محمد اظہار الحق۔۔۔’’ اندازِ بیاں اور ‘‘

nasir malik final

معروف انگلش شاعر و نقاد ایس ٹی کالرج نے شاعری کی تعریف کرتے ہوئے کہا تھا کہ بہترین الفاظ کو بہترین ترتیب میں رکھیں تو شاعری جنم لیتی ہے۔دیکھا جائے تو چند دیگر خصوصیات کے ساتھ کالم نگاری کے لیے بھی یہی خوبیاں بنیادی شرائط کا درجہ رکھتی ہیں۔ ہمارے ہاں چند ایک کالم نگار جوکچھ دیگر محاسن کے ساتھ ان خوبیوں کا بہترین استعمال کر رہے ہیں ان میں محمد اظہار الحق صاحب سرِ فہرست ہیں۔عمدہ کالم نگاری کی کوئی بھی ثقہ بند تعریف لے آئیے اظہارالحق صاحب کی کالم نگاری نہ صرف اس پر پورا اتر تی ہے بلکہ اس تعریف کو مذید بہتر اور مکمل بھی کرتی ہے۔مقصدیت ، معنویت اور تاثیر سے مزّیں تحریر اظہار صاحب کی کالم نگاری کو کلاسیک کے درجے تک پہنچا رہی ہے۔
اظہارالحق صاحب قارئین کا ایک وسیع حلقہ رکھتے ہیں۔ان کے پڑھنے والوں کو جو چیز زیادہ پسند ہے وہ ان کی تحریر کا ادبی انداز ہے۔تحریر ایسی کہ تخلیق کے معیار پر پورا اترتی ہے۔ زبان اتنی پُختہ اورنثر اتنی عمدہ کہ رشک آتا ہے۔ اظہار صاحب خود ایک باکمال شاعر ہیں۔ چنانچہ ان کی نثر میں بھی شاعرانہ اسلوب در آتا ہے۔چھوٹے چھوٹے خوبصورت جُملے بسا اوقات کسی غزل کے مصرعے لگتے ہیں۔ میرؔ اور ناصر ؔ کاظمی کے پڑھنے والے ان کی تحریر سے زیادہ لُطف اندوز ہوتے ہیں ۔تحریر میں بے ساختگی، ملائمت اور روانی حیران کُن ہوتی ہے۔ چنانچہ انہیں پڑھنا ایسے جیسے بہتے جھرنوں کامشاہدہ ۔۔جیسے بادِ نسیم کے جھونکوں سے معانقہ !!

Image resultاظہار صاحب وسیع مطالعہ رکھتے ہیں ۔ ان کی وسعتِ مطالعہ قابلِ رشک ہی نہیں قابلِ حسد بھی ہے۔کلاسیک اور جدید ۔۔ مقامی اور عالمی ادب پر گہری نظر رکھتے ہیں۔انتہائی اعلیٰ ذوق کے حامل ہیں ۔شاعری سے بے پناہ شغف ہے۔ اعلیٰ معیار کے ان گنت اشعار انہیں زبانی یاد ہیں۔تحریر میں برمحل اشعار کا استعمال کوئی ان سے سیکھے۔دینی ، ادبی اور تاریخی کُتب کے مستند حوالے اور ان کے مصنفین کے خوبصورت تذکرے آپ کا طرّہ امتیاز ہیں۔مثالیں ، واقعات اور تلمیحات آپ کی نثر کا مسقل زیور ہیں۔نئے لکھنے والوں کے لیے تو آپ ایک ادارے کی حیثیت رکھتے ہیں۔ہمارے ہاں صاحبِ مطالعہ کالم نگاروں کی تعداد زیادہ نہیں ہے۔ زیادہ تر کالم نگار مطالعے کے لیے صرف اخبار و رسائل پر اکتفا کرتے ہیں۔ٹی و ی چینلز اور سوشل میڈیا بھی اب ان کے لیے علم کے ذرائع اور ماخذ بن چُکے ہیں۔ بہت کم لوگ ہیں جو اب تک کتاب سے تعلق نبھا رہے ہیں۔اور مطالعے کے شائق ان معدودے چند لوگوں میں سے ان کی تعداد تو مذید بھی کم ہے جو اپنے مطالعے سے کماحقہ استفادہ حاصل کرتے ہوئے اسے اپنی تحریر میں استعمال کرتے ہیں۔بہت کم لوگ ہیں جن کی تحریر سے ان کے مطالعے کا پتہ چلتا ہے۔دوسری طرف کئی بظاہر بہت پڑھے لکھے اور صاحبِ مطالعہ لوگوں کی تحریر گنجلک اور پیچیدہ ہوتی ہے۔ اُن کا مطالعہ اُن کی تحریر کی روانی کو متاثر کرتا ہے۔ایسی مرصّع مسجّع بھاری بھرکم نثر اُن کی تحریر کو ’’ باوزن ‘‘ تو بنا دیتی ہے لیکن وہ تاثیر سے عاری اور بوجھل ہو جاتی ہے۔سو ! پتہ چلا کہ بے پناہ مطالعہ بھی اچھی نثر نگاری کو گارنٹی نہیں کرتا جب تک کہ آپ اس کا مناسب استعمال نہ جانتے ہوں۔اظہار الحق صاحب اس حوالے سے منفرد ہیں۔اُن کا وسیع مطالعہ اُن کے کالموں کا حُسن ہے ۔۔ یہ اُن کی تحریر میں عُمدگی، شائستگی اور ملائمت پیدا کرتا ہے اور اسے شُستہ اور دلچسپ بناتا ہے۔ ایسے میں اُن کی فا رسی دانی گویا غضب ڈھاتی ہے۔ فارسی اشعار اور مصرعوں کا بر موقع استعمال اُن کی تحریر کو چار چاند لگا دیتا ہے۔اردو، فارسی اور انگلش ادب سے بے پناہ لگاؤ اُن کا اثاثہ ہے۔ اور اس پر مستزاد اُن کا وہ منفرد اندازِ بیاں ہے جو انہیں تمام ہم عصر کالم نگاروں سے ممتاز کرتا ہے۔۔۔سیفؔ نے کہا تھا
سیفؔ اندازِ بیاں رنگ بدل دیتا ہے ورنہ دنیا میں کوئی بات نئی بات نہیں
اظہار الحق صاحب کے کالموں کی ایک اور خاص بات اُن کے موضوعات کا تنوع ہے۔ اُن کا کینوس بہت وسیع ہے۔مذہبی مباحثے ہوں یا سیاسی مذاکرے، تاریخی حوالے ہوں یا شخصی تذکرے ۔۔انہیں ہر موضوع پر کمال دسترس حاصل ہے۔انسانی رشتوں کی خوبصورتی کا بیان ہو یا پھر کسی ظالم کی بربریت اور درندگی کا احوال ۔۔کسی فرشتہ صفت انسان کی بات یا پھر انسانی بھیس میں کسی شیطان کا تذکرہ ۔۔غرض یہ کہ اک ’’ Shoe horn ‘‘ سے لے کر بین الا قوامی مسائل تک اظہار صاحب نے جس موضوع پر بھی لکھا حق ادا کر دیا۔۔ اُن کا کمال یہ ہے کہ وہ بظاہر عام اور معمولی سے موضوع کا انتخاب کرتے ہیں اور پھر اپنی مشّاقی سے اُسے شاہکار بنا دیتے ہیں۔ یوسفیؔ صاحب نے عطا ء الحق قاسمی صاحب کے بارے میں کہا تھا کہ اتنا لکھتے ہیں لیکن تازگی نہیں جاتی۔ اظہار صاحب کے بارے میں کہا جا سکتا ہے کہ اتنا زیادہ لکھنے کے باوجود تحریر میں خوبصورتی اور دلچسپی ختم نہیں ہوتی۔
اظہار صاحب کا ’’ نسٹیلجیا‘‘ اکثر اُن کے ساتھ رہتا ہے۔گاؤں کی زندگی ، اپنا بچپن ، خالص خوراک ، دادی اماں کے ہاتھ کے پراٹھے ، بزرگوں کی باتیں۔۔ اُن کے خاص موضوعات ہیں۔اور ان کا Treatment اتنا خوب ہوتا ہے کہ پڑھتے ہوئے آنکھیں بھیگ جاتی ہیں۔وہ حیران کُن مشاہدہ اور بلا کا حافظہ رکھتے ہیں۔اُن کی منظر نگاری اور تصویر کشی ایک ماہر ادیب کا پتہ دیتی ہے۔اُن کی تحریر سوچ کو تحریک دیتی ہے۔میتھیو آرنلڈ نے عظیم انگریزی شاعر ولیم ورڈز ورتھ کے بارے میں کہا تھا کہ بہت شاعر گزرے ہیں لیکن جس طرح ورڈز ورتھ ہمارے احساسات کو جگاتا ہے اس طرح کوئی اور نہیں کر سکا۔اظہار صاحب کی تحریریں ہمارے تخیّل کو جلا بخشتی ہیں ۔۔ ہمیں غوروفکر پہ آمادہ کرتی ہیں۔۔ یہ ہنر اور سلیقہ بھی کہیں اور نہیں ملتا۔
اظہار الحق صاحب ایک صاحبِ اسلوب شاعر اور بہترین کالم نگار ہی نہیں ایک شاندار انسان بھی ہیں۔۔بڑے محبتی اور شفیق انسان۔۔بچوں سے ان کی محبت اور اس کا اظہار عدیم المثال ہے۔ بے حد مہمان نواز اور کھانا کھلانے کے شوقین ہیں۔انتہائی اعلیٰ درجے کے بیوروکریٹ رہے لیکن ان کی سادگی اور ملنساری قابلِ تقلید ہے۔اُن کی گفتگو ایسی عمدہ اور دلچسپ ہوتی ہے کہ گھنٹوں پاس بیٹھے رہیں وقت کا پتہ نہیں چلتا۔ایک امریکی مصنف کہتا ہے کہ کتابیں انسان کو تبدیل نہیں کرتیں لیکن ایک چھوٹا سا پیراگراف اور بعض اوقات محض ایک دو جُملے انسان کو بدل دیتے ہیں۔اظہار صاحب ایسے ہی پیراگراف اور جُملے لکھتے ہیں جن سے پڑھنے والوں میں بڑے غیر محسوس لیکن مثبت انداز میں تبدیلی آتی ہے۔یہی وجہ ہے کہ لاتعداد پڑھنے والے اُن کے کالم کا بڑی بیتابی سے انتظار کرتے ہیں ۔۔یہ ناچیز بھی اُن میں سے ایک ہے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *