وہ ملک جس نے ہاتھیوں کی نسل بچا لی

6

ایلسٹر لیٹ ہیڈ

پرنس ہیری افریقن پارکس گروپ کے نئے صدر ہیں۔ اس تنظیم کا کام نینشل پارکس کی نگرانی کرنا اور رینجرز کو ملٹری طرز کی ٹریننگ دینا ہے تا کہ وہ وائلڈ لائف کے تحفظ میں اپنا کردار ادا کر سکے۔ بی بی سی ٹیم نے اس تنظیم کے زیر انتظام ایک پارک کا دورہ کیا جو زکومہ کے شہر چاڈ میں موجود ہے۔ خوبصورت درختوں اور سر سبز گھاس سے بھرے اس پارک میں خوبصورت اور صحت مند ہاتھی اور ان کی پر کشش آوازیں دل خیرہ کر رہی تھیں۔ اس پارک میں ہاتھیوں کا سب سے بڑھا جھنڈ موجود تھا جو کئی کلومیٹر کے فاصلے تک پھیلا ہوا تھا۔ کسی انسان کی آس پاس موجودگی کی بھنک بھی ان ہاتھیوں کو ہو جائے تو یہ فوری طور پر وہاں سے دوسری طرف چلے جاتے ہیں۔ رینجرز کی ٹیم البتہ یہ خیال رکھتی ہے کہ کوئی بھی ہاتھی ایک مقررہ علاقے سے باہر نہ چلا جائے۔ زکومہ نیشنل پارک تک پہنچنے کےلیے ہماری ٹیم نے ۳ گھنٹے کا ہوائی سفر کیا۔ ایک دور میں ۳۸۰۰ کلو میٹر پر پھیلے اس علاقے میں ہزاروں ہاتھی موجود تھے لیکن پھر سوڈانی شکاریوں نے ہاتھی دانت کی خاطر ان کا شکار کرنا شروع کر دیا۔ پہلے پہل تیروں اور تلواروں سے ہاتھیوں کیا شکار کیا جاتا تھا پھر اے کے ۴۷ کا استعمال کیا جانے لگا۔ آج بھی ان ہاتھیوں کو سب سے زیادہ خطرہ سوڈانی شکاریوں سے ہے۔ ۱۹۷۰ کی دہائی میں زکومہ کے ۲۲۰۰۰ ہاتھیوں میں سے ۹۰ فیصد ہاتھی شکار

1

بن چکے تھے۔ ۲۰۰۰ تک ہاتھیوں کی تعداد کم ہو کر صرف ۴ ہزار کے قریب رہ گئی اور پھر خانہ جنگی کے بعد ۲۰۱۰ میں یہ تعداد صرف ۵۰۰ تک محدود ہو کر رہی گئی۔ جانوروں کی حفاظت پر معمور رینجرز اور ہاتھیوں کو بےدردی سے قتل کیا گیا اور ایسا لگنے لگا جیسے بہت جلد زکوما سے ہاتھیوں کی نسل ہی ختم ہو جائے گی۔ لیکن پچھلے چند سالوں میں حالات پر مکمل طور پر قابو پا لیا گیا۔  کچھ ہی سالوں میں ایک پرائیویٹ نان پرافٹ تنظیم نے حالات کا رخ مکمل طور پر بدل کر رکھ دیا۔ افریقن پارکس نامی تنظیم نے زکومہ میں خاص طور پر شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے۔ پارک مینیجر لیون لیمپریٹ کا کہنا ہے کہ خطرات کے پیش نظر پارک کی حدود پر رینجرز تعینات کیے گئے ہیں جنہیں ملٹری ٹریننگ دی جاتی ہے۔ لیکن اس بات کا خیال رکھا جاتا ہے کہ ملٹری آپریشن کی ضرورت نہ پڑے۔ کوشش یہ کی جاتی ہے کہ جانوروں پر حملہ کرنے والوں کو گرفتار کیا جائے اور جانوروں کی جان کو سب سے زیادہ اہمیت دی جاتی ہے۔ اس معاملے میں تنظیم کو لوکل کمیونٹی اور گورنمنٹ کا تعاون بھی حاصل رہتا ہے۔ یہ تنظیم دنیا بھر کے ۹ ممالک میں حکومتی درخواست پر اپنے فرائض سر انجام دیتے ہوئے ۱۳ جنگلی علاقہ جات کے تحفظ کو یقینی بناتی ہے۔ پچھلے پانچ سال میں زکومہ میں کوئی رینجر اہلکار حملہ آوروں کا شکار نہیں ہوا اور پچھلے ۱۸ ماہ میں کوئی ہاتھی بھی شکار نہیں ہوا۔ لیکن اس کامیابی کا سفر بہت کٹھن تھا۔ ۲۰۱۲ میں ۷ رینجر اہلکاروں پر مشتمل ٹیم نے شکاریوں کے ایک گروپ کا سراغ لگایا اور رات پر انہیں پکڑنے کےلیے ان کی آمد کا انتظار کرتے رہے لیکن صبح کی عبادت کے وقت شکاریوں نے ٹیم پر حملہ بول دیا ۔ اسی واقعہ کے بعد افریقن پارکس تنظیم نے رینجرز کو ملٹری ٹریننگ دلوانے کا فیصلہ کیا تا کہ وہ شکاریوں کے حملے سے محفوظ رہ سکیں۔ تنظیم کے چیف

3

ایگزیکٹو کا کہنا ہے کہ جانوروں کو مارنے والے شکاری بھی تربیت یافتہ ہوتے ہیں اور وہ کسی قانون کی پیروی بھی نہیں کرتے۔ اس لیے ان لوگوں سے
نمٹنے کے لیے سکیورٹی فورسز کو بھی اعلی درجہ کی تربیت دینا لازمی ہے۔ ایک رینجر اہلکار کو بھرتی کے بعد ۸ ہفتے کی بنیادی تربیت اور ۴ ہفتوں کی ہتھیار چلانے کی تربیت دی جاتی ہے۔ امیر مغربی خاندان جب جنگلی زندگی کو دیکھنے کا فیصلہ کرتے ہیں تو چاڈ بھی ان کی ترجیحات میں شامل ہوتا ہے۔ پیٹر فیرن ہیڈ کے مطابق افریقن پارکس کو ایک پارک کی نگرانی کے لیے سالانہ ۱ سے ۵ ملین ڈالر کا خرچ برداشت کرنا پڑتا ہے۔ یہ رقم ڈونرز اور خاص طور پر یورپی یونین کی مدد سے پوری ہوتی ہے۔ جانوروں کے شکاریوں کو روکنے کےلیے سب سےاہم چیز آس پاس کے لوگوں کی ہمدردی اور حمایت حاصل کرنا ہے۔ اس مقصد کےلیے ان لوگوں کو نوکریاں اور بچوں کو تعلیم کی سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں۔ پارک کے آ س پاس کے لوگوں کو ایک ریڈیو نیٹ ورک فراہم کیا گیا ہے جسے وہ رینجرز کو خبردار کرنے کےلیے استعمال کر سکتے ہیں۔ سکیورٹی کی بہتری کے لیے ان اقدامات کا اس قدر فائدہ ہوا ہے کہ اگلے سال ۶ رائینوز کو زکوما منتقل کرنے کا منصوبہ بنایا جا رہا ہے۔ چاڈ کی حکومت بھی منصوبے سے بہت خوش ہے۔ حکومتی عہدیدار کا کہنا تھا کہ تنظیم کے ساتھ معاہدہ بہت فائدہ مند رہا ہے اور جانوروں کی تعداد میں نمایا ں اضافہ ہوا ہے اس لیے ہم اس مفید معاہدہ کو طول دینا چاہتے ہیں۔ افریقن پارکس

4

کو زکومہ کے علاقے میں مگر مچھوں کی ایک خاص نسل کی حفاظت کی بھی ذمہ داری دے دی گئی ہے۔ دنیا میں ہاتھیوں کا سب سےبڑھا جھنڈ زکومہ میں پایا جاتا ہے اور ہر طرف ہاتھی گھومتے نظر آتے ہیں۔ ۲۰۱۳ میں ۳ سال سے کم عمر صرف ایک ہاتھی زکومہ میں موجود تھا اب یہ تعداد ۸۵ ہے۔ جب سے پارک اس تنظیم کی نگرانی میں ۶ سال قبل آیا، وائلڈ لائف میں تین گنا اضافہ ہو چکا ہے اور ہاتھیوں کی آبادی بھی بڑھ چکی ہے جس کی وجہ سے دنیا بھر
سے زائرین آنے لگے ہیں۔ تنظیم کے سربراہ کے مطابق ان کی جنگ صرف شکاریوں کے خلاف نہیں بلکہ ایسے تمام ذرائع اور افراد کے خلاف ہے جو وائلڈ لائف کو کسی بھی طریقے سے نقصان پہنچا کر غیر قانونی تجارت میں اپنا کردار ادا کرتے ہیں۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *