قاسمی صاحب کے خلاف شر انگیز مہم!حقیقت کیا ہے؟

abrar nadeem

اردو ادب کے صاحب طرز ادیب ،کالم نگار ،شاعر ،سفرنامہ نگار،ڈرامہ نویس اور ایک ہمدرد، رحمدل، مخلص اورمحب وطن شخصیت محترم عطاء الحق قاسمی کے خلاف آجکل سوشل میڈیا پر انتہائی بیہودہ مہم چل رہی ہے۔ان کے خلاف اس منفی پراپیگنڈہ مہم کا آغاز اُس وقت سے شروع ہے جب سے آپ نے پی ٹی وی میں وزارت اطلاعات کی بےجا مداخلت اور کرپشن کے خلاف چئیرمین شپ سے استعفیٰ دیا ہے۔لہذا یہ بات سجھنا قطعی مشکل نہیں کہ اس مکروہ اور مذموم مہم کے پیچھے کس کا ہاتھ ہے
۔ قاسمی صاحب کے خلاف اس لڑائی کا آغاز تو دراصل اسی وقت ہوگیا تھا جب بطور چئیرمین آپ نے پی ٹی وی کے تباہ شدہ ادارےکا چارج سنبھالتے وقت ملک کے نامور لکھاریوں کے ساتھ ایک ابتدائی نشست میں اس بات کا اعلان کیا تھا کہ پی ٹی وی کی بحالی کے حوالے سےاُن کا ون پوائنٹ ایجنڈا اس کے سٹوڈیوز آباد کرنا ہے جو ایک طویل عرصے سے ویران پڑے ہیں۔یہ سیدھا سیدھا اس مافیا کے خلاف اعلان جنگ تھا جو پی ٹی وی کے لئے پرائیویٹ پروڈکشن خریدنے اور بیچنے کی آڑ میں اپنے ذاتی مفادات کے لئے ایک طویل عرصے سے ملک و قوم کو اربوں کا نقصان پہنچا کر ادارے کی جڑیں کھوکھلی کررہا تھا۔ اس گروہ نے پرائیویٹ پروڈکشن کی آڑ میں مہنگے داموں ایسے ایسے ڈرامے بھی خریدے جو نجی ٹی وی چینلز پر تین تین بار نشر ہو چکے تھے۔پی ٹی وی کے اندر یہی وہ بگاڑ اورکرپشن تھی جس کی درستگی کے لئے موجودہ حکومت کی طرف سےآپ کا خاص طور پر انتخاب کیا گیا۔
اپنے علمی ادبی پس منظر اور بطور ڈرامہ نگار پی ٹی وی سے ایک طویل وابستگی کے حوالے سےاس ادارے کی بحالی کے لئے سابق وزیر اعظم میاں نواز شریف کی طرف سے آپ کا انتخاب یقیناً اُن کا بہترین فیصلہ تھا جس کے بہت جلد نتائج یوں ظاہر ہوئے کہ پی ٹی وی کے ملازمین کی فلاح و بہبود کے ساتھ اس کے سٹوڈیوز ایک عرصے کے بعد نا صرف آباد ہوگئے بلکہ لوگوں کی ایک بڑی تعداد نے پھر سے پی ٹی وی دیکھنا شروع کردیا۔یہ بات یقیناً ان لوگوں کے لئے باعث پریشانی تھی جو میاں نواز شریف کے فیصلوں کو ہر صورت ناکام بنا کر اپنے مخصوص ایجنڈے پر عمل پیرا ہیں۔ایک وقت تک تو قاسمی صاحب نے اس ٹولے کا ڈٹ کر مقابلہ کیا جب تک انہیں اس وقت کے وفاقی وزیر اطاعات سنیٹر پرویز رشید کی حمایت حاصل تھی جو خود بھی علمی ادبی ذوق کے حامل اور پی ٹی وی کی اہمیت اور اس کے معاملات کو بہت اچھی طرح سمجھتے ہیں مگر ان کے جانے کے بعد یہ گروہ پی ٹی وی کے معاملات میں اس طرح حاوی ہوا کہ قاسمی صاحب نے بے بس ہوکر نا صرف استعفیٰ دے دیا بلکہ اپنے اس استعفےٰ میں کُھل کر اس ٹولے کی نشاندہی بھی کردی جس سے گھبرا کر یہ ٹولہ اپنی اصل اوقات پر اتر آیا اور اپنی گندی ذہنیت اور خباثت کا اظہار قاسمی صاحب کے خلاف بے بنیاد گھٹیا الزامات پر مبنی شر انگیز مہم میں کرنے لگا۔ان لوگوں کے جھوٹ اور فریب کا اندازہ اسی بات سے ہوجاتا ہے کہ یہ سب بکواس انہیں قاسمی صاحب کے استعفیٰ کے بعد ہی کیوں یاد آئی ہے۔یا تو اس سے پہلے یہ لوگ قاسمی صاحب کے “سہولت کار”تھے یا ہوسکتا ہے وہ گھٹیا الزام جو یہ قاسمی صاحب پر لگا رہے ہیں “سچ” ہو مگر ان کی “امی”نے انہیں اس سے بےخبر رکھا ھو۔بقول ان کے قاسمی صاحب جو دوائیاں منگواتے رہے ہیں ان کا کوئی مصرف بھی تو ہوگا اور یہ ایسی راز کی بات یقیناً انہیں ان کی کسی باجی یا امی نے ہی بتائی ہوگی۔اس سے پہلے یہ تقریباً اسی نوعیت کے الزامات ڈائریکٹر نیوز مسعود شورش پر لگا کر انہیں پی ٹی وی کی ملازمت سے برخاست کرواچکے ہیں جبکہ ڈائریکٹر آئی ٹی فخر حمید کے خلاف بھی گمراہ کن پراپیگنڈہ کرکے انہیں اور ان کی کینسر میں مبتلا بیوی کو شدیدمینٹل ٹارچ کے ذریعے ایک ساتھ “قتل”کر چکے ہیں۔رہی بات قاسمی صاحب پر مالی کرپشن کے الزام کی تو یہ بات ریکارڈ پر ہے کہ قاسمی صاحب نے پی ٹی وی کو جوائن کرنے سے اب تک روزنامہ جنگ سے تنخواہ کی مد میں ملنے والے ڈیڑھ دو کروڑ رویئے یہ کہہ کر واپس کردئیے کہ “چونکہ وہ پی ٹی وی سے تنخواہ لے رہے ہیں لہذا جنگ کی طرف ملنے والی تنخواہ ان کے لئے جائز نہیں ھے یہی نہیں بلکہ پی ٹی وی میں ان کی چئرمینی کی ابتدا پر جب انہیں دو لاکھ کا چیک یہ کہہ کر پیش کیا گیا کہ بطور چئیرمین یہ ان کا استحقاق ہے تو قاسمی صاحب نے اسے “لیگل کرپشن” قرار دے کر یہ چیک پھاڑ کر پھینک دیا۔جو لوگ اپنی ثقافت اور اقدار کی اہمیت جانتے ہیں صرف وہی ٹی وی پر قاسمی صاحب کے شو “کھوئے ہووں کی جستجو”کی افادیت سمجھ سکتے ہیں۔یہاں مجھے اس شو پر اعتراض کرنے والوں کے لئے بندر کیا جانے ادرک کا سواد والا محاورہ یاد آرہا ہے۔ان جاہلوں کو یہ اندازہ ہی نہیں اور نہ ہی ان کا دولے شاہ سائز کا دماغ اور “پھینی”عقل یہ بات سمجھ سکتی ہے کہ پی ٹی وی ایک قومی ادارہ ھے جس کا مقصد بزنس نہیں بلکہ نظریہ پاکستان اور اپنی ثقافت اور اقدار کی حفا ظت ہے۔”کھوئے ہووں کی جستجو”اس حوالے سے پی ٹی وی کی تاریخ کا ایک مقبول اورشاندار شو تھا جس میں صدر پاکستان ممنون حسین اور ان کی اہلیہ سمیت زندگی کے مختلف شعبوں ادب،ثقافت،سیاست،قانون،موسیقی سے نابغہ روزگار شخصیات نے شرکت کی اور اپنے تجربات اور یادوں سے سنہری روایات اور اقدار کے حوالے سے گفتگو کرکے نئی نسل کی ذہنی آبیاری کی مگر یہ بات کوئی ذہنی پسماندہ اور معذور کیسے سمجھ سکتا ھے جو یہ کہتا ہے کہ قاسمی صاحب نے یہ شو اپنی ذاتی تشہیر کے لئے شروع کیا تھا۔ قاسمی صاحب جیسی نابغہ روزگار ہستی پر گھٹیا الزامات لگانے والےایسے بیوقوفوں اور کم ظرفوں کی عقل پر ماتم کرنے کے ساتھ زیادہ سے زیادہ صرف یہی کہا جا سکتا ھے”دُر فٹے منہ تُہاڈے ہون تے”

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *