ایسا تعویذ جو زندگی بدل دے

yasir pirzada

’کوڑی کوڑی کا محتاج تھا، اعلیٰ حضرت کے وظیفے نے کروڑ پتی بنا دیا ۔‘‘
’’عشق و عاشقی میں لت پت تھا، ایک ہی نظر نے پاکیزہ کر دیا ۔‘‘
’’لا علاج مرض کا علاج، حکیم صاحب کے دم نے بھلا چنگا کر دیا ۔‘‘
’’نظر بد نے زندگی اجیرن کر رکھی تھی، ہم نے توڑ کر دیا۔‘‘
’’میں نے تو ایک قطرے سے شفا پا لی، معجزہ ہو گیا۔‘‘
’’میاں بیوی میں ناچاقی تھی، وظیفے سے کایا کلپ ہو گئی۔‘‘
’’گھر میں چور گھس آئے مگر الٹے پاؤں ہی واپس جانا پڑا، کیسے؟ اندر کے صفحات پر تفصیل سے پڑھئے۔‘‘
’’بے مثال حسن پانے کا ٹوٹکا۔‘‘
’’ایک ایسا تعویذ جو آپ کی زندگی بدل دے گا، صدیوں سے ہمارے خاندان کے سینوں میں محفوظ ۔‘‘
’’آج تک ایسا نہیں ہوا کہ اس نسخے سے کسی کا مسئلہ حل نہ ہوا ہو، یہ تیر بہدف ہے، روحانی اور جسمانی ہر طرح کی بیماریوں اور مسائل کے حل کیلئے ۔‘‘
میں جب بھی کسی اخبار، رسالے یا انٹرنیٹ پر اس قسم کے عنوانات پڑھتا ہوں تو سوچ میں پڑ جاتا ہوں کہ وہ کون جی دار ہیں جو آج کل کی دنیا میں ایسے معجزاتی دعوے کرتے ہیں جنہیں پورا کر دکھانا قریباً ناممکن ہے مگر اس کے باوجود تواتر کے ساتھ نہ صرف یہ دعوے کئے جاتے ہیں بلکہ ان کے سچا ہونے کے ’’ثبوت‘‘ بھی دیئے جاتے ہیں۔ کروڑوں لوگ اِ ن دعوؤں پر یقین کرتے ہیں، انہیں بار ہا آزماتے ہیں، ایک دوسرے کو بطور حوالہ بھیجتے ہیں اور صدق دل سے اپنی زندگیوں کو بہتر بنانے کیلئے اِن عملیات اور ٹوٹکوں پر عمل کرتے ہیں۔ پھر خیال آتا ہے کہ اگر اوائل جوانی میں کچھ عملیات مجھ ایسا بندہ آزما سکتا ہے تو کوئی دوسرا اگر یہ کام کرے تو حیرت کیسی! مگر اس تاویل سے بھی بات نہیں بنتی کیونکہ جوانی میں انسان بہت سے کام محض پہلی مرتبہ آزمانے کی خاطر کرتا ہے جبکہ ہمارے اردگرد پھیلے کروڑوں لوگ جو ان دعوؤں پر آنکھیں بند کر کے یقین کرتے ہیں، جوانی کی نادانیوں سے کہیں آگے گزر چکے ہوتے ہیں۔ یہ کروڑوں لوگ کون ہیں، اگر ایسی بڑی تعداد میں یہ لوگ اِن دعوؤں کو سچ مان کر اپنی زندگیوں میں انقلاب برپا کرچکے ہیں تو معاشرے میں اب تک مسائل کیوں ہیں، اور اگر ایسا نہیں ہوا تو پھر لوگ ان عملیات اور ٹوٹکوں پر مسلسل عمل کیوں کر رہے ہیں؟ کیا صرف غریب، دیوانے، ضرورت مند، مجبور، بے کس اور لاچار لوگ جن کی کوئی سفارش ہوتی ہے اور نہ پہنچ، بس وہی ان آستانوں پر اپنی مشکلات کا حل ڈھونڈنے جاتے ہیں یا پھر امیر، پڑھے لکھے اور طاقتور لوگوں کو بھی تعویذ اور عملیات کی ضرورت رہتی ہے؟ بہت سے بقراط اِن سوالوں کا پہلے بھی جواب دے چکے ہیں آج اُن میں ایک بقراط کا اور اضافہ ہو جائے گا، کوئی مضائقہ نہیں۔جن دنوں پاکستان میں کیبل ٹی وی کا ظہور ہوا تو ساتھ ہی بھارتی چینلز کی بھرمار بھی ہو گئی، ان چینلز میں اکثر معجزاتی اشتہارات نشر کئے جاتے تھے جن میں مختلف اقسام اور عمروں کے مرد و عورتیں (مرد کو مرد ہی پڑھا جائے مردود نہ پڑھا جائے) اپنی زندگی کی کایا کلپ کا احوال بتاتے نظر آتے۔ مثلا ’’میں کروڑوں میں کھیلتا تھا، میری کئی فیکٹریاں اور کارخانے تھے، پھر ایک دن میری بیوی کا چچیرا بھائی ہمارے گھر آیا، اس نے کہا واہ جیجا جی آپ کے پاس تو بہت پیسہ ہے، بس اُس دن کے بعد سے ایسی نظر لگی کہ سب کچھ ختم ہو گیا، اچانک مجھے پتہ چلا کہ میرا اکاونٹنٹ کروڑوں روپوں کا فراڈ کرکے بھاگ گیا ہے، ایک گودام میں آگ لگ گئی اور سارا مال جل کر خاک ہو گیا، یوں یوں ایک ایک کر کے تمام فیکٹریاں بِک گئیں اور میں دانے دانے کا محتاج ہو گیا، پھر میری بیوی نے مجھے دھیان گرو کا تیار کردہ درگا منتر لا کردیا جس کے بعد میری زندگی میں انقلاب آگیا، میرے لوٹے ہوئے پیسے اچانک واپس مل گئے، انشورنس والوں نے گودام میں جلنے والے مال کے بدلے مجھے کروڑوں روپے ادا کر دئیے، میری فیکٹریاں ایک ایک کر کے کیسے واپس آگئیں مجھے پتہ ہی نہیں چلا، یہ سب درگا منتر کی کِرپا سے ہوا۔ آپ بھی صرف دھیان گرو کا تیار کردہ درگا منتر استعمال کریں۔‘‘ ان اشتہارات کو دیکھ کر اندازہ ہوا کہ بھارت میں بھی کروڑوں لوگ ہونگے جو ان اشتہارات کو سچ مان کر یہ ’’مصنوعات‘‘ خریدتے ہوں گے، اپنی زندگیوں میں ہونے والی تبدیلیوں کو مختلف منتروں، جنتروں اور مورتیوں کا مرہون منت سمجھتے ہوں گے اور جن کا خیال ہوگا کہ اُن کی بیماری کا علاج یا کاروبار میں فائدہ اسی وجہ سے ہوا ہے۔ دراصل بے کس، مجبور اور لا چار شخص دیوانہ ہوتا ہے، چاہے وہ کسی بھی ملک میں ہو اور اُس کا تعلق کسی بھی مذہب یا عقیدے سے ہو، اسے اُس کی ضرورت اور خواہش کی تکمیل کا سبز باغ دکھا کر عملیات یا ٹوٹکے استعمال کروائے جاسکتے ہیں خاص طور سے اگر اُن میں مذہب کا تڑکا لگا دیا جائے۔ اس کے بعد اگر کسی کا مسئلہ کسی بھی وجہ سے حل ہو جائے تو وہ اسے سو سے ضرب دے کر آگے بتاتا ہے اور اگر آرام نہ آئے تو خود ہی یہ سوچ لیتا ہے کہ عمل میں اُس سے ہی کو تاہی ہوئی ہوگی یا پھر ابھی خواہش کی تکمیل کا وقت اس کیلئے مناسب نہیں ہوگا۔صرف غریب اور لا چار لوگ ہی ان عملیات اور ٹوٹکوں پر عمل نہیں کرتے بلکہ طاقتور اور کامیاب لوگ بھی اِن باتوں پر اعتقاد رکھتے ہیں، وجہ اُس کی یہ ہے کہ جب کوئی شخص بہت بلندی پر پہنچ جاتا ہے تو اُس کے اندر ’’سب کچھ چھِن جانے کا خوف‘‘ بھی اتنا ہی شدید ہو جاتا ہے، عہدہ، پیسہ، طاقت حاصل کرنے کے بعد یہ سوچ کر وہ کانپ جاتا ہے کہ اگر یہ سب نہ رہا تو کیا ہوگا، اسی عالم میں وہ بھی مختلف آستانوں پر جاتا ہے مگر چونکہ نسبتا ً مہذب اور پڑھا لکھا ہوتا ہے سو اُس کی عملیات بھی برینڈڈ ہوتی ہیں، اعلی حضرت بھی سوٹڈ بوٹڈ ہوتے ہیں، انگریزی میں تعویذ دیتے ہیں اور ماڈرن طریقے سے ٹوٹکے بتاتے ہیں۔ ہم سب اپنی اپنی دنیاؤں میں رہتے ہیں، کچھ لوگوں کی دنیا میں اِن کایا کلپ قسم کے دعوؤں کی کوئی گنجائش نہیں ہوتی، یہ وہ لوگ ہیں جنہیں زندگی نے کبھی ٹف ٹائم نہیں دیا ہوتا اور ان کے مسائل وقت کے ساتھ ساتھ کسی نہ کسی حکمت عملی (جو خود انہوں نے بنائی ہوتی ہے) کے تحت حل ہوتے رہتے ہیں، ایسے لوگ بھی عملیات اور ٹوٹکوں کا سہارا لیتے ہیں مگر صرف اُس وقت جب اُن کی حکمت عملی کارگر نہیں رہتی، تب وہ بھی ’’ضرورت مند دیوانہ ہوتا ہے‘‘ کی کیٹگری میں آجاتے ہیں اور پھر وہ سب کچھ آزماتے ہیں جن کے بارے میں انہیں علم ہوتا ہے کہ ایسا ممکن نہیں۔ انسان ایسا ہی ہے، کبھی نہ مطمئن ہونے والی جبلت اسے چین سے نہیں بیٹھنے دیتی۔
کالم کی دُم:یہ کالم پڑھنے کے بعد اگر کسی کا خیال ہے کہ عملیات، تعویذ یا ٹوٹکوں سے مسائل حل نہیں ہوتے تو وہ سراسر غلطی پر ہے، کالم کے شروع میں جن مسائل اور اُن کے حل کی نشاندہی کی گئی ہے وہ تمام اِس فدوی کے سینے میں محفوظ ہیں، رابطہ کرنے پر تشفی کروا دی جائے گی اور تمام خط کتابت صیغہ راز میں رکھی جائے گی ماسوائے اُن خطوط کے جو کاروباری حریف مجھے ارسال کریں گے اور جن کے رزق پر میں لات ماروں گا۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *