ایک بانی کارکن کا کھلا خط

IMG-20171227-WA0016

سعید اقبال میو

جناب عمران خان صاحب کس نے کہا کہ آپ کو الیکٹیبلز کی ضرورت ھے؟ کس نے پارٹی میں حرام خور داخل کئے ؟آپکو معلوم ھےکہ یہ آپکا آخری الیکشن ہے ؟نہ آپ کو اپنی اسٹبلشمنٹ چاہتی ہے اور نہ انٹرنیشنل پاورز ۔۔۔۔ لیکن عام پاکستانی اور پارٹی ورکر آپ کو نجات دھندہ سمھجتی ھےکہ 2013 کے الیکشن میں پہلی مرتبہ ووٹ آپ کو اور pti کو دئے تھے ۔بعیت آپ سے کی تھیna key مفاد پرست ٹولےکی۔
جناب آپ کو یاد ھو گا ھم سب بیٹھ کر مرحوم بھٹو کی Wave ،بنایا کرتے تھے اس میں کوئی ایلکٹیبلز نہیں تھے ۔ ہاں آپ آج بھی بنا سکتے ہیں شرط یہ ہے کے اپنے ارد گرد قبضہ گروپ ،سمگلرز، سیاسی رسہ گیروں، بدمعاشوں اور جنسی داللوں کو ھٹا کر باھر پیھنکنا پڑےگا۔
آخرکیا وجہ ہے کہ عمران خان جہانگیر ترین کو چور کیوں نہیں مان رھے؟ایسا کرنے سے آپ کا قد چھوٹا نہیں ھو گا ۔
صاف ظاھر ھے کہ یوں کرنے سے انکی نام نہاد تبدیلی کا پول کھل جاتا ھے؟؟؟؟مجھے پتہ ہے پیسہ چائیے لیکن کس قیمت پر ؟خان صاحب یہ ہمارا آخری الیکشن ہے ۔ اس کور کمیٹی کے چکر سے نکلو ۔۔۔۔۔۔۔ اپنے ورکر کو گلے لگاؤ ۔خان جی آنکھیںں کھولو
ابھی پچھلے دنوں ایک انٹرویو دیتے ھوۓ عمران خان کاشف عباسی پر بگڑنے لگے کہ جہانگیرترین نے جو ان سائیڈر ٹریڈنگ سے غیر قانونی پیسہ بنایا ھے وہ کرپشن نہیں ھے کیونکہ جہانگیر ترین نے وہ پیسہ پکڑے جانے پر واپس کردیا تھا ۔ابّ علیم خان کی باری ہے ۔خدا راہ انکی سرپرستی نہ کریں واہ رے تیری قدرت یہ وہ عمران خان ھیں جو ملک میں تبدیلی لانے کے دعویدار ھیں؟؟؟جنکے لیے ھم نے زندگی ضایع کر دی۔ ہمارا قرض ہے آپ پر ۔۔۔۔۔یہ قوم اتنی بری نہیں جتنی آپ سمجھتے ہیں ؟
یہ بات اتنی ھی مضحکہ خیز ھے جتنی وہ منطق جو ایک جیب کترا آپکی جیب کاٹتے ھوۓ پکڑے جانے پر آپکا بٹوہ واپس کر دے اور آپ پر رعب جھاڑے کہ میں نے رقم واپس کردی اب آپ اپنا راستہ ناپیں۔ اور بقول خادم حسین رضوی تیری پین دی سری ترمیم واپس لینے سے یہ مسئلہ حل نہیں ھوگا۔ آخر کو ترمیم کی کیوں گئی۔ یعنی پیسےواپس کرنے سے جرم کا ارتکاب محو نہیں ھوسکتا۔ اور اگر ایسا ھو سکتا تو پھر اس دنیا میں کوئی مجرم نہ رھتا۔ جو پکڑا جاتا وہ نقصان پورا کر کے دوبارہ پاکباز بن جاتا اور جو نا پکڑا جاتاوہ پہلے کیطرح دنیا کی نظر میں باعزت ھی رھتا۔خان جی آپ کو نہیں معلوم کے کون آپ کو عدالتوں کے چکر لگوا رھا ھے؟ کون آپ سے آپکی کمائی کی تفصیل مانگ رھا ہے ؟کون آپ کو سبز باغ دکھا رھا ہے ؟
دوسری طرف آپ کی شکل پر یہ بونگی مارتے وقت جو جھنجھلاھٹ، اکتاھٹ اور بے بسی کا عالم تھا وہ بہت ھی تکلیف دہ تھا۔ ساری قوم یہ منظر دیکھ رھی تھی اور ھمارا لیڈر ایک غلط بات کا بڑی ڈھیٹائی سے تحفظ کر رھا تھا۔ اب سوال یہ پیدا ھوتا ھے کہ آخر عمران خان اس ڈھیٹائی سے جہانگیر ترین کی کرپشن کو ڈیفنڈ کیوں کر رھا ھے؟؟؟اور دوسرے اندر بیھٹے باقی چوروں کو بچا رھا ہے ؟
اور یہ وہ نقطہ ھے جو عمران خان کی سیاست کا اصل روپ آشکار کرتا ھے۔ تبدیلی کے جس نظریے اور ذاتی شفافیت کی جس بنیاد پر عمران خان نے اس قوم کے سامنے بلندوبالا دعوے کیے تھے آج وہ بنیادیں ھل چکی ھیں۔ کیونکہ آج عمران خان کے ان دعووں کی قلعی کھل چکی ھے کہ وہ اس ملک میں تبدیلی کے خواہ ھیں اور کرپشن کا خاتمہ چاھتےھیں کیونکہ انکے اپنے دست راست اسی طرح کی کرپشن میں ملوث ھیں جو وہ دوسری پارٹیوں کے سربراھان میں ڈھونڈتے ھیں لیکن عمران خان ان چوروں کو خود تحفظ دے رھےآپ ھیں۔ یوں پی ٹی آئی اور دوسری جماعتوں کے بیچ فرق ختم ھو جاتا ھےاور یہی وہ حقیقت ھے جس کے آشکار ھونے پر عمران خان بوکھلاھٹ کا شکار ھیں اور ایسی بونگیاں مارنے پر مجبورھیں۔
۔۔۔۔۔۔۔ لیکن نیشنل میڈیا پر بیٹھ کر اس ھٹ دھرمی سے پارٹی کے اپنے کرپٹ لیڈر کا دفاع کرنا عمران خان کیلئے مزید شرمندگی کا باعث ھے اور وہ پڑھےلکھے طبقے میں اپنی ساکھ مزید کھو رھے ھیں۔
ھم نظریاتی ورکرز نے عمران خان کو بہت پہلے مطلع کر دیا تھا کہ انکی پارٹی میں کرپشن اور چوروں کو تحفظ دینے والی پالیسی ایک دن انکے گلے کا ناسور بنے گی۔ آج ھماری پیشن گوئی سچ ھوتی نظر آ رھی ھے۔ لیکن افسوس اس بات کا ھے کہ اس ملک کی عوام کیساتھ ایکبار پھر دھوکہ ھو رھا ھے۔ زرداری اور نواز شریف کی کرپشن سےتنگ آ کر ایک عوامی تحریک کا آغاز پی ٹی آئی کی شکل میں کیا گیا اور عمران خان کو آگے لایا گیا۔ لیکن جب 2011 میں عمران خان آخر کار ایک بڑے پیمانے پر عوامی پذیرائی حاصل کرنے میں کامیاب ھوۓ تو انھوں نے بدقسمتی سے پارٹی میں ایک سیاسی یتیم ڈیکٹیٹر کا روپ دھار لیا اور ایک روایتی مطلق العنان آمر کے طور پر سامنے آۓ۔اور اپنے مخلص کارکنوں کو نظر انداز کر دیا ۔واہ ری شومئی قسمت

ایک طرف ملک میں تبدیلی کی ایجنڈے کومحض نعرے کے طور پر استعمال کیا اور دوسری طرف پارٹی میں جمہوری اقدار کو ھر لمحہ ھر پل تار تار کیا۔ پارٹی میں فنڈز کی چوری سے لیکر جھرلو پارٹی انتخابات تک ھر وہ برا کام کیا جو پی پی پی اور نون لیگ کا وطیرا رھا۔ اب کس منہ سے عمران خان تبدیلی کی بات کرتے ھیں؟

لیکن افسوس ھے تو اس قوم کی قسمت پر کہ واۓ قسمت آسمان سے گرے تو کھجور میں اٹکے۔۔۔ زرداری اور نواز شریف سے بچے تو عمران خان کے چوروں کے ھاتھ پڑ گئے۔ اگر امید ھے تو پارٹی نظریاتی ورکرز سے جو عمران خان پر ایک اخلاقی اورسیاسی دباٶ قائم رکھیں گے اورسچ کا ساتھ دیتے رھینگے۔ عمران خان کو شنید ھو کہ ھم آپکی اندھی تقلید نہ پہلے کرتے تھے نہ اب کرینگے۔ آپ کا ساتھ ملک کی بہتری کیلئے دیا تھا۔نواز شریف جیسے کرپٹ کو جہانگیر ترین، علیم خان، نعیم الحق، پرویز خٹک اور عون چودھری۔اعجاز ڈیال۔ منشاء سندھو۔گوندل برادرز فرام منڈی بہاو الدین۔ جیسے کرپٹ سے بدلنا مقصود نہیں تھا!!! یہ بھی نظریہ غلط ہے کے فرشتے کہاں سے لاوں۔ ۔۔۔اگر میں کرپٹ نہیں تو باقی بھی نہیں ہوں گے۔
آپ نے KPK میں دیکھ لیا ۔۔۔۔۔۔۔کے اندر اندر کیا کھچ نہیں ھو رھا اور کون کونسے گل نہیں کھلاے جا رھے۔میری یہ تحریر ایک ورکر اور ہر پاکستانی کی آواز ہے اس پہلے کے یہ خط ایک تحریک بن جاے آپ کو کوئی قدم ھٹاناپڑےگا۔

والسلام
سعیداقبال میو. (ٹورنٹو)
بانی رکن 30 اپریل 1996 سے

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *