اچھے کام اور ناقدین

In this photograph taken on November 16, 2016, Pakistani Army General Qamar Javed Bajwa arrives to attend a military exercise on the Indian border in Khairpure Tamay Wali in Bahawalpur district.
Pakistan on November 26 appointed General Qamar Javed Bajwa as the country's powerful new chief of army staff, the prime minister's office said. / AFP PHOTO / SS MIRZA

اعجاز حیدر

حال ہی میں کچھ اچھے کاموں کی وجہ سے پاکستان کی دو اہم شخصیات چیف آف آرمی سٹاف اور چیف جسٹس کو سوشل میڈیا پر سخت تنقید کا نشانہ بنایا گیا یہ کسی طرح بھی اچھی چیز نہیں ہے بلکہ ایک واضح ناشکری کی علامت ہے ۔ پہلے ان شخصیات کے اچھے کاموں کی بات کرتے ہیں۔ کچھ دن قبل جیف جسٹس نے جن کا کام ملک بھر میں انصاف کی فراہمی کو یقینی بنانا ہے نے فیصلہ کیا کہ عوام کے اندر جا کر معلوم کریں کہ حکومت کی کارکردگی کیسی ہے۔ چونکہ لاہور کو ماڈل سٹی قرار دیا جاتا ہے اس لیے انہوں نے فیصلہ کیا کہ اس شہر کے سب سے بڑے ہسپتال کا دورہ کیا جائے۔ حکومت کی کارکردگی دیکھنی ہو تو پبلک سکول یا ہسپتال سے بہتر کون سی جگہ ہو سکتی ہے؟ لیکن ہر اچھے کام کی طرح اس کام پر بھی انہیں تنقید کا سامنا کرنا پڑا۔ اس موقع پر چیف جسٹس نے ہسپتال کی خستہ حالی پر افسوس کا اظہار کیا اور متعلقہ محکمون کو حکم دیا کہ مریضوں کو بہترین سہولیات فراہم کی جائیں۔ انہوں نے ہسپتال انتظامیہ کو مریضو کو صاف پانی فراہم کرنے کےلیے فلٹریشن پلانٹ لگانے کا بھی حکم جاری کیا جو سب سے بہترین اقدام تھا۔ چیف جسٹس نے مریضوں سے ملاقات کر کے بھی ملازمین کے رویہ کے بارے میں معلوم کیا۔ ایسے موقع پر کسی کو سخت سوالات پوچھ کر سبکی محسوس کرانا بلکل جائز نہیں رہتا۔ مثال کے طور پر بہت سے ناقدین نے سوال اٹھائے کہ آیاآئین اور قانون کے مطابق چیف جسٹس کو اختیار حاصل ہے کہ وہ سرکاری محکمہ کے افراد کو حکم جاری کر سکیں؟ یہی وہ چیز ہے جسے میں اچھے کام کو اوپر سے دیکھنے کے عمل جیسا سمجھتا ہوں۔ آئین کوئی میونسپل ایکشنز کا نام نہین ہے نہ ہی اس میں ہر کام کی تفصیلات درج ہوتی ہیں۔ اس میں یہ بھی نہیں لکھا ہوتا کہ چیف جسٹس ایک خاص مدت کے دوران ہسپتال کا دورہ کرے گا کیونکہ یہ مضحکہ خیز چیز ہوتی۔ اصل معاملہ کام کے جذبے کا ہے۔ مثال کے طور پر آرٹیکل ۱۹۰ کے مطابق سپریم کورٹ کے کسی بھی عمل کا فیصلہ سپریم کورٹ ہی کرنے کی مجاز ہے۔ اب یہ فیصلہ کرنے کےلیے سپریم کورٹ میں سب سے اونچے عہدے پر کون موجود ہے؟ ظاہر ہے چیف جسٹس ہی سب سے بلند اختیار رکھتے ہیں۔ اب اگر چیف جسٹس ماضی کے بادشاہوں کی طرح ہسپتال کا دورہ کرنا چاہیتے ہیں تو یہ انہیں کی صوابدید ہے۔حکومت کو کام کرنے پر اکسانے کےلیے کسی نہ کسی ادارے کو اس پر نظر رکھنی چاہیے اور اس کام کےلیے سپریم کورٹ کے چیف جسٹس سے بہتر کون ہو سکتا ہے؟ اس عمل کو بابا والی تقریر کی روشنی میں پرکھا جانا چاہیے۔ چیف جسٹس نے بابا لفظ کسی دوسرے معنی میں استعمال کیا تھا لیکن سیاسی شعبدہ بازوں کو یہ بلکل سمجھ نہیں آیا اور انہوں نے اسے اپنے لحاظ سے غلط سمجھ لیا۔ میں جوڈیشل ایکٹوسٹ اور جوڈیشل ریسٹرینٹسٹ جیسے محاوروں سے واقف ہوں اور یہ جانتا ہوں کہ اگر حکومت ٹھیک کام کر رہی ہوتی تو چیف جسٹس کو سپریم کورٹ سے باہر نکلنے کی ضرورت ہی نہ پڑتی۔لیکن چونکہ حکومت ٹھیک سے کام نہیں کر رہی اس لیے چیف جسٹس یعنی بابا کو مداخلت کرنا پڑی۔ اس لیے ناقدین کو چاہیے کہ اس اچھے عمل کو سیاسی مصلحتوں کے اندھیرے میں گم کرنے کی کوشش نہ کریں۔ ہر اچھے عمل کا اپنا ایک قانون یا آئین ہوتا ہے۔ باقی سب باتیں بے معنی ہیں۔ اب جب چیف جسٹس نے ایک مثال قائم کی ہے توعدالتوں کو چایہے کہ اس عمل کو ادارے کا حصہ بنا لیں جس کے مطابق دو ججز پر مشتمل کمیٹی ہسپتالوں کا دورہ کرے اور موقع پر ہی انتظامیہ کو بہتری کے احکامات جاری کرے۔ ناقدین کا ایک سوال یہ ہے کہ جج صاحب نے حکم تو جاری کر دیا ہے لیکن جب حکومت کے پاس پیسے ہی نہیں ہیں کہ وہ ہسپتالوں اور سکولوں کی حالت بہتر کریں تو چیف جسٹس یا آرمی چیف کے حکم کو کیسے بجا لایا جائے گا۔ اور اس کام کےلیے پیسے کہاں سے آئیں گے؟ ایسا یہ ایک اور واقعہ جس نے سوشل میڈیا پر خوب توجہ سمیٹٰی وہ یہ تھا کہ آرمی چیف نے اپنے علاقے کھگڑ منڈی کا دورہ کیا۔ وہ وہاں اپنے خاندان اور دوستوں سے ملنے گئے تھے جہاں انہوں نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے اپنے وطن کے دفاع کے عزم کو دہرایا لیکن اس واقعہ کو کچھ یوں رپورٹ کیا گیا: اس موقع پر جنرل باوجوہ نے علاقے میں ۱۷۵ ملین کی مالیت سے سٹیڈیم تعمیر کرنے کا اعلان کیا۔ انہوں نے گرلز اور بوائز کالج کی دیوار کے پاس سے مویشیی مارکیٹ کو بھی فوری ہٹانے کا حکم دیا کیونکہ طلبا اور طالبات اس کے خلاف سراپا احتجاج تھے۔ اس کے ساتھ ساتھ آرمی چیف نے پورے علاقے کے سیوریج سسٹم کو بھی تبدیل کروانے اور قبرستان کے گرد نئی دیوار تعمیر کروانے کا بھی اعلان کیا۔ ایک بار پھر ناقدین میدان میں آگئے اور جنرل باجوہ کے احکامات کی قانونی حیثیت چیلنج کرنے لگے۔ کچھ لوگوں نے تو یہاں تک کہہ دیا کہ لگتا ہے آرمی چیف اگلے الیکشن لڑنے کی تیاری میں ہیں۔ کچھ دوسرے لوگوں نے سوال اٹھایا کہ اتنا کچھ کروانے کےلیے چیف کے پاس پیسے کہاں سے آئے؟ یہ سوالات بھی ایک اچھے عمل کےجذبے کو ثبوتاذ کرنے کی کوشش ہیں اور ان کی تفصیالات اور اہمیت جاننے کی کوشش نہیں کی گئی۔ جیسا کہ ہم نے بتایا ہے، کہ آرمی چیف کی ذمہ داری ہے کہ وہ ملک کی سکیورٹی اور تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے جو ممکن ہو کریں۔ آرمی چیف کا عہدہ ایک ایسا عہدہ ہے جسے لوگ اپنی مرضی کے مطابق وسیع یا محدود کرنے کی کوشش کریتے ہیں۔ بارڈر مینیجمنٹ کے ساتھ ساتھ
آرمی کو ملک بھر کے تمام معاملات پر نظر رکھنے کے لیے ایسے اقدامات کرنے کا حق حاصل ہے تا کہ وہ عوام کی خاطر ایسے شعبوں میں بھی خدمات انجام دے سکیں جن میں سویلین حکومت ناکام رہی ہے۔ اگر آرمی چیف گکھڑ منڈی کے لوگوں کے لیے ایک عام سی بھلائی تک نہیں کر سکتے تو وہ پورے ملک کی کیسے خدمت کر سکتے ہیں۔ کیا صرف اس لیے انہیں تنقید کا نشانہ بنانا ٹھیک ہے کہ وہ سویلین حکومت کا حصہ نہیں ہیں؟ وقت آگیا ہے کہ لوگ بڑے اداروں کے دائرہ کار کی خود ساختہ محدود تعرفوں کو بھول کر ملکی مفاد پر نظر ڈالیں اور ہر اچھے کام کو قبول کرنے کی ہمت پیدا کریں۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *