نواز شریف کی نا اہلی انصاف و احتساب کی جیت ہے اور جہانگیر ترین کی نہیں؟ عمران خان اور کتنا گر سکتے ہیں؟

6

اروبہ تسنیم

پچھلے کئی سال سے اختیارات اور احتساب کو الگ الگ رکھ کر جانچا جاتا تھا لیکن پچھلے چند ماہ میں صورتحال مکمل طور پر تبدیل ہو گئی ہے۔ نواز شریف کی نااہلی سے جہانگیر ترین کی نا اہلی تک احتساب ہمارے سیاسی نظام میں تیزی سے پیوست ہو رہا ہے۔ پاکستانی معاشرہ ہمیشہ سے عدل اور انصاف کی تلاش میں سرگرداں رہا ہے۔ پہلے تو یہ ناممکن نظر آتا تھا لیکن اب کچھ امید کی کرن نظر آئی ہے۔ لیکن طاقت کے بھوکے لوگوں کےلیے یہ اچھا شگون نہیں ہے اور انہیں یہ بلکل پسند نہیں آ رہا۔ کچھ ماہ قبل ن لیگ کے حنیف عباسی نے عمران خان اور جہانگیر ترین کے خلاف ہائی کورٹ میں پٹیشن دائر کی تھی۔ کئی ماہ کی سنوائی کے بعد عدالت نے جہانگیر ترین کو نا اہل قرار دیا جب کہ عمران خان کے بری کر دیا گیا۔ بہت سی پارٹیوں نے اس بات پر شور مچایا کہ یہ انصاف نہیں ہوا بلکہ لاڈلے کو بچانے کےلیے جہانگیر کو قربانی کا بکرا بنایا گیا ہے اور نواز کی نااہلی کا توازن بنانے کی کوشش کی گئی ہے۔ یہی ہمارا سب سے بڑا مسئلہ ہے۔ ہماری سیاسی پارٹیاں ذاتی مفاداور لالچ کی لت میں اس قدر ڈوب چکی ہیں کہ وہ اپنی کوئی غلطی ماننے پر تیار ہی نہیں ہوتیں اور اپنی غلطی کو ٹیکنیکلٹی پر منحصر قرار دے دیتی ہیں۔ نواز شریف کے خلاف آنے والے فیصلے کے بعد اس ٹیکنیکلٹی کے خلاف ایک بیانیہ متعارف کروایا جا رہا تھا اور اپوزیشن اور خاص طور پر پی ٹی آئی اس کی سخت مخالفت کر رہی تھی۔ نواز شریف کی نا اہلی پر پی ٹی آئی انصاف، احتساب اور برابری کے گن گا رہی تھی لیکن جیسے ہی ایک پی ٹی آئی رہنما کو نا اہل قرار دیا گیا تو منافقین  کی بلی تھیلے سے باہر آ گئی اور ہر طرف چیخ و پکار سننے کو ملی۔ ترین ایک مشہور بزنس مین ہیں اور پاکستان کے امیر ترین لوگوں میں سے ایک ہیں۔ ان کی ان سائیڈر ٹریڈنگ، ایگریکلچرل انکم ٹیکس نہ جمع کروانا اور اثاثوں کی
تفاصیل جمع نہ کروانا ان کی نا اہلی کی بنیاد نہیں تھا بلکہ ان کی نا اہلی ایک ٹینکل مسئلہ کی بنیاد پر ہوئی۔ یہ دعوی تھا عمران خان کا جب جہانگیر ترین کو
نا اہل قرار دیا گیا۔  یہ اسی بیانیے جیسا طرز عمل ہے جو ن لیگ نے نواز شریف کی نا اہلی کے بعد اپنایا ہے۔ لیکن عدالتی فیصلے کے بعد عمران خان نے جہانگیر ترین کو سراہا اور انہیں پارٹی کا سیکرٹری جنرل بنائے رکھنے کا فیصلہ کیا جس کی بنیاد وہی ترمیم تھی جس کے تحت نا اہلی کے باوجود پارٹی عہدہ پر قابض رہا جا سکتا ہے جب کہ اس ترمیم کی پی ٹی آئی نے سخت مخالفت کی تھی۔  اب اسی ترمیم کا سہارالے کرجہانگیر ترین کو بچایا جا رہا ہے۔ اس کے باوجود جہانگیر ترین نے استعفی دینے کا فیصلہ کیا جس پر انہیں بہت حوصلہ افزائی اور پذیرائی ملی۔  ایک انٹرویو کے دوران جب جہانگیر ترین اور نواز شریف کی نااہلی کی مماثلت پوچھی گئی تو انہوں نے کہا کہ نواز پاکستان کا سب سے بڑا مجرم ہے جب کہ جہانگیر ترین ایک کامیاب بزنس مین ہونے کی وجہ سے نا اہل قرار پایا ہے۔  میں عمران خانکی بہت سی پالیسیوں کی حامی ہوں لیکن اب صورتحال بدل رہی ہے۔ آغاز سے ہی پارٹی دہرے معیار ۔ طاقت کے غلط استعمال، غیر قانونی کام اور دوسری بری حرکات کے خلاف آواز اٹھا کر اخلاقی پولیس کا کردار ادا کرتی رہی ہے۔ عمران خان کی سب سے اچھی پالیسی یہ تھی کہ جس سیاستدان کے کردار پر سوال اٹھتے وہ ایسے سیاستدان کو پی ٹی آئی میں قبول کرنے پر تیار نہ ہوتے تھے جب تک پراپر چینل یعنی جوڈیشری کے ذریعے وہ شخص اپنے نام کو داغ سے محفوظ نہ کرلے۔  اب ہم دیکھ سکتے ہیں کہ طاقت کا نشہ انسان کو کیسے بدل دیتا ہے۔ یہ نہیں کہہ رہی کہ عمران بدل گئے ہیں۔ موجودہ صورتحال میں مجھے ان سے بہتر کوئی سیاسی لیڈر نظر نہیں آتا لیکن اب وہ وہ والے شاندار، معزز اور قابل احترام عمران خان نہیں رہے جو وہ پہلے ہوا کرتے تھے۔ اب وہ ترین، چوہدری، کھر، اعوان، جتوئی جیسے لوگوں کی لمبی فہرست کی نمائندگی کرتے ہیں۔  اب انہیں احتساب اور انصاف سے زیادہ الیکٹیبلز کی تلاش میں دلچسپی ہے۔ میرے جیسے نظریاتی سپورٹرز کے لیے یہ بہت دکھ بھری اور مایوس کن بات ہے۔  پی ٹی آئی نے بہت سخت محنت کی اور اس کے باوجود اسے خاطر خواہ تعداد میں سیٹیں نہ مل سکیں۔ لیکن عمران نے ہمت نہیں ہاری۔ ۲۰۱۱ کی بہت بڑی ریلی نے عمران کی تقدیر بدل دی۔ جب سے پی ٹی آئی نے الیکٹیبلز کو بھرتی کرنا شروع کیا ہے مجھے اچھا نہیں لگ رہا۔ تبدیلی اور نوجوانوں کی نمائندگی کا نعرہ آہستہ آہستہ مانند پڑتا گیا۔  ترین پارٹی کے ایک اہم رکن تھے اور انہوں نے فائنانس کے معاملے میں قابل قدر خدمات سر انجام دی ہیں۔ لیکن وہ پی ٹی آئی کا وہ چہرہ نہیں ہے جس کا ہم انتظار کر رہے ہیں۔ جب عمران نےآف شور کمپنیوں کا ذکر کیا تو انہیں جہانگیر ترین کی کمپنیوں کا بھی ذکر کرنا چاہیے تھا۔ ایسا نہ کر کے انہوں نے پی ٹی آٗی کے نظریہ کو نظر انداز کیا جس نظریہ پر یہ پارٹی ۱۹۹۶ میں بنائی گئی تھی۔ عمران نے جہانگیر ترین کو ملک کے لیے قربان نہیں کیا بلکہ عدلیہ نے جہانگیر کو نا اہل قرار دیا۔ یہ سب سے زیادہ افسوسناک بات ہے۔ ججز کے فیصلوں کا احترام کرنے اور انہیں مبارکباد دینے کے ساتھ ساتھ یہ بھی ضروری ہے کہ ہم اپنی قیادت کا احتساب کرین چاہے وہ نواز ہو، بلاول ہو، زرداری ہو یا عمران خان ہو۔ ان سب لوگوں نے اپنے ملک کےلیے کوئی قابل ذکر کام نہیں کیا۔لیکن سب سے حیران کن چیز عمران خان کا ریسپانس تھا۔ ہمارا خیال تھا کہ وہ سچائی کے ساتھ کھڑے رہیں گے چاہے عدالتی فیصلہ ان کی پارٹی کے سی فرد کے خلاف آئے یا کسی اور شخص کے۔ لیکن انہوں نے ہمیں غلط ثابت کر دیا۔  جس عمران کو میں جانتی اور عزت کی نگاہ سے دیکھتی ہوں وہ سیاسی اور ذاتی مصلحتوں کو بالائے طاق رکھ کر، اپنی فیملی اور جائیداد سے علیحدگی اختیار کر کے پاکستان میں تبدیلی کی کوشش کر رہا ہے۔ ایک نظریاتی پی ٹی آئی سپورٹر کی حیثیت سے میں یہ دعا کرتی ہوں اور امید رکھتی ہوں کہ عمران خان بہت جلد اپنی پالیسیوں پر نظر ثانی کریں گے۔ اگر ایسا نہیں ہوا تو اس کا مطلب یہ ہو گا کہ عمران خان بھی محض ایک ایسی سیاسی پارٹی کے قائد ہیں جو پاکستان کو ناامیدی اور اندھیروں میں دھکیلنے کے لیے سیاست کر رہی ہے۔ اگر ایسا ہوا تو پھر پاکستان کو بچانے کےلیے ہمیں آسمان سے کسی معجزہ کا ہی انتظار کرنا ہو گا۔
پاکستان پائندہ باد

نواز شریف کی نا اہلی انصاف و احتساب کی جیت ہے اور جہانگیر ترین کی نہیں؟ عمران خان اور کتنا گر سکتے ہیں؟” پر ایک تبصرہ

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *