ایک بہادر شخص کی شاعری

2

وہ اپنے بچپن کے دن یاد کرتے ہوئے بتاتے ہیں کہ کیسے وہ اپنے والد کے ساتھ سکوٹر پر سکول جاتے ہوئے والڈ سٹی میں موجود دکانوں کے سائن بورڈ پڑھا کرتے تھے۔ پنجابی زبان کے شاعر اور لیفٹسٹ پولیٹیکل ایکٹوسٹ عرفان ملک والڈ سٹی میں پیدا ہوئے تھے۔ انہوں نے مزید بتایا: میرے والد ادبی شخص تھے اور پیپلز پارٹی کے ایکٹوسٹ بھی تھے ۔ وہ مجھے گھر گھر بھیج کر خواتین کو ووٹ ڈالنے کا طریقہ سکھاتے۔ عرفان کے تمام بہن بھائی بھی کتابی کیڑے تھے اس لیے بچپن میں ہی عرفان کو مختلف قسم اور زبان کے ادبی مجموعے اپنے گھر پر میسر تھے۔ جب وہ ہائی سکول کے طالب علم تھے تبھی انہوں نے مختصر کہانیاں لکھنے کا آغاز کیا۔ ان کا کام دھنک میں باقاعدگی سے چھپتا تھا۔ وہ میگزین اور اخبارات باقاعدگی سے پڑھتے تھے لیکن اکیڈیمک سٹڈی اپنی بری کارکردگی کی وجہ سے جاری نہ رکھ سکے۔  وہ کہتے ہیں: میں اکثر گورنمنٹ کالج جایا کرتا اور وہاں کے ادب میں دلچسپی رکھنے والے لوگوں سے دوستی  کرتا۔ میرے دوستوں میں شاہد جمال، احمد خلیل، اکرام الحق اور سراج منیر جونئیر شامل تھے۔ زبیر احمد سمیت ہم سب لوگ پاک ٹی ہاوسمیں ۔حلقہ اح باب ذوق۔ کے سیشن میں باقاعدگی سے شامل ہوتے تھے۔ وہاں کوئی ہماری بات سننے کو بھی تیار نہ ہوتا تھا اور ہم ہر بار شرمندہ ہو کر واپس آتےتھے۔ہم نے ۔نئے افق۔ کی بنیاد رکھی جو ایک ادبی فورم تھا اور ہم نے ہفتہ وار سیشن بھی شروع کیے جن میں پنجابی اور اردو ادب کی اعلی کتب کا مطالعہ اور بحث و
مباحثہ کیا جاتا۔ یہ سیشن کیفے گرین میں ہوا کرتے تھے جو رتی گان روڈ پر واقع ہے۔ اس میں نوجوانوں کی شرکت کی وجہ سے یہ پروگرام ۔حلقہ۔ سے بھی زیادہ مشہور ہوا۔ اس دوران ہمارا لیفٹسٹ لوگوں سے بھی واسطہ پڑا۔ کچھ بورنگ سٹڈی سرکل اٹینڈ کرنے کے بعد میں باسط میر سے بہت متاثر ہوا جن کا تعلق کمیونسٹ پارٹی سے تھا۔ وہ بہت ذہین اورتعلیم یافتہ شخص تھے۔ میں جب ضیا نے مارشل لا لگایا تو مجھے محسوس ہوا کہ ادبی کی بجائے سیاسی جدو جہد کی ضرورت ہے۔ میں نے ۔نئے افق۔ کا اجلاس طلب کیا اور لوگوں کی رائے معلوم کی۔ عارف جمال کے علاوہ کوئی بھی اس معاملے میں میری بات ماننے کو تیار
نہ ہوا۔ انہوں نے کمیونسٹ پارٹی کے لیےکچھ سال بھر پور کام کیا اور لاہور میں ضیا حکومت کے خلاف کھڑے ہونے والے سیاسی کارکنان کی صف میں شامل رہے۔ وہ بتاتے ہیں: میں نے پارٹی ساتھیوں سے اختلافات کی وجہ سے چھوڑ دی۔ مجھے پولیس اور دوسری سکیورٹی فورسز نے تنگ کرنا شروع کردیا اور آئے روز میرے گھر پر چھاپے پڑنے لگے۔ تب میں نے اپنی سویڈش بیوی کے ساتھ سویڈن منتقل ہونے کا فیصلہ کر لیا۔ یہ ۱۹۸۴ کا واقعہ ہے۔ میرے اوپر تب بہت مشکلات آئیں۔ ایک نئے ملک میں جہاں کے عوام کی زبان میں نہیں جانتا تھا وہاں سیٹل ہونا، مالی مشکلات وغیرہ وغیرہ۔ اورپھر میری بیوی بھی مجھ سےعلیحدہ ہو گئی۔ میرے لیے مختصر کہانیاں لکھنا مشکل ہو گیا۔ لاہور سے جانے کے بعد میں صرف تین کہانیاں لکھ پایا۔  انہوں نے اینتھروپالوجی، انڈولوجی اور کچھ دوسری زبانوں کی تعلیم سویڈن کی ایک یونیورسٹی سے حاصل کی جن میں ہندی، سنت بھاشا، براج اور اوادھی جیسے زبانیں شامل تھیں لیکن آخری مقالہ لکھنے سے قبل ہی تعلیم کو خیر باد کہنا پڑا اور ۱۹۹۵ میں امریکہ منتقل ہو گئے۔ کمائی کے حصول کے لیے انہوں نے بوسٹن یونیورسٹی سے آئی ٹی کی تعلیم حاصل کی اور ہاورڈ یونیورسٹی میں آئی ٹی پروفیشنل کے طور پر۲۰ سال تک فرائض سر انجام دیے اور ایک سال قبل وہاں سے ریٹائر ہوئے۔ ان کی شاعری کا پہلا مجموعہ ۔وچ جگراتے ستی تانگ۔ ۱۹۹۲ میں شائع ہوا۔ اس کے بعد انہوں نے تین اور کتابیں بعنوان اکاٹھ، نون غنہ اوردوجی عورت بھی لکھیں۔
اب وہ ایک ناول لکھنے میں مصروف ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ صحت کے مسائل اور کئر فری سٹائل کی وجہ سے انہوں نے ابھی تک صرف تین چیپٹر ہی لکھے ہیں۔ زندگی کے اتار چڑھاو کا سامنا کرتے ہوئے عرفان ملک نے ہمیشہ امید کا دامن تھامے رکھا۔ اگرچہ وہ اپنے زمانے کے شاعروں اور لکھاریوں کے ساتھ ملتے جلتے رہتے تھے لیکن ان کی اپنی شاعری میں کسی خاص شخصیت کا رنگ دکھائی نہیں دیتا۔ ان کی شاعری ایسے ہے جیسے ایک مختصر کہانی لکھنے والا شخص وقت کی دھند میں کھو گیا ہو۔ لاہور والڈ سٹی کی تفصیلات جس طرح انہوں نے باریک بینی سے اپنی شاعری میں بیان کی ہیں اس سے ایک قاری کو ان کی صلاحیتوں کا اندازہ ہو جاتا ہے۔ مختلف موضوعات پر درد بھری شاعری لکھنے والے شخص کے اپنے لوگوں کے بارے میں احساسات کا اندازہ ان کی تحاریر سے ہوتا ہے اور ہر قاری یہ جان سکتا ہے کہ شاعر نے کس قدر بہادری اور حاضر دماغی کا ثبوت دیا ہے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *