پاکستانی اسٹیبلشمنٹ

tariq

پاکستانی اسٹیبلشمنٹ طاقتور اداروں اور اھم ترین شخصیات کا ایک ایسا کوآپریٹو اتحاد ھے۔ جو اپنے آپ کو نہ صرف ذہین ترین ، منظم اور کامیاب سمجھتا ھے۔ بلکہ ان خصوصیات کی بنا پر قومی مفاد طے کرنے اور عوامی پالیسیاں بنانے میں خود کو عقل کل اور حرف آخر کے طور پر پیش کرتا ھے۔ اسٹیبلشمنٹ کے شراکت داروں میں ھائ رینکنگ آرمی آفیسرز ، سینیر سول بیوروکریسی، سینیر ججز، اھم سرمایہ کار اور صنعت کار اور اھم میڈیا ھاوسز کے مالکان اور ان کے مخصوص میڈیا ملازمین شامل ھیں۔ کچھ مذھبی گروہ بھی ان میں شامل کیے جا سکتے ہیں ۔ اسٹیبلشمنٹ کے ان تمام کرداروں کو خفیہ ایجنسیاں قوت فراہم کرتی ہیں ۔ متحد رکھتی ھیں۔ اور قومی سلامتی اور داخلہ و خارجہ پالیسیاں بنانے میں مدد فراہم کرتی ھیں۔ اسٹیبلشمنٹ کا یہ یقین ھے۔ ملک کے سیاستدان ملک چلانے کے اھل نہیں جبکہ عوام کی اجتماعی ذہانت ناقابل اعتبار اور ناقابل فہم ھے۔ یہیں سے اسٹیبلشمنٹ کی بالادستی کا تصور جنم لیتا ہے اور سویلین اتھارٹی کو تسلیم کرنے سے انکار کیا جاتا ہے ۔ اسٹیبلشمنٹ کے ان تمام کرداروں میں خفیہ ایجنسیاں سب سے زیادہ پاورفل ھیں اور فوجی افسروں سمیت تمام اداروں کو کنٹرول کرتی ھیں۔ جو سویلین شخصیت اس بالا دستی کو چیلنج کرتی ھے۔ یہ تمام کردار باھم مل کر اس کا باجا بجا دیتے ھیں۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *