ڈنگ ٹپاو

tariq ahmed

ھمارے گھر کی ایک ٹیوب لائٹ نے کام کرنا چھوڑا۔ تو ھم اسی کمرے کی دوسری ٹیوب لائٹ سے کام چلاتے رھے۔ چند دنوں بعد یہ ٹیوب لائٹ بھی جواب دے گئی ۔ ھم نے دوسرے کمرے سے ایک اضافی ٹیوب لائٹ اتاری۔ اور پہلے کمرے میں لگا دی۔ کام پھر چلنا شروع ہو گیا۔ پھر دوسرے کمرے میں اکیلی رہ جانے والی ٹیوب لائٹ جلنے بجھنے لگی۔ ھم نے پلگ ھولڈر میں بلب فٹ کیا اور اسے سوئچ بورڈ میں لگا دیا۔ کام چلنا شروع ہو گیا۔ سٹور کی ٹیوب لائٹ کا سٹارٹر کافی دنوں سے خراب تھا۔ چناچہ ھم کچن کی ٹیوب لائٹ کا سٹارٹر نکالتے۔ اس سے سٹور کی ٹیوب لائٹ آن کرتے اور سٹارٹر واپس کچن کی ٹیوب لائٹ میں لگا دیتے۔ اس ایکسرسائز میں ھم دو چار بار گر کر پھٹر ھو چکے ھیں۔ لیکن ھمارا اللہ پر یقین مزید بڑھ گیا ھے۔ ھماری استری کا شو ٹوٹ چکا ہے ۔ ھم استری کی تاروں کو پلگ میں گھسیڑتے ھیں۔ اور ساتھ ھی ماچس کی دو تین تیلیوں کو اس پلگ میں گھسیڑ کر استری کی تاروں کو جکڑ لیتے ھیں۔ ان تیلیوں پر مصالحہ بھی چڑھا ھوتا ھے۔ ھم کپڑے استری کرتےھیں ۔ تاروں سے سپارک پیدا ھوتا ھے۔ لیکن ھمارا یقین ہے موت کا ایک دن معین ھے۔ پہلے نہیں آے گی۔
ھماری واشنگ مشین کرنٹ مارتی ھے۔ اس کی وائرنگ میں کچھ گڑبڑ ھے۔ وجہ اس کی وہ چوھے ھیں۔ جو ھمارے گھر پر قابض ھیں۔ اور واشنگ مشین کی تاروں کو کتر گئے ھیں۔ ان چوھوں کے خلاف ایکشن کلین اپ بنتا تھا۔ ھم بازار گئے۔ ایک کڑکی لاے ۔ اس میں روٹی کا ٹکڑا پھنسایا اور واشنگ مشین کے پاس رکھ دیا۔ صبح یہ ٹکڑا جوں کا توں رکھا تھا اور واشنگ مشین کی تاریں کتری جا چکی تھیں۔ تب سے وھی کرنٹ مارکہ واشنگ مشین ھمارے گھر میں استعمال ھو رھی ھے اور ھم نے اپنا اور چوھوں کا معاملہ اللہ پر چھوڑ دیا ھے۔ اسی طرح ھمارے گھر کی کال بیل بھی کرنٹ مارتی ھے۔ اس کا اندازہ تب ھوا۔ جب بارش کے دن ھم نے اس کال بیل پر انگلی رکھی اور ھماری چیخ سن کر ھماری بیگم نے دروازہ کھولا ۔ ھم نے احتیاط" اس کال بیل کے نیچے ایک نوٹس چسپاں کر دیا ۔ گھنٹی بجانے سے پرھیز کریں۔ یہ کرنٹ مارتی ھے۔ لیکن یہ نوٹس بیکار ثابت ھوا ھے۔ چناچہ ھمیں کال بیل کی آواز اور مہمان کی چیخیں ایک ساتھ سنائی دیتی ھیں۔
اسی طرح ھمارا ریفریجریٹر ھمارے کنٹرول میں نہیں ھے۔ کبھی وہ بند ھو جاتا ھے۔ کبھی خودبخود چلنے لگتا ھے۔ زیادہ دن بند رھے تو ھم اسے کھول کر دھو ڈالتے ھیں۔ یہی حالت ھمارے ٹی وی کی ھے۔ آن کرنے پر یہ چلتا نہیں ۔ چناچہ اسے ایک تھپڑ لگائیں۔ تو تصویر آ جاتی ہے ۔ اب بات تھپڑ سے جوتی پر آ چکی ھے۔ اور ھم نے ایک اسپیشل جوتی اسی مقصد کی خاطر مستقل ٹی وی کے اوپر رکھ چھوڑی ھے۔
ھمارے گھر کے نلکوں کی ٹوٹنیاں اکثر خراب رھتی ھیں۔ چناچہ ھم نے ایک ٹوٹنی کے منہ میں مسواک دے رکھی ھے۔ جبکہ دو ٹوٹنیوں کو ازار بند سے باندھ رکھا ھے۔ یوں گھر میں ھی مسجد کا سماں باندھ رکھا ھے۔ ان ٹوٹنیوں کی بڑی سہولت ھے۔ انہیں کھولیں۔ تو پانی فوارے کی صورت نکلتا ھے۔ اور نہ چاہتے ھوے بھی چہرہ دھل جاتا ھے۔
ھمارا سوئ گیس کا چولہا تو بہت ھی نرالہ ھے۔ یہ اوپر سے بھی آگ دیتا ھے۔ اس کے نیچے سے بھی آگ نکلتی ھے۔ اور سامنے سے بھی آگ نکلتی ھے۔ اس فالتو کی آگ کو ھم اپنے ھاتھوں سے بجھاتے ھیں۔ اسی طرح ھمارے گھر پر قابض جوھے اس چولہے کے ربر پائپ کو بھی کتر جاتے ھیں۔ جہاں سے گیس لیک ھونی شروع ھو جاتی ھے۔ چناچہ آپریشن ری پیئر کے تحت ھم نے اس ربر پائپ پر جگہ جگہ پلاسٹک ٹیپ کی چیپیاں چڑھا رکھی ھیں۔ اور یہ ھمارا روز کا معمول ھے۔ ادھر ھماری پانی والی ٹنکی روز رات کو بھر کر اوور فلو کرنا شروع کر دیتی ھے۔ پانی چھتوں میں جاتا رھتا ھے۔ صبح سویرے ھمارا پہلا کام یہی ھوتا ھے۔ ٹنکی کا نل بند کر دیں۔
ھمارے گھر کے فرشوں اور دیواروں میں چیونٹیوں نے اپنی کالونیز بنا رکھی ھیں۔ ھمارے گھر کے دروازوں میں سیونک کا بسیرا ھے۔ جبکہ ھماری برساتی میں بھڑوں نے چھتے بنا رکھے ھیں۔ اور عملی طور پر یہ برساتی انہی بھڑوں کے قبضے میں ھے۔ چونکہ یہ چیونٹیاں اور سیونک اور بھڑیں ھمارے ھی گھر میں رھتی ھیں ۔ چناچہ ھمارا خیال ھے۔ یہ ھماری اپنی ھیں۔
آپ کہیں گے۔ ھم اپنے گھر کو ڈنگ ٹپاو پالیسی کے تحت چلا رھے ھیں۔ ورنہ ان تمام مسائل کا مستقل حل موجود ھے۔ لیکن پرابلم یہ ھے۔ ھم ان ڈنگ ٹپاو پالیسیوں کے عادی ھو چکے ھیں۔ دوسرے یہ کہ ھم ان مصروفیات کے عادی ھو چکے ھیں ۔ اگر ھم نے ان کا مستقل حل نکال لیا۔ تو پھر ھم کیا کریں گے۔ اور آخری بات یہ کہ ان ڈنگ ٹپاو پالیسیوں سے ھم مسلسل خطرات میں گھرے رھتے ھیں۔ اور یہ خطرات ھمیں خدا کی یاد سے غافل ھونے نہیں دیتے

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *