قاسمی، گند کی بالٹی اور قارئین

ahmed hammad

احمد حماد

محترم عطاءالحق قاسمی کے خلاف آج کل ایک مکروہ پروپیگنڈہ جاری ہے۔

میرے تمام قریبی دوست جانتے ہیں اور گواہی بھی دیں گے کہ میں نے آج تک جنابِ عطاء الحق قاسمی سے اپنی ذات کے لیے کوئی کام نہیں کہا۔ نہ کبھی ان کی خدمت میں کوئی عرضی لے کر حاضر ہوا۔ نہ کسی کو ان سے فون کروایا کہ فلاں ٹی وی شو کا حصہ بنا لیں، فلاں مشاعرہ پڑھا دیں یا فلاں اخبار رسالے میں کچھ شائع کروا دیں۔ کبھی بھی نہیں، اپنا کام انہیں کبھی بھی نہیں کہا۔

حقیقت تو یہ ہے کہ جب وہ پی ٹی وی کے چئیرمین بنے، ان سے ملاقاتیں بہت کم ہو گئیں۔ فون پہ رابطہ بھی تب ہوتا جب میں ان سے کسی مشاعرے کی صدارت کرنے کے لیے درخواست کرتا۔ اور اکثر انہوں نے آنے سے معذرت ہی کی۔ یا کبھی کبھار وہ کوئی اچھا میسیج وٹس ایپ کر دیتے۔ یہ میسیج وہ اپنے بہت سارے دوستوں کے ساتھ ساتھ ہم جونئیرز کو بھی کرتے۔ ہمیں ان کی طرف سے شگفتہ یا حب الوطنی پہ مبنی میسیجز وصول کر کے عزت افزائی کا احساس ہوتا۔

ہم بس ایک بار ایک ٹی وی پروگرام کا پروپوزل لے کر ان کے دفتر حاضر ہوئے، وہ بھی اپنے شو کے لیے نہیں؛ پروگرام میرا نہیں تھا، مگر انہوں نے فرمایا چند ماہ بعد آنا۔ تاہم جن کا آئیڈیا تھا، وہ کہیں مصروف ہو گئے۔ اس طرح یہ کام بھی نہ ہو سکا۔

کہنے کا مطلب یہ ہے کہ قبلہ قاسمی صاحب کی طرف سے رویہ اگرچہ ہمیشہ ایک شفیق بزرگ کا سا رہا، مگر ہم ادب احترام کے مارے ان کے رعب کے باعث ان کے پاس جانے سے ہمیشہ جھجھکتے رہے۔ یوں، لوگوں کے خیال میں جو کام قاسمی صاحب ہمارے لیے کر بھی سکتے تھے، اس کا موقع کبھی پیدا نہ ہوا۔

پی ٹی وی سے میرا تعلق بہت پرانا ہے۔ اور سراسر محبت پہ مبنی ہے۔ ٹی وی کے بعض پروڈیوسر دوست یہ تو ضرور کہتے کہ یار قاسمی صاحب اتنی شفقت فرماتے ہیں، آپ ان سے ڈائریکٹلی بات کیوں نہیں کر لیتے؟ ہمیشہ ہمیں تجاویز دیتے ہو۔ یا پھر یہ کہتے کہ ون لائنر کی ضرورت ہے۔ لکھ دیں۔ اور سَر سے گزارش بھی کر دیں۔ وہ تو آپ کو بیٹا کہتے ہیں۔ میں عرض کرتا، ون لائنر لکھ دیتا ہوں۔ اسکرپٹ بھی لکھ دیتا ہوں مگر سَر سے بات نہ ہو پائے گی مجھ سے۔ احترام کے باعث ان کے سامنے ہمارے منہ سے کچھ نکلتا ہی نہیں۔

کوئی ایک پروڈیوسر ایسا نہیں ملے گا جو یہ کہے کہ اسے کوئی پریشر تھا یا سفارش تھی قاسمی صاحب کی طرف سے کہ احمد حماد کو فلاں کام دینا ہے فلاں نہیں وغیرہ

یہ سب باتیں میں اب بھی نہ کرتا۔ اپنے بدخواہوں کے زہریلے پراپیگنڈے کے باوجود میں نے کبھی انہیں جواب نہ دیا۔

آج یہ سب اس لیے لکھ رہا ہوں کہ قاسمی صاحب سے میرا تعلق نیازمندی کا ہے۔ ان سے کبھی کوئی مفاد وابستہ نہیں رہا۔ ہم درویش صفت شاعر کسی کے ساتھ مفاد کا رشتہ قائم ہی نہیں کرتے۔ محبت ہمارا دھرم اور منشور ہے اور ہم اسی کے بندے اور پرچارک ہیں۔ قاسمی صاحب سے بھی محبت کا تعلق ہے۔ اور یہ محبت ان کے شگفتہ کالمز، ان کے لازوال ڈرامے اور یادگار سفرناموں کی وجہ سے پیدا ہوئی۔ اس پر مستزاد، ان کی ادبی خدمات۔

میں نے تو جناب احمد ندیم قاسمی اور جناب وزیر آغا کی چشمک میں بھی فریق نہیں بنایا خود کو۔ دونوں کا برابر احترام کیا۔ دونوں بڑے لکھاری تھے۔ ندیم بڑے تخلیق کار تھے اور وزیر آغا بڑے عالم۔ ان دو بڑوں میں فریق تو وہ بنے جو ان کے برابر کا ہو۔ ذاتی طور پہ میں ان دونوں درگاہوں کا معتقد رہا۔ بھلے خالد اقبال یاسر یہ پڑھ کر ناراض ہوں یا میرے پیر بھائی یعنی شاگردانِ خالد احمد۔ ہم نے تو جو دل میں تھا، کہہ دیا۔ ہمیں تو ڈاکٹر انور سدید نے بھی محبت دی اور خالد احمد صاحب نے بھی۔ اللہ تعالیٰ ان سب کے درجات بلند فرمائے۔

قاسمی پی ٹی وی کی چئیرمینی سے مستعفی ہو چکے ہیں۔ ٹی وی کی عظمتِ رفتہ کی بحالی ایسا ناممکن کام آغاز ہو چکا تھا۔ ابھی آغاز ہی تھا کہ قاسمی نے استعفیٰ دے دیا۔

ان کے استعفے کے ساتھ ہی بعض افراد کی جانب سے ان کے خلاف غلیظ پراپیگنڈہ مہم کا آغاز کر دیا گیا۔

میرے خیال میں قاسمی صاحب کے خلاف جو لوگ پروپیگنڈہ کر رہے ہیں وہ تین طرح کے ہیں:

1- جو لوگ خود پی ٹی وی پہ کسی عہدے کے متمنی تھے مگر بوجوہ ان کی دال نہیں گل سکی۔

2- وہ سیاسی مخالفین جن کا طرہ امتیاز صرف گالی دینا یا ٹھٹھہ اڑانا ہے۔ اور ان گالی پسندوں کو ہم سب اچھی طرح جانتے ہیں۔

3- بوٹ پالشیے
۔۔۔

بحیثیتِ میڈیا اسٹوڈنٹ میرا ماننا ہے کہ قاسمی صاحب کے ٹی وی ڈرامے ٹی وی ہسٹری میں کلاسیک کا درجہ رکھتے ہیں۔ شیداٹلی جیسا لازوال کردار، خواجہ اینڈ سن اور دیگر ڈرامے اور کردار۔

بحیثیتِ شاعر میں اس امر کی گواہی دیتا ہوں کہ پی ٹی وی پہ آپ کے آنے کے بعد ادبی اور شعری پروگراموں میں اضافہ ہوا۔ اور بہت سارے نئے شعراء اور لکھاریوں کو قومی چینل کی اسکرین پہ آنے کا موقع ملا۔

رہا ان کی ذاتی زندگی کا معاملہ تو ہم میں نبی تو کوئی نہیں، نہ ہی انہوں نے کبھی ایسا کوئی دعویٰ کیا۔ بشری خوبیاں خامیاں تو ہم سب میں پائی جاتی ہیں۔ قاسمی صاحب میں بھی ہونگی۔

جب بشری خامیاں ہم سب میں موجود ہیں تو ہم قلمکار اپنے قلم قبیلے کو سرِعام رُسوا کیوں کرتے ہیں؟؟؟

سچ بتاؤں تو اس گندی مہم سے قاسمی صاحب کا وقار نہیں گھٹا، بلکہ ایسی بے بنیاد اور حسد پہ مبنی مہم چلانے والوں اور سہولت کاروں سے عام قاری کا قلم کاروں سے نفرت میں اضافہ ہوا ہے۔

کتاب اور خریدار کا رشتہ، قلمکار اور قاری کا رشتہ؛ پچھلے زمانے کی نسبت بہت کمزور پڑ چکا ہے۔ بجائے اس کے کہ ہم سب مل کر اس بحران سے نکلنے کی کوشش کریں، اس فائر-فائیٹ میں شامل ہوں؛ ہم نے بھی غلاظت کی ایک ایک بالٹی اٹھا لی ہے اور ہر اس لکھاری پہ پھینکنے میں مصروف ہیں جو ہم سے آگے نکل رہا ہے۔ اور، نودولتیے، اجڈ، مادہ پرست اور دنیا دار لوگ ہمارا مذاق اڑا رہے ہیں۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *