لاہور انگلش اسکول

Dr.Azhar waheed

لاہور سے تقریبا سو کلومیٹر کے فاصلے پر ایک گاؤں ہے جسے ’چورکوٹ‘ (حالیہ احمد آباد) کہتے ہیں ، یہ ضلع قصور کے نواح میں کھڈیاں سے بارہ کلومیٹر اندر واقع ہے.... مگر واقعہ کچھ اور ہے۔ حالات اور وسائل واقعہ نہیں بنتے، واقعہ یہ ہے کہ واقعہ انسان بنتا ہے ....ہاں! جب وہ انسان بننے کی ٹھان لیتا ہے۔ مذکورہ گاؤں سے دو نوجوان اشفاق احمد اور محمد آصف کبھی کبھی ملنے کیلئے آیا کرتے تھے۔ بحمدللہ ! راقم بطور مصنف ، مدیر اور کالم نگار اپنے قارئین سے ملاقات میں کبھی بخل سے کام نہیں لیتا۔ جو شخص تحریر کے حوالے سے ملاقات کی غرض سے گھر چل کر آتا ہے،اس کا حق ہے کہ اس کی میزبانی کی جائے۔ میزبانی صرف چائے پانی تک محدود نہیں ہوتی بلکہ اپنے مہمان کی زندگی کے مسائل کی دریافت اور پھر سد باب کرنا بھی آدب ِ میزبانی میں شامل ہے۔ میزبانی خندہ پیشانی سے شروع ہوتی ہے اور مہمان کے دل کے اندر داخل ہونے تک جاری رہتی ہے۔ جو آپ کے گھر میں داخل ہوتا ہے‘ اخلاق کا تقاضا ہے کہ آپ اس کے دل میں داخل ہو جائیں۔ کسی کے دل میں داخل ہونے کیلئے اپنا دل بڑا کرنا ہوتا ہے۔ کوئی تنگ دل آج تک کسی کے دل میں داخل نہیں ہو سکا۔
آمدم برسرِ مطلب، اشفاق اس گاؤں میں بچوں کو پڑھایا کرتا تھا، کم آمدنی والے لوگ ظاہر ہے کم فیس ہی دے سکتے تھے۔ ایک دن میرے پاس آیا اور کہنے لگا کہ اسکول میں چھت کی ایک کڑی گر گئی ہے ، شکر ہے کوئی بچہ تو زخمی نہیں ہوا لیکن والدین نے ڈر کے مارے اپنے بچوں کو اسکول سے اٹھا لیا ہے۔ اب بچے اتنے کم ہوچکے ہیں کہ خرچہ پورا نہیں ہوتا، اس لیے میں نے سوچا ہے کہ اسکول بند کر دیا جائے، آپ میرے لیے شہر میں کسی نوکری کا بندوبست کریں۔ میں نے کہا‘ برخوردار! تم ایک باصلاحیت گریجویٹ نوجوان ہو، تمہیں تو یہاں بیس پچیس ہزار کی نوکری مل جائے گی لیکن گاؤں میں ان چالیس پچاس بچوں کا کیا بنے گا جو تمہارے اسکول نما ٹیوشن سینٹر میں پڑھ رہے تھے۔ میری بات مانو، وہیں بچوں کو پڑھاتے رہو، صبر سے کام لو، چھت ڈلوانے کا بندوبست ہم کیے دیتے ہیں، وہاں تعلیم و تربیت کا سلسلہ منقطع نہ کرو۔ سعادت مند نوجوان صبر سے بات سنتا رہا، داد طلب بات یہ ہے کہ سال بھر اس پر عمل بھی کرتا۔ بات سن لینے میں بھی سعادت ہوتی ہے۔۔۔۔۔۔ مان لینے میں دو چند ہو جاتی ہے
الغرض اس نوجوان کی مدد کیلئے کچھ مخلص دوستوں کو ہمراہ لے کر اس کے گاؤں پہنچے ، دیکھا کہ وہ جسے اسکول کہہ رہا تھا، ایک بوسیدہ سا "ڈھابا" تھا،اگر وہاں بھینسیں بھی باندھی جائیں تو مائنڈ کر لیں۔ کچی مٹی سے بنی ہوئی کانوں کی چھت تھی جو چند اینٹوں کے ستونوں پر کھڑی تھی ، اور وہ ستون بھی ایسے ٹیڑھے میڑھے کہ مزید کھڑا ہونے سے کسی وقت بھی انکار کر سکتے تھے۔ بیٹھے کو کرسی تک نہ تھی، بچے صف نما چادر پر بستہ کھولے بیٹھے تھے۔ استاد لکڑی کے ٹوٹے ہوئے ایک بینچ پر بیٹھا تھا۔ یہ بھی معلوم ہوا کہ وہ جگہ اس کی اپنی نہیں، فی الوقت اس کے کسی چچا نے اسے بطور احسان دے رکھی ہے۔ چھت کی مرمت تو دُور کی بات ، پورا اسکول ہی مرمت طلب تھا۔ کچھ دوستوں نے رائے دی کہ اگر یہاں چھت تعمیرکی گئی تو ممکن ہے رشتہ دار اس سے یہ جگہ واپس لے لیں گے، اور یہاں اپنی بھینسیں باندھا کریں یا اپنی چوپال قائم کر لیں۔ اس لیے بہتر یہ ہوگا کہ ایسی جگہ عمارت تعمیر کی جائے گا جو اس کی ذاتی ہو.... لیکن درویشوں کے ہاں ”ذاتی“ نام کی جگہ کہاں پائی جاتی ہے۔ مختصر یہ کہ گاؤں سے باہر کھیتوں میں ایک کنال جگہ کا بندوبست کیا گیا۔ گاؤں کے لوگوں کو جب معلوم ہوا کہ شہری بابو کوئی جگہ لینا چاہتے ہیں تو سب نے گاؤں کی زمین شہری قیمت پر بیچنے کا فیصلہ کر لیا۔ ہم نے انہیں بڑا قائل کیا کہ آپ کے گاؤں کے اسکول کیلئے جگہ چاہیے، آپ لوگوں کو بلاقیمت جگہ وقف کردینی چاہیے .... لیکن جمود زدہ لوگ اسے بھی اپنا دشمن تصور کرنے لگتے ہیں جو انہیں جمود کے آزار سے نکالنا چاہے۔ بعض اوقات مریض دوا لینے سے انکار کر دیتا ہے۔ ایسے میں معالج کی ذمہ داری دو چند ہو جاتی ہے۔ معالج یہ کہہ کر اپنا بستہ سمیٹ نہیں سکتا کہ ہم تو علاج کرنا چاہتے ہیں، مریض ہی موت پر راضی ہے تو ہم کیا کریں۔
القصہ گاوں سے باہرکھیتوں کے عین درمیان پانچ کمروں پر مشتمل ایک سادہ سی عمارت اٹھائی گی اور اس زمین کے ملکیتی کاغذات اشفاق کے سپرد کر دیے گئے۔ اشفاق احمد کے اسکول کا نام "لاہور انگلش اسکول" رکھا گیا۔ اس نام کی ایک اور نام سے نسبت ہے۔ مرشدی حضرت واصف علی واصفؒ نے 1960ءکی دہائی میں ایک تعلیمی ادارہ " لاہور انگلش کالج" بنایا تھا۔ درس و تدریس کے باب میں صبح آپؒ تدریس میں مصروف رہتے اور رات کے سمے درس میں۔ گویا صبحدم لوگوں کو جہالت کے اندھیروں سے نکال کر تعلیم میں داخل کرتے اور رات کے آنگن میں ان تعلیم زدہ اور تشکیک شدہ قلوب کو ایمان اور تسلیم کے نور میں داخل کرتے۔ چشمِ فلک نے آپؒ کو صبح و مسا اسی ریاضت میں منہمک پایا ۔ لاہور انگلش اسکول کا مونوگرام حضرت واصف علی واصفؒ کی کتاب” کرن کرن سورج“ کے سرورق سے مشتق ہے ....اور اس پر بطور سلوگن رہنما الفاظ ”تعلیم ، تربیت ، اخلاق“ درج کیے گئے ہیں۔ یہاں کام کرنے والے معلمین اور متعلمین کیلئے یہ الفاظ مشعلِ راہ رہیں گے، انشاء اللہ!
واقعات مکمل ہوئے بغیر ہم خیالات تک نہیں پہنچ سکتے، پہلے واقعات مکمل کرنے دیں.... کسی فنڈنگ اور فنڈ ریزنگ جیسی حرکت کے مرتکب ہوئے بغیر تین قریبی احباب نے اس کارِ خیرکو اپنے ذمے لے لیا۔ ان کے نام بغرضِ درخواست اور اخلاص مشتہر نہیں کیے جا رہے۔ لاہور انگلش اسکول کا پراجیکٹ ایک سال میں مکمل ہوا۔ یوم قائدؒ کی مناسبت سے کل اس کی افتتاحی تقریب تھی....ایک چھوٹے سے کام کا آغاز ایک بڑے دن میں کیا گیا۔ تقریبِ مذکورمیں مہمانوں کی فہرست میں قصور کے ڈی ایس پی عبدالواحد ڈوگر، لاہور نالج پارک کے سی ای او عبدالرزاق، یونیورسٹی آف ایجوکیشن کے پروفیسر ڈاکٹر محمد اقبال شامل تھے۔ ان سب دوستوں نے اہل دیہہ کی خوب ہمت بندھائی اور ہمیں خوب خوب سراہا۔ میں نے اپنی گفتگو میں مختصراً عرض کیا کہ ہمیں اپنے مال کے ساتھ ساتھ اپنے وقت وجود ، وسائل اور تعلقات کی بھی زکوٰۃ نکالنی چاہیے۔ جس طرح زکوٰۃ مال کو پاک کر دیتی ہے ، اس طرح ہمارے دیگر وسائل اور تعلقات بھی جب دوسروں کے کام آئیں گے تو پاک ہوجائیں گے ، ان میں خود غرضی کی نجاست نہ رہے گی۔ خدمت کیلئے ہمیں خود سے فراغت حاصل کرنا ہوتی ہے۔ جب تک ہم خود میں مشغول رہیں گے، اپنے ارد گرد ان لوگوں کے چہرے نہیں پہچان پائیں گے جو ہماری مدد کے مستحق ہیں۔۔۔۔ اور کسی کی مدد لازم نہیں کہ مال ہی سے ہو۔۔۔۔۔ مدد سب سے پہلے وقت اور توجہ مانگتی ہے۔
دراصل فلاحی کاموں کی سب سے زیادہ ضرورت وہاں ہوتی ہے جہاں لوگوں کو اس کا شعور بھی نہ ہو کہ انہیں فلاح چاہیے۔ روشنی کی ضرورت وہاں ہوتی ہے جہاں اندھیرا ہو۔ احباب کی رائے یہ ہے اس اسکول کو ایک ماڈل فلاحی مرکز کی حیثیت سے پروان چڑھایا جائے ۔ یہاں شام کو تعلیمِ بالغاں کا مرکز، بچیوں کیلئے دستکاری اسکول، گاؤں کے بڑے بچوں کیلئے ٹیکنیکل انسٹیٹیوٹ اور ایک لائیبریری بنائی جائے۔ میری تجویز تھی کہ یہاں ایک کمرے میں فری ڈسپنسری بھی کھولی جا سکتی ہے۔ اس کیلئے میں نے خود کو پیش کیا، بشرطِ توفیق ہفتے میں ایک دن وہاں مریضوں کا علاج کروں گا۔ انشاء اللہ تعالٰی، وما توفیقی الا بااللہ!!
لوگ سمجھتے ہیں کہ وسائل سے کام ہوتا ہے ، اس کام کے دوران میں معلوم ہوا کہ کام جذبے سے ہوتا ہے۔ انسانی جذبہ کرامات ایجاد کرتا ہے۔ جذبہ وسائل کو از خود اپنی جانب متوجہ کرتا ہے۔ کشش جذبے میں ہوتی ہے، لوگ وسائل کو پُرکشش جانتے ہیں۔ کوئی شخص کبھی اتنا غریب نہیں ہوتا کہ وہ کسی کی مدد نہ کر سکے۔ ہم معاشرے کی جس بھی سیڑھی پر قدم رکھے ہوئے ہیں، کچھ لوگ ہم سے آگے ہوں گے اور کچھ پیچھے۔ کام صرف اتنا ہے کہ اپنے سے نیچے والوں کو اوپر آنے میں مدد دیں.... ان کا بازو پکڑ لیں!! صرف اتنے سے کام سے معاشرے میں غربت اور جہالت دُور ہو جائے گی۔ غربت پیسے کی کمی سے نہیں بلکہ خود غرضی سے پیدا ہوتی ہے۔ حکومتوں کا گلہ شکوہ کرنے بجائے صرف اپنے حصے کا دیا جلاتے جائیں.... چراغاں ہو جائے گا۔ کالم کی صورت میں یہ چند سطور تحریر کیے دیتے ہیں‘ تاکہ سند رہیں اور بصورتِ تحریک کچھ دلوں کے کام آئیں!!

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *