تھائی لینڈ میں مردانہ عضو کی رنگت گوری کرنے کا رجحان

Man on hospital bed

پچھلے کچھ ہفتوں میں تھائی لینڈ میں مردانہ عضو خاص کو سفید کرنے کا ایک ٹرینڈ شروع ہو گیاہے جس نے دنیا بھر کو حیرت میں ڈال دیا ہے کہ آیا تھائی لینڈ بیوٹی انڈسٹری حد سے آگے تو نہیں بڑھ رہی۔ بہت سے ایشیائی ممالک میں رنگ گورا کرنے کی مختلف تراکیب آزمائی جاتی ہیں کیونکہ کالی رنگت والے افراد کو مزدور طبقہ سے جوڑ کر غربت کی زندگی گزارنے پر مجبور کیا جاتا ہے۔

جیسے ہی تھائی لینڈ میں کلینک کے اندر عضوخاص کو گورا کرتےہوئے ایک ویڈیو لے کر سوشل میڈیا پر پوسٹ کی گئی تو یہ دنیا بھر میں توجہ کا باعث بنی۔ اس واقعہ کے بعد ہیلتھ منسٹر نےاس نظام کے خلاف وارننگ جاری کر دی ہے۔ بی بی سی تھائی سروس نے جب یہ اقدام اٹھانے والے ایک مریض سے گفتگو کی تو اس کا کہنا تھا کہ وہ سوئمنگ سوٹ میں اپنے آپ کو زیادہ پر اعتماد دکھانےکے لیے ایسا کرنے پر آمادہ ہوئے۔ انہوں نے بتایا کہ اس مقصد کےلیے انہیں کئی سیشن کے عمل سے گزرنا پڑا اور تازہ ترین سیشن دو ماہ پہلے ہوا۔ تب سے وہ اپنے عضوخاص کے رنگ میں ایک واضح تبدیلی دیکھ سکتے ہیں۔فیس بک پر جب اس عمل کی پوسٹ شئیر ہوتی تو فورا وائرل ہو گئی اور ایک دن میں 19 ہزار سے زیادہ لوگوں نے اسے شئیر کیا۔ پوسٹ میں ٹریٹمنٹ روم کی پکچرز اور عمل سے پہلے اور بعد کی السٹریشن شامل تھی۔

پوسٹ پر کمنٹ کرنے والوں نے ملے جلے خیالات کا اظہار کیا۔ کچھ لوگوں نے اس کا مذاق بھی اڑایا۔ ایک شخص کا کہنا تھا کہ ایسا کرنے کا ایک ہی فائدہ ہے کہ اسے ٹارچ لائٹ کے طور پر استعمال کیا جا سکے۔ ایک لڑکی نے لکھا کہ مجھے رنگ سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ میرے لیے سائز اور موومنٹ زیادہ اہمیت رکھتی ہے۔پوپول ٹانساکل جو لیکلس ہسپتال کے مارکیٹنگ مینجر ہیں جہاں یہ سروسز پیش کی جاتی ہیں نے بتایا کہ 6 ماہ پہلے ویجائنا واٹننگ کریم بھی جاری کی گئی ہے۔تبھی کچھ مریضوں نے پوچھا کہ اس کے مقابلے میں عضو خاصکو گورا کرنے والے پراڈکٹس کیوں تیار نہیں کیے جاتے۔ تو ہم نے یہ سروسز بھی شروع کرنے کا فیصلہ کر لیا۔ انہوں نے بتایا کہ 5 سیشن پر مشتمل اس مکمل لیزر ٹریٹمنٹ پر 650 ڈالر کا خرچ آتا ہے۔ لیکن ابھی تک یہ اندازہ نہیں ہوا کہ ایسے مردوں کی تعداد یا شرح کتنی ہے جو اس ٹریٹمنٹ سے فائدہ اٹھانا چاہتے ہیں۔ اب تک اس ہسپتال میں ماہانہ 20 سے 30 کسٹمر آتے ہیں جن کا تعلق میانمار، کمبوڈیا، ہانگ کانگ سے ہوتا ہے۔

A screenshot from the commercial for the Snowz whitening product

تھائی لینڈ کے ہیلتھ منسٹر نے بر وقت حرکت میں آتے ہوئے وارن کیا ہے کہ عضو خاص کی رنگت بدلنے کے مراحل سے سائیڈ ایفیکٹ ہو سکتے ہیں جیسے درد، جلدن، سوزش اور یہاں تک کہ نظام تولید پر بھی منفی اثر پڑ سکتا ہے۔ اگر بیچ میں علاج ترک کر دیا جائے تو جسم کے اہم حصے پر داغ ظاہر ہو سکتے ہیں۔ منسٹر نے اپنے بیان میں کہا: یہ کوئی ضروری چیز نہیں ہے بلکہ اس پر رقم خرچ کرنا فضول خرچی ہے۔ اس سے مثبت سے زیادہ منفی اثرات سامنے آ سکتے ہیں۔

پھچلی چند دہائیوں میں ساوتھ ایسٹ ایشیا میں سکن وائٹننگ ایک مشہور ٹرینڈ رہا ہے۔ لیلکس کے مطابق ان کے 50 فیصد سے زیادہ کسٹمرز صرف رنگ گورا کروانے کےلیے آتے ہیں۔ اس ٹرینڈ کے پیچھے یہ ذہنیت ہے کہ گورے رنگ کے حامل افراد کو ورکنگ کلاس کا حصہ نہیں سمجھا جاتا اور انہیں اس لیے کھیتوں میں کام کرنے کی مجبوری کا سامنا نہیں کرنا پڑتا۔ مارکیٹ میں سکن واٹننگ پراڈکٹس کی بے شمار ورائٹی موجود رہتی ہے لیکن اگر کوئی چیز متنازعہ بنی ہے تو اشتہار ہیں جن کے ذریعے ان پراڈکٹس کو پروموٹ کیا جاتا ہے۔مثلا ایک سکن واٹننگ کریم کے اشتہار کے یلے ایک کمپنی نے بینکاک کے پبلک ٹرانسپورٹ فورم پر لکھوا دیا: یہاں صرف سفید رنگت والے بیٹھ سکتے ہیں۔ایک دوسری تھائی کاسمیٹکس فرم کو رنگ گورا کرنے کے پراڈکٹ کی ایڈ اس وقت سوشل میڈیا سے غائب کرنا پڑی جب اسے نسل پرست قرار دے کر سخت تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔ اس ایڈ میں ایک مشہور ایکٹریس نے دعویٰ کیا تھا کہ اس کی گوری رنگت نے اس کی کامیابی میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ لیکن پھچلے چند سالوں میں گوری رنگت کے حوالے سے عوام کا رویہ تبدیل ہو رہا ہے۔


Courtesy:BBC

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *