کے آئینے میں 2018کا عکس2017

naeem-baloch1

2017 سیاسی حوالے سے بڑا ہنگامہ خیز رہا ۔ بڑے واقعات کا اگر ذکر کیا جائے تو بلا شبہ سب سے بڑا اور اہم واقعہ یہ تھا کہ سیاسی حکومت ایک دفعہ پھر بحران کا شکار ہوئی۔ نواز شریف چوتھی دفعہ بھی بطور وزیر اعظم اپنی مدت پوری نہ کرسکے ۔دوسرا واقعہ یہ ہوا کہ ایک مخصوص مذہبی خیالات کی حامل ایک نوموآموز سیاسی جماعت نے وفاقی حکومت کو مفلوج کرکے رکھ دیا ۔ ملک میں خانہ جنگی کی کیفیت پیدا ہو گئی ۔ اور حکومت کو انتہائی ذلت آمیز طریقے سے اس جماعت کے مطالبے ماننے پڑے ۔ مظاہرین تب جان خلاصی کرنے پر راضی ہوئے جب معاہدے کی دستاویزپر ہماری اسٹیبلشمنٹ کے ایک معزز رکن نے بطور ثالث دستخط کیے۔ تیسرا واقعہ یہ ہوا کہ ایک مخصوص طبقہ مسلسل یہ افواہ پھیلاتا رہا کہ نام نہاد قومی حکومت بس آئی کہ آئی اور انتخابات اپنے مقرر ہ وقت پر نہیں ہوں گے ۔ حتیٰ کہ سپیکر قومی اسمبلی نے بھی بے یقینی کا اظہار کر دیا۔ چوتھا واقعہ یہ ہوا کہ پاکستان میں بجلی کے دس برس سے جاری بحران کے خاتمہ کی صورت اس وقت نظر آئی جب دس برسوں میں پہلی مرتبہ سردیوں میں کم از کم شہروں میں لوڈشیڈنگ کا خاتمہ ہو گیا۔( یہ واقعہ یقیناسیاسی نہیں مگر سیاست پر اثر انداز ہو گا ، اس کا تذکرہ ہم آگے جا کر کریں گے۔ ) پانچواں واقعہ ا س وقت سامنے آیا جب ن لیگ کی طرف سے اگلے وزیر اعظم نامزد ہونے کے بعد شہباز شریف کو شاہی طیارہ سعودی عرب لے گیا جہاں وہ نواز شریف سمیت دیگر لیگی رہنماؤں کے ہمراہ موجود ہیں اور پاکستان کی سیاسی فضا میں ایک ارتعاش محسوس ہو رہا ہے ۔ اور لگتا یہی ہے کہ اسی سے اگلے برس کی سیاسی تصویر اپنی ممکنہ شکل لے کر نمایاں ہو گی ۔ آئیے اب جانتے ہیں کہ ان کے کیا اثرات اگلے سال متوقع ہوں گے۔ نواز شریف اگرچہ عدالت عالیہ کی طرف سے نااہل ہوئے لیکن وہ یہ کہنے میں حق
بجانب رہے کہ کیا ستر برس کی تاریخ میں پاکستان کے سترہ وزراعظم میں کوئی ایک بھی اہل نہ تھا ؟اگر چہ اس دفعہ توپ عدالت کے کندھوں پر رکھ کر چلائی گئی لیکن اس قدر بھونڈے طریقے سے چلائی گئی کہ خود جج حضرات قسمیں کھانے پر مجبور ہو گئے ہم ہرگز’’مجبور ‘‘ نہ تھے ۔ عالمی میڈیا بھی یہ تبصرہ کرنے پر’ مجبور‘ ہو گیا کہ ملک کی اسٹیبلشمنٹ سے اختلاف کرکے پاکستان کی کوئی سیاسی حکومت اپنی آئینی مدت پوری نہیں کر سکتی ۔اس عدالتی فیصلے کی ایک خاص بات یہ ہے کہ اس کند چھری کے ذریعے سے آیندہ بھی کئی ناپسندیدہ سیاسی دنبے ذبح ہو سکیں گے ۔ ذرا سوچیے کہ کون مائی کالال ایسا ہو گا جو صادق اور امین ہونے کا دفاع کر سکے گا ؟وہ اپنے کسی بھی بیان یا ماضی کی کسی قبیح حرکت کی وجہ سے دھر لیا جائے گا اور ہر عام و خاص سے پوچھتا پھرے گا کہ مجھے کیوں نکالا ! مثلاً عمران خان کے بارے میں یہ ثابت کرنا کون سی بڑی بات ہے کہ انھوں نے ریحام خان سے نکاح اعلان
کردہ تاریخ سے پہلے کر لیا تھا جبکہ عوامی اعلان اس تاریخ کے بعد میں کیا ۔ یہ یقیناًایک جھوٹ ہے اور اس کا مرتکب صادق اور امین نہیں ہو سکتا۔ اور شہباز شریف یا زرداری وزیراعظم بنتے ہیں تو و ہ تو ویسے بھی گھڑے کی مچھلی ہیں !اس لیے یہ سوال ایک حقیقت ہے کہ کیایہ عدالتی فیصلہ نظریہ ضرورت کا نیا جنم نہیں؟ دوسرا واقعہ یہ بتانے کے لیے کافی ہے کہ’’ ہمارے ہاں کا مذہب کے نام پر ‘‘ جہاد‘‘ کا بم چلایا جا چکا، لیکن مذہب کی زمبیل ابھی خالی نہیں ہوئی ۔ اس میں ابھی بھی بہت کچھ باقی ہے ۔ اور نیا ہتھیار تو اس قدر تباہ کن ہے کہ وہ حکومتوں کو تل پٹ کرنے کی پوری پوری صلاحیت رکھتا ہے ۔ اور یہ وہ ہتھیار ہے جس کا نشانہ کبھی نہیں چوک سکتا ۔ دوسری بات یہ ہے کہ آنے والے ا نتخابات میں گالیوں والی یہ سرکار وہی کردار ادا کر سکتی ہے جو اسٹیبلشمنٹ نے جماعت اسلامی سے 1993 کے الیکشن میں لیا تھا ۔ اس الیکشن میں ن لیگ جماعت کی وجہ سے 38نشستیں گنوا بیٹھی تھی ۔ لگتا یہی ہے آنے والے الیکشن میں دیگر عناصر مل کر ن لیگ کو یہی صدمہ دوبارہ پہنچا سکتے ہیں اور اس کا فائدہ تحریک انصاف کو ہوگا ۔ نام نہاد قومی حکومت کا اس لیے کوئی چانس نظر نہیں آتا کہ اس دفعہ سارا ڈراما عدالتوں کے ذریعے سے کیا گیا ہے ۔ اب اس طرح کی حرکت کا آئین ودستور میں تو کوئی سراغ نہیں ملتا ۔ ویسے بھی یہ ایک چلا ہو کارتوس اور آزمایا ہوا داؤ ہے۔ اور یہ تجزیہ یا خبر کم اور مایوس اور سیاسی یتیموں کی وش فل تھنکنگ ضرور ہو سکتی ہے ۔ اور اس میں پرانے بوٹوں والے اور ان کو چمکانے والے نام نہاد دانش ور زیادہ ہیں ۔ لوڈ شیڈنگ خاتمہ ایک ایسا کارنامہ ہے، جس کو حکومت کیش کرا سکتی ہے۔ جبکہ پنجاب حکومت کی کارکردگی تمام صوبوں کی حکومتوں سے بہتر رہی ہے ۔ یہ وہ حقیقت ہے جس کا شاید کسی کو انکار نہ ہو ۔ اس لیے وہ آنے والے دنوں میں اس کو اپنا سیاسی ہتھیار بنائے گی۔ اس سے مخالفوں کی نیندیں حرام ہونے کی توقع ہے۔ یہینکارنامہ شہباز شریف کا راستہ ہموار کر سکتا ہے ۔ جبکہ پلڈاٹ کے سروے بھی یہی کہہ رہے ہیں کی سیاسی لحاظ سے ن لیگ اب بھی ایک وننگ اننگز کھیل سکتی ہے ۔ ہو سکتا ہے کہ ن لیگ کو ایک سیاسی طاقت مان کر قبول کر لیا جائے اور شہباز شریف کے ساتھ معاملات طے کر لیے جائیں ۔ یہ بی پلان بھی ہو سکتا ہے ۔ پلان اے یقیناً ایک کمزور اور یتیم سا عمران خان ہی لگتاہے ۔ اگرچہ کہا جارہا ہے سعودی حکومت نے اپنے کسی معاملے کے ضمن میں لیگی قیادت کو اپنے ہاں بلایا ہے لیکن سوال یہ ہے کہ نواز شریف اور شہباز شریف کے علاوہ دوسرے لیڈروں کو کیوں بلایا ہے ؟ اس لیے لگتا یہی ہے کہ معاملہ وہی ہے جس کا پوری اپوزیشن کو ڈر ہے ۔ نواز شریف وہی کردار ادا کرنے پر راضی ہو سکتے ہیں جو ان کے والد اس سے پہلے ادا کر چکے ہیں ۔ سعودی عرب کے موجودہ حالات یہی بتا رہے ہیں کہ وہ کسی زرداری یا عمران کی حکومت کا رسک نہیں لے سکتے ۔ ان کی بات پر کان دھرنا کیوں ضروری ہے ، یہ بتانا اس لیے غیر ضروری ہے کہ نوکری کی تے
نخرہ کی ! لیکن اس سب کے باوجود موجودہ حکومت کے سامنے آگ کا ایک دریا ہے اور اسے ڈوب کر عبور کرنا ہے !

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *