حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو مصلوب کرنے کی جگہ

11

بیت المقدس۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی نبوت پر ایمان لانا ہر مسلمان پر فرض ہے۔ اسی واسطے سے مشرق وسطیٰ کے مسلمانوں نےحضرت عیسیٰ علیہ السلام کے گرجا گھر کی دل و جان سے بڑھ کر حفاظت کی۔ کہتے ہیں کہ کہ مشرق وسطیٰ کے انتہا پسند حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو مصلوب کرنے کے بعد ان کا ہر نام و نشان مٹا دینا چاہتے تھے جبکہ غیر مسلم انتہا پسند گرجا گھر کو نقصان پہنچانا چاہتے تھے۔ حالتِ جنگ میں مسلمانوں نے اپنی جان سے زیادہ اس گرجا گھر کی حفاظت کی۔ چرچ کی تعمیر میں مسلمانوں کا حصہ ہے۔ اس کی کنجی صلیبی جنگ کے زمانے میں سلطان صلاح الدین ایوبی کے پاس تھی۔ پھر گاہے بگاہے جاری ہونے والے شاہی فرمانوں اور ڈگریوں کے بعد سلطان صلاح الدین ایوبی سے ہوتی ہوئی یہ کنجی مسلمان خاندان ادیب جودے کو مل گئی۔

آج بھی بیت المقدس کے قدیم شہر میں عیسائیوں کی ایک عظیم ترین عبادت گاہوں کی حفاظت پر مامور ہے۔ وہ اس کا دروازہ کھولتا ہے اور سیاح اس کا جائزہ لیتے ہیں۔ عبادت کرتے ہیں اور پھر چلے جاتے ہیں۔ اس جگہ کے بارے میں کچھ اختلاف پایا جاتا ہے، تاہم اکثر یہودی یہی سمجھتے ہیں کہ غالباً اسی جگہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو مصلوب کیا گیا تھا اور یہ کنجی اس کے خاندان کے پاس 1187ء میں پہنچی۔

یہ میرے لیے بڑی خوشی کی بات ہے کہ میں مسیحیوں کی ایک عظیم عبادت گاہ کا والی ہوں۔ 53 سالہ ادیب نے خوشی سے کنجی دکھاتے ہوئے کہا۔ اسی علاقے میں نصیبے نامی ایک اور قدیم مسلمان خاندان مقیم ہے۔ چرچ کو کھولنا اس کی حفاظت کرنا اور آمدورفت کے بعد دوبارہ لاک کر دینا اسی خاندان کی ذمہ داری ہے۔ یہ عام کنجیوں جیسی نہیں، لگ بھگ 12 انچ لمبی اور 2.50 سو گرام یعنی نصف گرام وزنی ہو گی۔ اس کو پکڑنے کےلئے مضبوط گرفت کی ضرورت ہے۔

مورخین اس کنجی کی تاریخ کے بارے میں متفق نہیں ہیں۔ بعض مبصرین کے خیال میں یہ کنجی سلطان صلاح الدین ایوبی نے ان دو خاندان کے حوالے کی۔ بیت المقدس میں اس زمانہ میں بھی مسلمانوں کا ہی غلبہ تھا۔ وہی اس کو کھولتے تھے اور وہی اس کی نگرانی پر مامور تھے۔ اس زمانہ میں شاہی فرمانوں کے ذریعے سے خلافت عثمانیہ نے بھی یہ کنجی ادیب کے بزرگوں کے حوالے کی اور پھر پشت در پشت منتقلی کے بعد اب ادیب اور اس کا اہلخانہ اس کا کسٹوڈین ہے۔

بیت المقدس کا یہ قدیم حصہ اب یہودیوں کے تسلط میں ہے، تاہم یہاں تینوں الہامی مذاہب کی قدیم عبادت گاہیں قائم ہیں۔ مشرقی بیت المقدس پر 1957ء میں قبضہ ہوا تھا۔ اس وقت سے اب تک اسرائیل نے پورے شہر کو اپنا غیر تقسیم شدہ دارالحکومت قرار دے رکھا ہے۔ عالمی برادری کو اس اسرائیلی نقطہ نظر سے اتفاق نہیں، فلسطینی تو پہلے ہی مسترد کر چکے ہیں۔ فلسطینی اسے اپنا دارالحکومت کہتے ہیں، جسے ابھی بننا ہے۔

ادیب کے مطابق یہ کنجی لگ بھگ 8 سو سال پرانی ہے۔ پھر اسی کنجی کی ڈپلیکیٹ چابی بھی اس کے پاس موجود ہے، یہ بھی اتنی ہی پرانی ہے۔ ادیب کہتا ہے کہ میں آٹھ برس کا تھا جب سے میں اس کے بارے میں سن رہا ہوں۔ یہ باپ سے بیٹوں تک پشت در پشت منتقل ہو رہی ہے اور اب یہ 30 برس سے میرے پاس ہے۔ اس گرجا گھر کی بلڈنگ یونانی قدامت پرستوں، آرمینین اور رومن کیتھولک کے ہاتھ میں ہے۔ اس کے مختلف حصوں پر اپنا قبضہ جمانے کے لیے گھائے بگھائے ان میں تنازعات جنم لیتے رہتے ہیں۔

مسیحائی سکالر یسکا ہیرانی نے بھی گرجا گھر کی چابی مسلمان خاندان کے پاس پشت در پشت ہونے کے عمل کو تسلیم کیا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ مسلمان خاندانوں کے بیچ میں آنے کی وجہ سے مختلف عیسائی گروہوں میں امن قائم ہے۔ یہ چرچ یقینا مشترک زندگی کی بہترین علامت ہے۔ ادیب جودے اس چابی کی نمائش بھی کرتا رہتا ہے۔ وہ سلطنت عثمانیہ کی جاری کردہ سرٹیفکیٹس اور ڈگریاں بھی محفوظ ہیں جن کے ذریعے سے یہ چابی اس کے خاندان کو منتقل کی گئی تھی۔ ادیب کے مطابق چرچ کی حفاظت کرنا اس کی کنجی کو محفوظ رکھنا، اس کے لیے بڑا اعزاز ہے اور وہ مختلف گروہوں میں امن کا باعث بنا ہوا ہے ورنہ کسی ایک کے پاس چابی ہونے سے تنازعات جنم لے سکتے تھے۔ اب کبھی وہ اور کبھی اس کی بیگم اس چرچ کو کھولتی ہے۔ یوں یہ عظیم الشان چرچ مسلمانوں اور عیسائیوں میں ہی نہیں بلکہ عیسائیوں کے مختلف گروپوں کے مابین بھی باہمی اتحاد کی علامت بنا ہوا ہے۔

بیت المقدس میں ایک قدیم چرچ واقع ہے، جسے کلیسہ القیامہ کہا جاتاہے۔ یہ چرچ اس جگہ کے قریب ہی واقع ہے جہاں آپ کو مصلوب کیا گیا تھا۔ اس جگہ کو کالوری اور گولگوتھا بھی کہا جاتا ہے۔ چرچ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو مصلوب کئے جانے کی یاد میں اسی جگہ بنایا گیا تھا جس جگہ انہیں مصلوب کیا گیا تھا۔ یہ عالی شان چرچ ہولی سپیلچر نام کہلاتا ہے۔ ایک روایت کے مطابق دوسری صدی عیسوی میں رومن بادشاہ ہادریان نے اس عمارت کی بنیاد رکھنے کے بعد اسے اپنے دیوتا زہرہ سے منسوب کر دیا تھا۔ بادشاہ نے یہاں اس غار کی مٹی لا کر دفن کر دی جہاں مصلوب کئے جانے کے بعد ان کے جسم کو دفنایا گیا تھا۔ بعد ازاں کونسٹنٹائن دی گریٹ کہلانے والے پہلے مسیح بادشاہ کے حکم سے یہ عمارت مندر سے 325 یا 326 میں چرچ میں بدل دی گئی۔

چرچ کی تعمیرات ابھی جاری تھیں کہ آنجہانی بادشاہ کی اماں ہیلینا نے اسی مقام پر سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی باقیات کی دریافت کا دعویٰ کر دیا۔ مگر اس کی تصدیق کہیں سے بھی نہ ہو سکی۔ اسی عمارت کے اندر دو چھوٹے چھوٹے چرچ بھی ہیں۔ نیشنل ٹیکنیکل یونیورسٹی آف ایتھنز کے محققین کے مطابق یہ چرچ رومن باشندوں نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی وفات کے 300 سال بعد تعمیر کیا۔ لہٰذا یہ وہ جگہ ہو ہی نہیں سکتی جہاں آپ کو مصلوب کیا گیا تھا۔

مسیحوں کے مطابق حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو 30 یا 33 سی ای میں مصلوب کیا گیا، مگر شہادتوں سے پتہ چلتا ہے کہ رومن باشندوں نے اس جگہ کا سراغ 326 سی ای میں لگایا اور انہوں نے ہی اس کی آرائش و تزئین کی جبکہ اس گرجا گھر کی تعمیر روم کے پہلے مسیحی بادشاہ نے اسی دور میں شروع کی تھی۔ ان کے مطابق یہ وہی جگہ ہے جہاں سے آپ علیہ السلام آسمان پر اٹھائے گئے تھے۔ تاریخی اہمیت کا حامل یہ چرچ تمام مسیحی گروہوں میں یکساں مقبول ہے بلکہ وہ اس کا کنٹرول حاصل کرنے کے لئے آپس میں لڑتے بھی رہے ہیں۔

قبضے کی یہ جنگ کئی سو سال جاری رہی۔ جن میں رومن کیتھولک، یونانی آرتھوڈاکس اور آرمینیائی اپوسلک پیش پیش تھے۔ چرچ کی ملکیت کے دعوے دار دیگر چھوٹے گروپوں میں شامی آرتھوڈاکس، کوپٹک آرتھوڈاکس اور ایتھوپیائی مسیحی بھی شامل تھے۔ التبہ پروٹسٹنٹ فرقے نے اس چرچ میں کبھی دلچسپ نہیں لی۔ ان کے خیال میں یہ جگہ ذرا تنگ تھی لہٰذاآپ علیہ اسلام کو یہاں مصلوب کیا ہی نہیں جا سکتا تھا۔ وہ اس سلسلے میں دی گارڈن تومب نامی جگہ کو فوقیت دیتے ہیں، یہ کھلی جگہ ہے۔ ایسی ہی جگہوں پر سزائیں دی جاتی تھیں۔

مئی 614 میں ساسانیوں کی حکومت تھی، خسر دوئم کا زمانہ تھا۔ اچانک اس چرچ کو ایک خوفناک آگ نے اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ آگ بجھانے کی ہر کوشش ناکام رہی۔ حتیٰ کہ چرچ جل کر خاکستر ہو گیا۔ اسی زمانے میں یہ چرچ خسر دوئم کی سلطنت کاحصہ بن گیا۔ 630ء میں ہرکولیس نے اپنا اقتدار قائم کر کے چرچ کو اصل حالت میں بحال کر دیا۔ مغربی رپورٹوں کے مطابق مسلمانوں نے اپنے دورِ حکومت دوسرے فرقوں اور گروہوں کی عبادت گاہوں کا خیال رکھا اور ان تقدس بحال رکھا۔ یہی نہیں ان کی حفاظت بھی کی۔

خلیفہ حضرت عمر ابن خطاب رضی اللہ تعالی عنہ نے اس جگہ کا خود معائنہ کیا۔ اس وقت اس کی بالکونی کے ایک حصے میں کچھ مسلمان عبادت میں مصروف تھے۔ آپؓ نے انہیں ایسا کرنے سے منع فرمایا اور چرچ خالی کرنے کا حکم دیا۔ اسی وقت مسلمان وہاں سے چلے گئے۔ انہوں نے سوچا کہ کہیں مسلمان ان ک صفات کے بعد اس چرچ کی جگہ پر مسجد نہ بنا لیں، اس لئے انہوں نے ایک ڈگری جاری کر کے یہاں چرچ کی حفاظت کا حکم دیا تھا جس پر اب تک عمل جاری ہے۔

اس کے بعد مسلمانوں نے اس چرچ کو چلانے اور اس کی دیکھ بھال کا انتظام سنبھال لیا۔ پہلے پہل چرچ کی تاریخ 1000 برس پرانی بتائی جاتی تھی، مگر اب سائنس دانوں اور محققین نے ماربلز، مٹی اور دیگر تعمیراتی اجزا کے تجزئیے کے بعد اسے 1700 برس قدیم قرار دیا ہے۔ کچھ کا کہنا ہے کہ اس جگہ حضرت یسوع مسیح علیہ اسلام کو مصلوب کیا ہی نہیں جا سکتا کیونکہ یہ چرچ ان کے مصلوب کئے جانے سے بھی پہلے بن چکا تھا، تاہم سائنسدان کچھ بھی وثوق سے کہنے سے قاصر ہیں:۔

(یہ تحریر روزنامہ دنیا کے میگزین میں شائع ہوئی)

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *