جشنِ سالِ نَو !!

Dr.Azhar waheed

یوں تو انسانی تاریخ اور تہذیب میں بہت سے تہوار ایسے ہیں جنہیں احمقانہ کہا جا سکتا ہے، لیکن نیا سال منانے کا تہوار بجا طور پر عالمی سطح کا ایک احمقانہ پن ہے۔ بلاتخصیص مشرق و مغرب ہر قوم رات کے سمے گھڑیوں کی ٹک ٹک دیکھ کر ایسے مبہوت ہوئی چلی جاتی ہے جیسے آدھی رات کو سورج کے طلوع ہونے کی اطلاع ہو۔۔۔۔ اور پھر یکلخت پھلجھڑیوں اور مبارکبادوں کا ایسا سلسلہ کہ رکنے میں نہ آئے۔ انسانی شعور کی اپنی ہی گھڑی ماہ و سال کی تقویم پر ہندسے بدلنے کا جشن؟ چہ معنی دارد؟؟ کیلنڈر کے ہندسے بدلنے میں انسانی کوشش کا بھلا کیا دخل؟ آخر انسان اپنی کس کاوش پر مغرور و مخمور ہوا جاتا ہے؟ تقویم کبھی تکوین بھی بنتی ہے کیا؟ وقت اور مال کے ہندسوں کے بدلنے سے اوقات نہیں بدلتی۔ اوقات بدلنے کیلئے ہندسوں کی جگہ افکار اور کردار کا بدلنا ضروری ہوتا ہے!!

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *