نیا سال پرانے لوگوں کو مبارک ہو

afshan huma

پرانے لوگ پرانے ہی رہتے ہیں چاہے کوئی بھی وقت یا دور ہو۔ پرانے لوگ عمر سے پرانے نہیں ہوتے۔ وہ اپنی سوچ سے پرانے ہوتے ہیں۔ ان کو اس بات کا ادراک نہیں ہو پاتا کہ وہ پرانی ریت روایات کو سینے سے لگائے کتنی صدیوں کا سفر کر چکے ہیں۔ اور اس تمام تر سفر میں دنیا کہیں کی کہیں پہنچ گئی لیکن ان کی سوچ اب بھی اپنی گلی سے باہر نہیں نکل پائی۔ کیونکہ وہ روزانہ اپنے گھر سے گلی کی نکڑ تک کا سفر طے کرتے ہیں، اپنی سوچ کو وہیں چھوڑ ایک خالی وجود دفتر، دکان یا کسی بھی کام کاج پر جاتے ہیں اور واپسی پر اپنی گلی کی نکڑ ہی پر آکر اپنی اسی سوچ سے واپس ملتے ہیں۔ روزانہ کے اس چکر میں وہ سمجھتے ہیں کہ انہوں نے بہت کمال کیا۔ گھر واپس آ کر ان کی زبان پر پہلا فقرہ ہوتا ہے بیٹا کوئی ہے تو پانی پلا دو، میں بہت تھک گیا ہوں آج۔ ان لوگوں کی زندگی میں اس دن بھونچال آ جاتا ہے جس دن ان کے گھر کا کوئی بچہ یا بچی اپنی سوچ سمیت گلی کی نکڑ سے آگے نکل جاتا ہے۔ وہ اگلے وقت میں سفر شروع کر دیتا ہے۔ اس کی زندگی     اسے ایک نئی دنیا اوراس کی بدلتی روایات سے روشناس کروا دیتی ہے۔ اس دن ایک ہی گھر میں دو ادوار ایک ساتھ گزرنا شروع ہوتے ہیں۔ ایسے گھروں میں خلیج دیکھی سنی اور محسوس کی جا سکتی ہے۔

۲۰۱۸ کے پہلے ہفتے میں مجھے اس سوچ نے شدت سے پریشان کر رکھا ہے کہ پاکستانی گھروں اداروں اور معاشرے میں یہ خلیج بہت بڑھتی چلی جا رہی ہے۔ ہر طرف آپ کو دو انتہائوں پر کھڑے اپنی اپنی سوچ میں مقید لوگ مل جائیں گے۔ ایک کثیر تعداد میں وہ لوگ ہیں جو آج بھی یہ سمجھتے ہیں کہ  فلم دیکھنا شیطانی عمل ہے، تصویر بنوانا گناہ ہے اور موسیقی سننا حرام ہے۔ عورت کا گھر سے بلا ضرورت باہر نکلنا ممنوع ہے نیز مرد اور عورت کبھی دوست نہیں ہو سکتے۔  اداروں میں بھی دیکھئے تو آپ کو بکثرت ایسے افراد ملتے ہیں جن کے لیے دفتر ایک مقررہ وقت میں چند سونپے گئے کام کرنا اور کچھ کاموں کو کل پر چھوڑنا لازم ہے۔ افسران بالا کے آگے آنکھیں، کان، ناک اور منہ بند کر کے سر تسلیم خم رکھنا ہی اولین فرض منصبی ہے۔ اعلی افسر وہ ہوتا ہے جو مشکل ترین انگریزی لکھتا اور بولتا ہے۔ بہترین کارکردگی یہ ہے کہ افسر کی ہر غلط بات کو نہ صرف صحیح مانا جائے بلکہ اس کابار بار اظہار بھی کیا جائے کہ افسر نے جو کہا ہے وہی صحیح ہے۔ ایک نظر معاشرے پر بھی ڈالیں تو اس سوچ کے حامل افراد بے شمار مل جائیں گے جو کہتے ہیں کہ مال و دولت رکھنے والوں کی عزت کرنا چاہئے، جس کے گھر دانے اس کے کملے بھی سیانے۔ مولانا، اساتزہ، ڈاکٹر، وکیل اور ہر وہ شخص جو معاشرے میں ایک معتبر مقام حاصل کر لیتا ہے اس کی ہر بات کو حرف آخر سمجھ لینا چاہئے اور کبھی سوال نہیں اٹھانا چاہئے۔ اس سوچ کے حامل افراد کے مطابق مرد کو عورت پر، ہر بڑے کو چھوٹے پر،  پڑھے لکھے کوان پڑھ پر، امیر کو غریب پر اور طاقتور کو کمزور پر فوقیت حاصل ہے اور رہنی بھی چاہئے۔

اب آتے ہیں ان بیچارے نئی سوچ رکھنے والوں کی طرف ان کی غلطی یہ ہے کہ یہ اپنی سوچ اپنی گلی کی نکڑ پر چھوڑ کر نہیں پھرتے۔ یہ اپنی سوچ ساتھ لیے پھرتے ہیں اس لیے ان کی سوچ میں روزانہ تبدیلی واقع ہوتی ہے۔ ان کے مطابق کوئی شخص صرف اس لیے صحیح نہیں ہو جاتا کیونکہ وہ بلند مقام پر ہے، ان کے مطابق صحیح اور غلط بھی کلی طور پر واضح نہیں ہیں۔ ان کے مطابق  معاشرے کے معتبروں کو بھی سوال کیا جا سکتا ہے۔ ان کے خیال میں ایک بچہ اپنے بڑوں سے ذیادہ سمجھدار بھی ہر سکتا ہے، ایک طالب علم اپنے اساتذہ سے ذیادہ سیکھ سکتا ہے، ایک عورت مرد سے بہتر کارکردگی کر سکتی ہے، ایک ان پڑھ بہت سے عالموں سے ذیادہ عقلمند ہو سکتا ہے اور کبھی بھی انسان کی کہی ہوئی بات حرف آخر نہیں ہوتی اس لیے اس پر تنقید و تدوین ہو سکتی ہے۔ ان نئی سوچ کے حامل ذیادہ تر افراد یا تو اس وقت درمیانی عمر کے ہیں یا اس سے بھی کم۔ ایک بہت بڑی تعداد بیرون ملک تعلیم یا تربیت لے چکی ہے۔ انہیں معلوم ہے کہ دنیا جدیدیت سے آگے نکل کر پوسٹ ماڈرنزم میں پہنچ گئی اور ماڈرنزم کے بت ٹوٹ چکے۔

 یکم جنوری ۲۰۱۸، نئے سال پر بہت سے مبارکباد کے میسجز آئے اور میں ان تمام میسجز میں ایک مشترک بات دیکھ رہی تھی کہ پاکستانی افراد پرانی سوچ کے مرہون منت نئے سال کی مبارکباد دیتے ہوئے بھی ڈرتے ہیں اس لیے اسے بھی بہت سے ایسے الفاظ کا لبادہ اوڑھاتے ہیں کہ کہیں کوئی گستاخی نہ ہو جائے۔ مجھے ان تمام میسجز میں ایک ہی پیغام ملتا رہا اور وہ یہی تھا پاکستان میں پرانے لوگوں کو نیا سال مبارک ہو۔۔۔نئی سوچ کو یہاں آزدی کے لیے کم از کم ایک اور صدی چاہئے ہو گی۔

 

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *