قانون بد ل گیا یا سپریم کورٹ کا کردار ۔۔؟؟

syed arif mustafa

بات واضح اور بالکل صاف ہے کے اگرقانونی مدد ملے تومیں طاہرالقادری کو پکڑ گھسیٹ  کے سپریم کورٹ لےجانا چاہتا ہوں کیونکہ میرے پاس وسائل مطلق نہیں جبکہ سپریم کورٹ ایک اہم معاملے پہ اپنی آنکھیں بند کرکے بیٹھی ہوئی ہے ۔۔۔ اور مجھے  بلاشبہ سپریم کورٹ سے ایسی توقع ہرگز نہ تھی کہ وہ اس معاملے میں اس قدر سنگین غفلت کا مظاہرہ کرے گی- کون نہیں جانتا کے مختلف موسموں میں پاکستان کا رخ کرنے والی مرغابیوں کی مانند اس بار پھر سے وطن عزیز میں طاہرالقادری پدھارے ہوئے ہیں  اور ملکی سیاست میں ایک بھونچال سا برپا کیئے ہوئے ہیں لیکن ہماری سپریم کورٹ خواب غفلت میں مبتلاء ہے ۔۔۔ سوال یہ ہے کہ کیا ملکی قانون بدل گیا ہے یا سپریم کورٹ کا کردار ۔۔ کیونکہ جبکہ 5 برس قبل یہ سپریم کورٹ ہی تھی کہ جس نے طاہرالقادری کو ‌ملکی سیاست یا ملکی معاملات میں سرگرم ہونے سے اس لیئے روک دیا تھا کیونکہ وہ ایک باضابطہ کینیڈین شہری بن چکے ہیں ۔۔۔ یہاں مجھے یہ کہنے میں کوئی جھجھک نہیں کے اگر سپریم کورٹ اس امر کا ازخود نوٹس نہیں لیتی تو بہت سی انگلیوں ‌کو اسکی جانب اٹھنے سے کسی صورت روکا نہیں جاسکتا اور کسی کو یہ پوچھنے سے بھی نہیں روکا جاسکتا کہ قانون تبدیل ہوگیا ہے یا سپریم کورٹ کا کردار ۔۔۔؟؟ جہانتک بات ہے دوہری شہریت کی تو یہ اہم فیصلہ دیتے ہوئے افتخار چوہدری کے پیش نظر یقینناً وہ حلف ہوگا کے جوکینیڈا و برطانیہ کے شہری بننے والوں کو دینا پڑتا ہے اور جسکی رو سے انہیں ہر حال میں  ملکہ برطانیہ اور انکی سلطنت کے مفادات کا محافظ و وفادار ہونے کا حلفیہ اقرار کرنا پڑتا ہے ۔۔۔  اور اس قانون میں بھلا کیا غلط ہے کہ جسکی رو سے ایسا ہر شخص جو کسی دوسرے ملک کے مفادات کے تحفظ کا حلف یافتہ ہو اسے اس وطن کی کسی سیاسی جماعت کے کسی منصب کا اہل ہرگز نہیں سمجھا جاسکتا -  دلچسپ بات یہ ہے کہ 13 فروری 2013 کو دیئے گئے اس فیصلے کی زد میں طاہرالقادری خود ہی آئے تھے کہ جب انہوں نے الیکشن کمیشن کے خلاف سپریم کورٹ میں ایک مقدمہ دائر کیا تھا  تاہم سپریم کورٹ نے انہیں سیاست سے روکنے کے باوجود اس وقت انکو یہ موقع فراہم کیا گیا تھا کہ وہ اگر کینیڈا کی شہریت ترک کردیں ‌تو انکو ملکی معاملات میں سرگرم ہونے کی اجازت خود بخود مل جائیگی ۔۔۔ لیکن اس شاطر شخص نے مکاری و فریب کے بیرونی رستے بند ہوجانے کے اندیشے کی وجہ سے کینیڈین شہریت کو ترجیح دی تھی اور سپریم کورٹ سے راہ فرار اختیار کی تھی  ۔۔۔ لیکن اس  قوم کی زود فراموشی کی عادت سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اس شخص نے افتخار چوہدری کے ریٹائر ہوتے ہی پھر سیاسی معاملات میں اپنی ٹانگ اڑانی شروع کردی ہے اور یوں لگتا ہے کہ ہمارے سارے ہی سیاستدان یا تو زود فراموش ہیں یا ۔۔۔؟؟؟‌ کے انہیں ایک غیرملکی شہری کے خلاف اس عدلیہ کا وہ تاریخی فیصلہ یاد ہی نہیں رہا ہے کہ جو ایسے ہر فرد کو ملکی معاملات میں دخیل ہونے سے صاف طور پہ روکتا ہے بلکہ الٹا وہ ایک غیرملکی حلف یافتہ کی بلائی ہوئی کانفرنسوں میں بڑے دھڑلے سے شرکت کرتے ہیں ۔۔۔یہاں‌میں یہاں یہ بھی واضح کردوں کے میں صرف طاہر القادری ہی کو نہیں بلکہ برطانوی شہری الطاف حسین سمیت ایسے ہرفرد کو ملکی معاملات میں متحرک کردار ادا کرنے کے قابل نہیں سمجھتا کے جو وطن عزیز سے باہر رہ کے بھی ملکی سیاست میں دخیل رہنا چاہتا ہے کیونکہ آئین کی دفعہ 184 کی ذیلی دفعہ 3 کی رو سے ایسے دوہرے لوگوں‌ کو ملکی معاملات میں مداخلت کا کوئی حق نہیں  کہ جو ملک سے جبراً  نہ نکالے گئے ہوں بلکہ انہوں نے زخود آپنی آزادانہ رغبت سے غیرملکی شہریت لے لی ہو ۔۔ ایسے لوگ  غیرملکی شہری ہیں اور کسی دوسرے ملک کی حفاظت کے
حلف یافتہ پابند ہیں اور انہیں اپنے ملکی معاملات میں گھسنے سے بہرصورت روکنا ہی پڑے گا- کوئی دہری شہریت والا صرف اس حد تک حق رکھتا ہے کہ وہ اپنے آبائی وطن میں صرف ووٹ ڈال سکتا ہے ، لیکن اس سے زیادہ کچھ نہیں ،،،قطعی نہیں ۔۔۔ میں سمجھتا ہوں‌ کہ  درحقیقت پاکستانی قوم کے مصائب کی ایک بڑی وجہ ملکی معاملات میں بیرونی مداخلت ہے  خواہ وہ وہ اہل مغرب خود کریں ‌یا انکی گود میں بیٹھے ہوئے ہمارے ہی چند سابق پاکستانی لے پالک ، جیسے کہ الطاف حسین اور طاہر القادری۔۔۔  چونکہ ہمارا ملکی آئین ایسے لوگوں کو  سیاسی یا انتظامی و قانونی معاملات میں ذرا بھی مداخلت کی اجازت نہیں دیتا چنانچہ انہیں اس وطن میں کسی سیاسی جماعت کا سربرہ بننا تو دور کسی جماعت کا رکن بننے تک کی اجازت نہیں ہونی چاہیئے کیونکہ ایسے لوگ وطن کی کیا خاک توقیر سنبھالیں گے کہ جنہوں نے اپنے ملک کی شہریت پہ دوسرے ملک کی شہریت کو ترجیح دی ہو ۔۔۔اب یہ بات قانونی طور پہ بھی بالکل دو ٹوک طور پہ طے کردینی ہوگی کہ ملکی سیاست صرف ملک میں رہ کر کی جاسکتی ہے ۔۔۔ جسے اس ملک کی سیاست میں سرگرم ہونے کا شوق ہے وہ سب چھوڑ چھاڑ کے یہاں آئے اور یہاں کی عملی سیاست میں بھرپور طور پہ حصہ لے اور اب آئندہ باہر بیٹھ کے پاکستان میں سیاسی جماعتوں کو روبوٹ کی
طرح چلانے کی اجازت ہرگز نہیں دی جائے-  قانون بد ل گیا یا سپریم کورٹ کا کردار ۔۔؟؟ بات واضح اور بالکل صاف ہے کے اگرقانونی مدد ملے تومیں طاہرالقادری کو گھسیٹ کے سپریم کورٹ لےجانا چاہتا ہوں کیونکہ میرے پاس وسائل مطلق نہیں جبکہ سپریم کورٹ ایک اہم معاملے پہ اپنی آنکھیں بند کرکے بیٹھی ہوئی ہے ۔۔۔ اور مجھے بلاشبہ سپریم کورٹ سے ایسی توقع ہرگز نہ تھی کہ وہ اس معاملے میں اس قدر مجرمانہ غفلت کا مظاہرہ کرے گی- کون نہیں جانتا کے مختلف موسموں میں پاکستان کا رخ کرنے والی مرغابیوں کی مانند اس بار پھر سے وطن عزیز میں طاہرالقادری پدھارے ہوئے ہیں  اور ملکی سیاست میں ایک بھونچال سا برپا کیئے ہوئے ہیں لیکن ہماری سپریم کورٹ خواب غفلت میں مبتلاء ہے ۔۔۔ سوال یہ ہے کہ کیا ملکی قانون بدل گیا ہے یا سپریم کورٹ کا کردار ۔۔ کیونکہ جبکہ 5 برس قبل یہ سپریم کورٹ ہی تھی کہ جس نے طاہرالقادری کو ‌ملکی سیاست یا ملکی معاملات میں سرگرم ہونے سے اس لیئے روک دیا تھا کیونکہ وہ ایک باضابطہ کینیڈین شہری بن چکے ہیں ۔۔۔ یہاں مجھے یہ کہنے میں کوئی جھجھک نہیں کے اگر سپریم کورٹ اس امر کا ازخود نوٹس نہیں لیتی تو بہت سی انگلیوں ‌کو اسکی جانب اٹھنے سے کسی صورت روکا نہیں جاسکتا اور کسی کو یہ پوچھنے سے بھی نہیں روکا جاسکتا کہ قانون تبدیل ہوگیا ہے
یا سپریم کورٹ کا کردار ۔۔۔؟؟ جہانتک بات ہے دوہری شہریت کی تو یہ اہم فیصلہ دیتے ہوئے افتخار چوہدری کے پیش نظر یقینناً وہ حلف ہوگا کے جوکینیڈا و برطانیہ کے شہری بننے والوں کو دینا پڑتا ہے اور جسکی رو سے انہیں ہر حال میں  ملکہ برطانیہ اور انکی سلطنت کے مفادات کا محافظ و وفادار ہونے کا حلفیہ اقرار کرنا پڑتا ہے ۔۔۔  اور اس قانون میں بھلا کیا غلط ہے کہ جسکی رو سے ایسا ہر شخص جو کسی دوسرے ملک کے مفادات کے تحفظ کا حلف یافتہ ہو اسے اس وطن کی کسی سیاسی جماعت کے کسی منصب کا اہل ہرگز نہیں سمجھا جاسکتا -  دلچسپ بات یہ ہے کہ 13 فروری 2013 کو دیئے گئے اس فیصلے کی زد میں طاہرالقادری خود ہی آئے تھے کہ جب انہوں نے الیکشن کمیشن کے خلاف سپریم کورٹ میں ایک مقدمہ دائر کیا تھا  تاہم سپریم کورٹ نے انہیں
سیاست سے روکنے کے باوجود اس وقت انکو یہ موقع فراہم کیا گیا تھا کہ وہ اگر کینیڈا کی شہریت ترک کردیں ‌تو انکو ملکی معاملات میں سرگرم ہونے کی اجازت خود بخود مل جائیگی ۔۔۔ لیکن اس جعلساز شخص نے مکاری و فریب کے بیرونی رستے بند ہوجانے کے اندیشے کی وجہ سے کینیڈین شہریت کو ترجیح دی تھی اور سپریم کورٹ سے راہ فرار اختیار کی تھی  ۔۔۔ لیکن اس  قوم کی زود فراموشی کی عادت سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اس شخص نے افتخار چوہدری کے ریٹائر ہوتے ہی پھر سیاسی معاملات میں اپنی ٹانگ اڑانی شروع کردی ہے اور یوں لگتا ہے کہ ہمارے سارے ہی سیاستدان یا تو زود فراموش ہیں یا بیغیرت اور ضمیر فروش  کے انہیں ایک غیرملکی شہری کے خلاف اس عدلیہ کا وہ تاریخی فیصلہ یاد ہی نہیں رہا ہے کہ جو ایسے ہر فرد کو ملکی معاملات میں دخیل ہونے سے صاف طور پہ روکتا ہے بلکہ الٹا وہ ایک غیرملکی حلف یافتہ کی بلائی ہوئی کانفرنسوں میں بڑے دھڑلے سے شرکت کرتے ہیں ۔۔۔یہاں‌میں یہاں یہ بھی واضح کردوں کے میں صرف طاہر القادری ہی کو نہیں بلکہ برطانوی شہری الطاف حسین سمیت ایسے ہرفرد کو ملکی معاملات میں متحرک کردار ادا
کرنے کے قابل نہیں سمجھتا کے جو وطن عزیز سے باہر رہ کے بھی ملکی سیاست میں دخیل رہنا چاہتا ہے کیونکہ آئین کی دفعہ 184 کی ذیلی دفعہ 3 کی رو سے ایسے دوہرے لوگوں‌ کو ملکی معاملات میں مداخلت کا کوئی حق نہیں  کہ جو ملک سے جبراً  نہ نکالے گئے ہوں بلکہ انہوں نے زخود آپنی آزادانہ رغبت سے غیرملکی شہریت لے لی ہو ۔۔ ایسے لوگ  غیرملکی شہری ہیں اور کسی دوسرے ملک کی حفاظت کے حلف یافتہ پابند ہیں اور انہیں اپنے ملکی معاملات میں گھسنے سے بہرصورت روکنا ہی پڑے گا- کوئی دہری شہریت والا صرف اس حد تک حق رکھتا ہے کہ وہ اپنے آبائی وطن میں صرف ووٹ ڈال سکتا ہے ، لیکن اس سے زیادہ کچھ نہیں ،،،قطعی نہیں ۔۔۔ میں سمجھتا ہوں‌ کہ  درحقیقت پاکستانی قوم کے مصائب کی ایک بڑی وجہ ملکی معاملات میں بیرونی مداخلت ہے  خواہ وہ وہ اہل مغرب خود کریں ‌یا انکی گود میں بیٹھے ہوئے ہمارے ہی چند سابق پاکستانی لے پالک ، جیسے کہ الطاف حسین اور طاہر القادری۔۔۔  چونکہ ہمارا ملکی آئین ایسے لوگوں کو  سیاسی یا انتظامی و قانونی معاملات میں ذرا بھی مداخلت کی اجازت نہیں دیتا چنانچہ انہیں اس وطن میں کسی سیاسی جماعت کا سربرہ بننا تو دور کسی جماعت کا رکن بننے تک کی اجازت نہیں ہونی چاہیئے کیونکہ ایسے لوگ وطن کی کیا خاک توقیر سنبھالیں گے کہ جنہوں نے
اپنے ملک کی شہریت پہ دوسرے ملک کی شہریت کو ترجیح دی ہو ۔۔۔ اب یہ بات قانونی طور پہ بھی بالکل دو ٹوک طور پہ طے کردینی ہوگی کہ ملکی سیاست صرف ملک میں رہ کر کی جاسکتی ہے ۔۔۔ جسے اس ملک کی سیاست میں سرگرم ہونے کا شوق ہے وہ سب چھوڑ چھاڑ کے یہاں آئے اور یہاں کی عملی سیاست میں بھرپور طور پہ حصہ لے اور اب آئندہ باہر بیٹھ کے پاکستان میں سیاسی جماعتوں کو روبوٹ کی طرح چلانے کی اجازت ہرگز نہیں دی جائے-
*یہاں‌ذیل میں 5 برس پرانی اخباری خبر دیکھیئے کہ جسکے مطابق 13 فروری 2013 کو سپریم کورٹ کے اس وقت کے چیف جسٹس افتخار چوہدری نے اس دجال اور فریبی شخص کو سپریم کورٹ سے فرار ہونے پہ مجبور کردیا تھا ۔۔۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *