردی نہیں پہنیں گے۔
وردی پہننے والے محض مُہرے ہوں گے اور انہیں جب چاہیں اصل محافظ کسی چوک میں لیٹا کر ٹانگ بازو توڑ سکتے ہیں۔
قانون سازی دھرنوں میں ہو گی اور اس قانون کی تشریح کا اختیار لاؤڈ سپیکروں میں عمران خان ، طاہرالقادری اور سری خادم حسین جیسے شیریں گفتار لوگوں کو ہو گا۔
قانون کا ماخذ قادری اور سری خادم جیسی قماش کے لوگوں کے خواب ہوں گے۔
نئے پاکستان میں کوئی باقاعدہ پارلیمنٹ ہو گی نہ عدالتیں ہوں گی۔
ہجوم جہاں چاہے دھرنا دے کر قانون سازی شروع کر دے اور خوابوں کی بنیاد پر ہجوم والا انصاف شروع کر دے۔
نئے پاکستان میں قانون کے ضامن بھی ہوا کریں گے جو اپنے عہدے کے ساتھ سادہ کاغذ پر دستخط کیا کریں گے۔
نئے پاکستان میں انعام و اکرام نظم و ضبط قائم کرنے یا پرانے پاکستان کے قانون پر عمل درآمد کے لئے جان کا نذرانہ پیش کرنے پر نہیں بلکہ کالی وردی والوں کی آنکھیں اور سر پھوڑنے پر لفافوں کی صورت میں ملے گا۔
نئے پاکستان میں ایمان خدا کو حاضر ناظر جان کر نہیں لایا جائے گا بلکہ کسی آستانے کے پیر جس کے پیچھے کوئی دستانےوالا ہو ،کے ہاں جا کر لانا ممکن ہو گا۔
نئے پاکستان میں تنخواہیں اور مزدوروں کی اجرت دینے کے لئےدفاعی بجٹ کا استعمال ہو گا اور اکاؤنٹینٹ وردی پہنے ہوئے کم از کم بیس گریڈ کا افسر ہو گا جو لفافوں میں اجرت دیا کرے گا۔
نئے پاکستان میں پرانی عدالتوں کے ججوں کا کردار صرف یہ ہو گا کہ وہ نئے پاکستان کے معماروں کے لکھے فیصلوں پر مہریں لگائیں اور انہیں پڑھے بغیر اپنے نام سے منسوب کریں ورنہ وہ کرپٹ اور داغدار ماضی کے حامل سمجھے جائیں گے ۔
نئے پاکستان کا مالیات کا نظم بہت اعلی ہو گا۔ جب کسی منصوبہ پر کام کرنا ہو تو کسی بھی بڑے سرمایہ دار کو اس کی فائل دکھا کر سپانسرشپ حاصل کی جائے گی۔
نئے پاکستان میں قابلیت کا معیار اپنے باس کو قتل کرنا اور مقبولیت کا معیار جنازے کا سائز ہو گا۔
نیا پاکستان سارے کا سارا ورچوئل ہو گا ۔ اس میں قانون کا ماخذ خواب اور تعبیر صرف فیس بک پر لکھے منصوبے ہوں گے۔
نئے پاکستان میں جب کبھی اللہ تعالی کو اپنے بندوں کو کوئی اشارہ دینا مقصود ہو گا تو کسی دھرنے کے عین اوپر بادل کی ٹکڑی کوئی مخصوص شکل اختیار کرے گی ۔
قدرت کرد گار مے بینم
حالت روز گار مے بینم
اس فارسی شعر کا ترجمہ پیش نہ کر سکنے پر معذرت چاہتا ہوں ۔

اس تحریر کو میری یا محمد اسلم کی تحریر سمجھنے کے بجائے ایک دل جلے اور آنے والے حلات سے خوف زدہ ایک پاکستانی کی تحریر سمجھا جائے 

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *