شکاری

tariq

ھمارے گھر کے قریب ایک خوبصورت پارک ھے۔ اس کے اونچے درختوں پر پرندے چہچہاتے ھیں۔ اور ھواوں کے دوش اٹھکھیلیاں کرتےھیں ۔ اس پارک میں خوبصورت میمیں چھوٹی چھوٹی نیکریں پہن کر اپنے خوبصورت پلوں کے ساتھ واک کرتی ھیں ھم بھی یہاں واک کرنے چلے جاتے ہیں اور یہ پارک اور یہ واک ھمیں بہت پسند ھے۔ اس پارک میں ایک تالاب ھے۔ اور اس تالاب میں سفید اور بھوری بطخیں تیرتی ھیں۔ دھوپ میں اپنے پروں کو سنوارتی ھیں۔ اور مست نیند سوتی ھیں۔ اس تالاب میں رنگ برنگی مچھلیاں ھیں ۔ یہ مچھلیاں تالاب کی لہروں کے ساتھ دوڑتی ھیں۔ تالاب کی سطح پر پڑتی سورج کی کرنوں کے ساتھ آنکھ مچولی کھیلتی ھیں۔ اور عالم مستی میں بےخود ھو کر ھوا میں ذقندیں بھرتی ھیں۔
وہ ایک بارش برساتی شام تھی۔ جب ھماری ملاقات اس شکاری سے اسی پارک میں اسی تالاب کے کنارے ھوئ۔ انگلینڈ کی بارشیں جتنی غیر متوقع ھیں۔ اتنی ھی دھیمی اور نفیس ھیں۔ آسمان سے ایک باریک پھوار گرتی ھے۔ جیسے قدرت نے ململ کی اوڑھنی فضا میں پھیلا دی ھو۔ قوس قزح کے سات رنگ اس اوڑھنی کو دلنشیں بنا دیتے ہیں ۔ اور اس اوڑھنی کے نیچے زندگی کا معمول جاری رھتا ھے۔ وہ شام بڑی سہانی تھی۔ پارک تقریبا خالی تھا۔ ایک درخت کی اوٹ میں ایک نوجوان جوڑا اس رومان پرور ماحول کو مزید رومانوی بنا رھا تھا۔ ھم نے کن اکھیوں سے اس جوڑے کے رومانس کو دیکھا۔ اس جوڑے نے بیباکی سے ھمیں دیکھا۔ اور واپس رومانس میں مصروف ھو گئے۔ ھمارے اندر سے ایک ٹھنڈی آہ نکلی اور ھم چلتے چلتے تالاب کے کنارے پہنچ گئے۔ وہ شکاری وہاں موجود تھا۔ ھم اس کے ساتھ بنچ پر بیٹھ گئے۔ اور شکار ھوتی مچھلیوں کا نظارہ کرنے لگے۔ وہ شکاری اپنی ڈوری سے خوراک باندھ کر پانی میں پھینکتا۔ کچھ دیر بعد ڈوری میں حرکت ھوتی۔ شکاری اپنی ڈوری کو کھینچتا ۔ ڈوری میں پھنسی مچھلی کو کانٹے سے چھڑواتا اور واپس پانی میں پھینک دیتا۔ ھم حیران ھو کر یہ منظر دیکھتے رھے۔ آخر دھیرے سے پوچھ لیا۔ اے شکاری یہ کیا کھیل ھے ؟ اگر مچھلیاں واپس تالاب میں ڈالنی ھیں۔ تو پکڑنا چہ معنی دارد؟ ھماری بات سن کر وہ بوڑھا شکاری اپنے پوپلے منہ سے ھنسنے لگا۔ اس کی آنکھیں بند ھو گئیں۔ ان میچی ھوئ آنکھوں کو اس نے اپنے ھاتھوں سے کھولا۔ اور کہنے لگا۔ وہ ستر سال سے یہ کھیل کھیل رھا ھے۔ وہ مچھلیاں پکڑتا ھے۔ اور واپس تالاب میں ڈال دیتا ھے۔ ھم نے حیران ھو کر پوچھا۔ اگر مچھلیاں پکڑنی نہیں تو اتنی محنت ، پیسہ اور وقت کے ضیاں کی کیا ضرورت ہے ۔ اس دوران ڈور میں حرکت ھوئ۔ اس نے ڈور کھینچی۔ مچھلی کو آزاد کیا اور واپس تالاب میں ڈال دیا۔ میری جانب دیکھا اور فخر سے بولا۔ یہ اس کی پچاسویں مچھلی تھی۔ ھم نے شرارت سے مسکرا کر کہا۔ وہ کیسے کہہ سکتا ھے۔ یہ پچاسویں مچھلی تھی۔ ھو سکتا ھے یہ ایک ھی مچھلی ھو اور پچاسویں بار پھنسی ھو۔ یوں وہ بھی آپ کے ساتھ کھیل رھی ھو۔ ھماری بات سن کر وہ بوڑھا شکاری دل اور منہ اور آنکھیں کھول کر زور زور سے ھنسنے لگا۔ اور پھر اس کی آنکھیں آپس میں چپک گئیں۔ اس نے ایک بار پھر اپنے ھاتھوں سے اپنی میچی ھوئ آنکھوں کو کھولا۔ اور کہنے لگا۔ اگر ایسا ھے بھی تو پھر کیا ھے۔ وہ چھوٹی مچھلیوں کو کچھ نہیں کہتا۔ البتہ جو مچھلیاں اپنے قد کاٹھ میں بڑی ھو جاتی ھیں۔ وہ انہیں نہیں چھوڑتا۔ ستر سالوں سے وہ اس تالاب کو کئی ایسی مچھلیوں سے پاک کر چکا ھے۔ کیونکہ ان بڑی مچھلیوں سے تالاب کی سلامتی خطرے میں پڑ جاتی ہے اور اس کا کھیل متاثر ھوتا ھے۔ وہ ان مچھلیوں کو پکڑتا ھے۔ ان کا سائز چیک کرتا ھے۔ اور فیصلہ کرتا ھے۔ انہیں زیر آب رکھنا ھے۔ یا بے آب کرنا ھے۔ یہ کہہ کر وہ بوڑھا شکاری اپنے جھریوں بھرے چہرے سمیت ھنسنے لگا۔ شام گہری ھو چکی تھی۔ آسمان پر گہرے بادل چھاے تھے۔ اور فضا میں گہرا اندھیرا اتر رھا تھا۔ اس اترتے اندھیرے میں اس بوڑھے شکاری کے پوپلے منہ سے نکلتے قہقہوں پر کسی بد روح کا گمان ھو رھا تھا۔ ھم وہاں سے اٹھے اور گھر کی راہ لی۔ کچھ دیر بعد پلٹ کر دیکھا۔ تو وہ بوڑھا شکاری اپنے ھاتھوں سے اپنی میچی ھوئ آنکھیں کھولنے کی کوشش کر رھا تھا۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *