انوکھے فیصلے اور اوکھا جٹ!

naeem-baloch1
اوکھے جٹ کو کوئی پروا نہیں تھی کہ اس کی بات کوئی سنتا ہے یا نہیں ، بس وہ اپنی ہانکے چلا جا رہا تھا :’’ آف شور کمپنی اثاثوں میں شو نہ کرنا ٹھیک ہے ، کسی کے کہنے پر منی ٹریل غلط دینا بھی کوئی غلط کام نہیں ،بار بار بیان بدلنا بھی کوئی بری بات نہیں،بغیر کسی ذریعہ آمدن کے انتہائی لش پش زندگی بسر کرنا بھی کوئی قابل اعتراض بات نہیں ۔۔۔ واقعی بعض جرم واقعی جرم نہیں ہوتے ۔۔۔ اور اوئے شاہ محمود قریشی ! جا تیری سنی گئی ! اوئے ترینا ۔۔۔ تیرے جہاز کو آگ لگ گئی اوئے ، اب کیا کرو گے ۔۔۔جو داغ نواز شریف کو لگا وہی تمہیں لگ گیا ، اب کس منہ سے عمران تمہارا جہاز استعمال کرے گا ؟؟ کیا اب وہ شیخ رشید کے سگار پر بیٹھ کر سفر کرے گا کہ اس کی دم سے بھی دھواں نکلتا ہے ؟واقعی قانون اندھا ہوتا ہے لیکن سچ پوچھو تو مجھے تو یہی لگتا ہے کوئی اور اندھا ہے ، اوئے تہاڈی۔۔۔ سری ‘‘
’’لگتا ہے تونے پی لی ہے ۔۔۔ ایسے اول فول بکے جا رہا ہے ۔۔۔۔ چپ ہو جا ! ‘‘ عدلیہ کے خلاف بات کرتا ہے ۔ اداروں کے خلاف منہ کھولتا ہے !!‘‘
اس نے جب اس کی کنپٹی پر ایک رکھی تو وہ بلبلا اٹھا اور کچھ لمحے خاموش رہنے کے بعد بولا :’’اچھا اب نہیں بولتا لیکن ایک کہانی سنائے بغیر نہیں رہ سکتا ۔۔۔‘‘ اور جواب کا انتظار کیے بغیر پھر بولنے لگا : ’’ ایک خوب صورت عورت نے اپنے مشہور شوہر کی شہرت کی بنیاد پرکسی ساہوکار یہودی سے قرض لے لیا ۔ یہودی بھی شیکسپئر کے کردار ’’ شائلک ‘‘ سے متاثر نکلا۔ بولا :خاتون قرض دیر سے ملا تو تمہارے شوہر کے جسم سے ایک پاؤ گوشت کاٹ لوں گا ۔ بیوی دل میں ہنسی کہ بڑا احمق شخص ہے ، بھلا ایسا کیسے ہو سکتا ہے ۔ مسکراتے ہوئے شرط مان لی اور رقم لے لی۔ شومئ قسمت سے اس کا شوہر لٹ لٹا گیا اورکنگال ہوکرلوٹا۔ لیکن ساہوکار کو اس سے کیا غرض تھی ۔ وہ تو پہنچ گیا مطالبہ لے کر ۔۔۔مقروض مگر مشہورشوہر کہنے لگا کہ میرے پاس تو کچھ نہیں ، چلو قاضی کے پاس چلتے ہیں ۔ بیچارے کو کچھ امید تھی کہ قاضی اس کی مجبوری کا کچھ تو لحاظ رکھے گا ۔ یوں وہ قاضی کے پاس چل دیے ۔ ‘‘
’’اب یہ مت کہہ دیا کی اس مقروض شوہر کا نام عمران نیازی تھا ! ‘‘
’’ بھائی میں کچھ نہیں کہہ رہا میں تو کہانی سنا رہا ہوں ۔ ۔۔تو وہ یہودی ساہوکار کے ساتھ قاضی کی عدالت میں حاضر ہونے کے لیے چل پڑا۔قاضی کی عدالت بڑ ے شہر میں تھی جو وہاں سے خاصا دور تھا۔ راستے میں مقروض شوہر نے ایک کسان کو دیکھا۔ وہ گدھے پر اناج لادکر جا رہاتھا۔ اچانک اس کا گدھاایک کھائی میں گر پڑا۔ کسان نے شوہر صاحب کو مدد کے لیے پکارا۔وہ بہت مددگار قسم کا بندہ تھا فوراً گدھے کو اٹھانے کے لیے آگے بڑھا۔مگر اپنی افتاد طبع کے باعث اس نے گدھے کی دم کو اس طریقے سے مروڑا کہ گدھے نے پورا زور لگا کر اٹھنے کی کوشش کی ۔ اب یا تو گدھے پر بوجھ زیادہ تھا یا بیچارے شوہر کی قسمت خراب تھی۔ گدھے کی ریڑھ کی ہڈی ٹوٹ گئی۔ کسان نے یہ دیکھا تو شوہر صاحب کو پکڑلیااور کہا کہ گدھے کی قیمت ادا کرو۔ اس نے مظلوم سی صورت بنا کر کہا کہ بھئی پیسے ہوتے تو اس ساہوکار کو ادا نہ کردیتا۔چلو تم بھی چلو قاضی کے پاس !‘‘
’’ تمہارے کہنے کا مطلب ہے کہ کسان اصل میں ان لوگوں کی مثال ہے جن کا دھرنا شو کی وجہ سے اربوں روپے ڈوب گئے ۔’’
’’ میں نے یہ نہیں کہا ، تم اپنا لچ بیچ میں مت تلو ، بس کہانی سنو ۔۔۔ راستے میں رات ہو گئی تو انہوں نے سرائے میں رات بسر کرنے کا فیصلہ کیا۔ سرائے میں ایک بارات آکر ٹھہری ہوئی تھی جواسی شہر کی طرف جارہے تھے۔ بارات کے ساتھ تماشا دکھانے والے بازی گر بھی تھے۔ رات کے کھانے کے بعد جب بازی گروں نے تماشا شروع کیا تومشہور مگر مقروض شوہر بھی انہیں دیکھنے لگا۔ بازی گر رستے پر چلنے کے کرتب دکھا رہے تھے۔ عامر یہ منظر دیکھنے کے لیے رسے کے پاس کھڑا ہو گیا۔اسی وقت اسے چھینک آئی اور غیر ارادی طور پر اس کا ہاتھ اس بانس سے ٹکرایا جس سے رسا بندھا تھا۔ بانس ہلنے سے رسا بھی ہلا اور بازی گر نیچے آن گرا۔بازی گر زمین پر گرتا تو اور بات تھی مگر وہ دولہے کے باپ پر گرا ۔ دولہے کے باپ نے پانی بھی نہ مانگا اورمر گیا۔دولہا نے مقروض کو پکڑ لیا اور کہا کہ میرے باپ کا قصاص ادا کرو۔ وہ بولا: ’’قصاص کے لیے پیسے ہوتے تو میں اس مصیبت ہی میں نہ پھنستا۔‘‘ اور یوں وہ بھی قاضی کے پاس جانے کے لیے ان کے ساتھ ہو گیا۔‘‘
’’اورتمہارے خیال میں اس دولہا کا نام طاہرالقادری تھا !‘‘
’’یہ تمہارا خیال ہو گا، میں تو کہانی سنا رہا ہوں ، جس کے مطابق اگلی صبح قافلہ آگے روانہ ہوا۔ شہر کے پاس انہیں دور ایک گھوڑا بھاگتا ہوا اپنی طرف آتا دکھائی دیا۔ اس کے اوپر ایک سوار بیٹھا تھا جو شور مچار رہا تھا کہ گھوڑے کو روکو۔ مقروض شوہر نے ایک لاٹھی پکڑ کر گھوڑے کو روکنے کی کوشش کی تو لاٹھی گھوڑے کی آنکھ میں جا لگی جس سے وہ کانا ہو گیا اور یوں گھوڑے والا بھی اس کو قاضی کے پاس لے جانے والوں میں شامل ہو گیا۔‘‘
’’اور شاید اس گھوڑے کے مالک کانام جہانگیر ترین تھا ۔‘‘
’’ اور یار ،سر نہ کھاؤ بس آگے کہانی سنو ۔ جس کے مطابق شوہر صاحب مزید حادثے کے بغیر قاضی کے پاس پہنچ گئے۔
‘‘ کہیں قاضی کا نام ثاقب نثار تو نہیں تھا؟‘‘
’’لا حول ولا قوۃ ! کہانی سننی ہے کہ نہیں ؟ اور پھر خود ہی کہنے لگا : ’’اس نے سب سے پہلے یہودی ساہوکارکا مقدمہ سنا ۔ قاضی نے یہودی کی بات سننے کے بعد مقروض شوہر سے پوچھا تو اس نے سارا واقعہ تفصیل سے بتایا کہ کیسے اس کی قسمت ایسی بگڑی کہ اسے نقصان پر نقصان ہوتا رہا۔ قاضی نے Mario Puzoکا گاڈ فادر ہی نہیں ، شیکسپئر کا مرچنٹ آف وینس بھی پڑھ رکھا تھا ۔یہودی سے کہا کہ تمہارا مقدمہ ثابت ہو گیا ہے۔ اس لیے تم مقروض کے جسم سے ایک پاؤ گوشت کاٹ لو مگر یاد رہے کہ اس کے جسم سے خون کا ایک قطرہ بھی نہ گرے کیونکہ تمہاری شرط کے مطابق مقروض گوشت دینے کا پابند ہے نہ کہ خون دینے کا اور یہ بھی کہ تم پاؤ سے زیادہ ایک تولہ گوشت زیادہ نہیں کاٹ سکتے ! یہودی بولا: ’’ بھلا یہ کیسے ممکن ہے ؟‘‘ تب قاضی بولا: ’’ پھر گوشت بھی نہیں لے سکتے ‘‘ ۔ یہودی خاموش ہو گیا تومقروض بولا:حضور اس کی وجہ سے مجھے بہت نقصان ہوا ہے۔ اور پھر اس نے راستے میں ہونے والے واقعات کا ذکر کیا۔
قاضی نے یہودی سے کہا: ’’ تم خون بہائے بغیر شوہر صاحب کا گوشت نہیں لے سکتے۔ اس لیے تمہارا مقدمہ خارج کیا جاتا ہے۔ البتہ عدالت کاوقت اورمقروض کو نقصان پہنچانے کا جرمانہ ادا کرنا پڑے گا۔‘‘ اس طرح یہودی کو پانچ سودرہم جرمانہ ادا کرنا پڑا۔
اس کے بعد کسان نے اپنا بیان دیا ۔ قاضی نے کہا کہ جس طرح کی کھائی میں تمہارا گدھا گرا تھا، اسی طرح ایک اورگدھا کھائی میں گرایا جائے اور تم اس کی دم مروڑنا تاکہ گدھے کی ریڑھ کی ہڈی ٹوٹ جائے اور تمہارا بدلہ ادا ہوجائے۔
کسان بولا: ’’حضور یہ ضروری تو نہیں کہ اس طرح کرنے سے گدھے کی کمر ٹوٹ جائے۔‘‘
قاضی بولا: ’’اس کا مطلب ہے کہ تم مانتے ہو کہ تمہارے گدھے کی کمر محض اتفاق سے ٹوٹی تھی اور اس میں مد عا الیہ مقروض کا کوئی ارادہ نہیں تھا۔‘‘ کسان کوئی جواب نہ دے سکا۔ یوں اس کا مقدمہ بھی خارج کردیا گیا۔ البتہ عدالت اورمقروض کو تنگ کرنے پر اسے پانچ سو درہم جرمانہ ہوا۔اب دلہا ڈرتا ڈرتا آگے بڑھا ۔ قاضی نے بیان سننے کے بعد کہا کہ ٹھیک ہے ، تمہارے والد ہلاک ہو گئے اور اس کی وجہ بظاہر یہ مقروض مگر مشہور شوہر ہی ہے۔ لہٰذا ایک بازی گر کو رسے پر چڑھاکر مدعا الیہ کو نیچے کھڑا کرتے ہیں۔ تم رسہ ہلانا۔ بازی گر اس پر گرے گا تو تمہارا بدلہ پورا ہوجائے گا۔۔۔ آنکھ کے بدلے آنکھ ، کان کے بدلے کان ۔۔‘‘دولہا بولا: ’’ حضور اگر بازی گر مقروض شوہر پر گرنے کے بجائے زمین پر گرا تو وہ مارا جائے گا اور مجھے اس کا قصاص ادا کرنا پڑے گا۔‘‘قاضی فوراً کہنے لگا: ’’ بالکل ، یقیناًادا کرنا پڑے گا ۔‘‘
’’ بہت احمق قاضی تھا ؛ یہی فیصلہ یعنی قصاص دینے کا اس نے دولہا کے حق میں کیوں نہ دیا ؟‘‘
’’ بھئی یہ میں نہیں جانتا ، میں تو کہانی سنا رہاہوں ۔ اور یاد رہے کہ میں کہہ چکا ہوں کہ اس کانام ثاقب نثار ہر گز نہیں تھا۔ اس لیے تم آگے سنو ۔ ‘‘ یہ کہہ کر اس نے کہانی دوبارہ شروع کی : ’’ جب دولہاخاموش رہا تو قاضی بولا: ’’ تم بھی پانچ سو درہم جرمانہ ادا کرو، باپ کی موت پر صبر کرو اورجاکر شادی رچاؤ!‘‘اب گھوڑے کے مالک کی باری تھی۔ وہ دیکھ چکا تھا کہ بازی کس طرح پلٹی ہے اور کس طرح لینے کے دینے پڑ گئے ہیں۔ وہ قاضی سے معافی مانگتے ہوئے بولا: ’’حضور مجھے تو معاف ہی کردیں۔ میں اپنا مقدمہ واپس لیتا ہوں۔‘‘ قاضی بولا : ’’ ایسے ہی معاف کر دیں ، تمہیں عدالت کا دروازہ بلا وجہ کھٹکھٹانے پرجرمانہ ضرور ہو گا۔‘‘ اور یوں اس کو دوسو درہم جرمانہ ادا کرنا پڑا۔اس سارے جرمانے کی آدھی رقم مقروض شوہر کو ملی اور آدھی سرکاری خزانے میں جمع ہوگئی۔اس انوکھے فیصلے پر مقروض شوہر بہت خوش ہوا اور اللہ کا شکر اور قاضی کاشکریہ ادا کرتے ہوئے الیکشن کی تیاری ۔۔۔ او معاف کیجیے گا ہنسی خوشی زندگی بسر کرنے لگا ۔ ‘‘

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *