ایران میں سوشل میڈیا ایڈورٹائزنگ کی اندرونی کہانی

ہولی ڈیگریس

فاطمہ اپنی گاڑی کی ڈرائونگ سیٹ پر بیٹھ کر پلے سٹیشن  اپنی گود میں رکھ لیتی ہے۔ جب اس کا خاوند کار میں داخل ہوتا ہے تو وہ اسے جنم دن کی مبارکباد دیتی ہے۔ اس کا خاوند اسے پوچھتا کہ آیا اس کے لیے فاطمہ نے کچھ گیمز حاصل کر رکھی ہیں۔ وہ نہیں میں جواب دیتی ہے کیونکہ اسےنہیں معلوم کہ اس کے شوہر محمد کو کونسی گیمز پسند ہیں۔ وہ محمد کو کہتی ہے کہ وہ پلے سٹور پر جا کر پسند کی گیمز لے سکتے ہیں۔ وہ ایک ایرانی گانے کی دھن پر ڈانس کرتے ہوئے روانہ ہو جاتے ہیں۔ یہ ان ایڈورٹائزمنٹ میں سے ہے جو فاطمہ اور محمد نے اپنے انسٹا گرام پر جاری کی ہیں۔ اس جوڑے کے 9 لاکھ سے زیادہ فالوورز ہیں اور یہ ہر طرح کی ایڈورٹائزمنٹ میں کام کرتے دکھائی دیتے ہیں۔

سیلز اینڈ مارکیٹنگ ایکسپرٹ فرہاد نے المونیٹر کو بتایا کہ انسٹا گرام پر صرف یہی جوڑا متحرک نہیں ہے۔ محمد امین کریم پور جیسے دوسرے مشہور لوگ بھی ہیں جو احمقانہ ویڈیوز شئیر کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ ۴ ملین ریال کے عوض یہ لوگ اشتہاری ویڈیو بنانے پر تیار ہو جاتے ہیں جو ٹیلی گرام اور انسٹا گرام پر شئیر کی جاتی ہیں۔ لیکن صرف انسٹا گرام کے پھیلنگ ایرونی جیسے اکاونٹ کے لیے یہ لوگ صرف ۱۰۰۰ ریال چارج کرتے ہیں اور دو گھنٹے کے بعد ویڈیو ڈیلیٹ کر دیتے ہیں۔ پھیلنگ ایرونی اکاونٹ جس کے ۱۱ لاکھ فالوورز ہیں پرہر طرح کی بہت سی ایڈز پوسٹ کی جاتی ہیں۔

دوسرے ایرانی انٹر پرینر بھی انسٹا گرام کے ذریعے اپنے برانڈ کو پروموٹ کرتے ہیں۔ ٹیزار پلازا ایک آن لائن شاپنگ ریٹیل سٹور ہے جو ایلیٹ طبقہ کے لیے دنیا بھر سے مختلف قسم کے پراڈکٹس ۱۴ دن کے اندر ڈیلیور کرنے کی گارنٹی دیتا ہے۔ یہ پلازا ۲۰۱۲ میں قائم کیا گیا تھا جو بیورلی ہل آف ایران کے نام سے مشہور تھا لیکن دو سال بعد ہی اسے آن لائن شاپنگ پر منتقل کر دیا گیا۔

انسٹا گرام کو اپنے بزنس کے لیے استعمال کرنے والوں میں ٹیزار پلازا بھی شامل ہے جہاں میک اپ آرٹسٹ، نیل آرٹسٹ، ٹیٹو آرٹست، ڈیزائننگ، سے متعلقہ تمام پراڈکٹس فروخت کے لیے پیش کیے جاتے ہیں۔ صرف فیشن سےمتعلقہ درجنوں آن لائن شاپس اس ایپ سوشل میڈیا سائٹ پر موجود ہیں۔

سوشل میڈیا سے قبل لوگ انفرادی خبروں کے ذریعے یہ اپنے گھریلو بزنس کی شہرت کو یقینی بناتے تھے۔ خاص طور پر یہ طریقہ ترکی، امریکہ، فرانس، اور یورپ سے آنے والے مختلف کپڑوں اور لباس کے بزنس کے حوالے سے اختیار کیا جاتا تھا۔ سوشل میڈیا کی آمد کے بعد یہ لوگ اپنے پراڈکٹ کو انسٹا گرام اور ٹیلی گرام جیسی ایپس کے ذریعے عوام تک باسانی پہنچا سکتے ہیں۔

منسٹر آف کلچراینڈ اسلامک گائیڈنس کے مطابق اس وقت ایرا ن میں 47 ملین ایکٹو سیشل میڈیا یوزر ہیں جو کل آبادی کے نصف سے زیادہ ہیں۔ اگرچہ سب سے مشہور انسٹا گرام ہے لیکن ٹیلی گرام نے بھی ملک کی سوشل میڈیا مارکیٹ میں اپنا لوہا منوا رکھا ہے۔

ایران کے بڑے ۱۰ ٹیلی گرام چینلز کے ۸ لاکھ سے ۲ ملین تک ممبران موجود ہیں۔ ان کے مینیجرز اپنےاکاونٹ پر انحصار کرتے ہوئے ایڈورٹائزینگ کے زریعے پیسے کماتے ہیں جیسا کہ ویسٹ میں اکثر دیکھنےکو ملتا ہے۔ ٹیچراسا کے مطابق یہ چینل اپنے چارجز مقبولیت، کام کے معیار اور ممبران کی تعداد کی بنیاد پر لیتے ہیں۔ ان کی رینج 2.5ملین ریال سے 4.4 ملین ریال تک ہوتی ہے جو صرف ایک ایڈ کی قیمت ہے اور ایڈ صرف ۲ گھنٹے ایکٹو رکھی جاتی ہے۔

ایران کے ای کامرس ڈویلپمنٹ سینٹر کا دعوی ہے کہ ایران میں آن لائن شاپنگ سے سالانہ ۱۸ بلین ڈالر کاروبار کوتا ہے جب کہ اس میں انسٹا گرام اور ٹیلی گرام پر ہونے والی شاپنگ کی رقم بھی شامل نہیں ہے۔ اگرچہ ایرانی حکومت کو ان اعداد و شمار کا پورا علم ہے لیکن یہ چیز کچھ اہلکاروں کو اس بحث سے دور نہیں رکھ سکتی کہ فیس بک اور ٹویٹر کی طرح انسٹا گرام کو بھی فلٹر کیا جانا چاہیے۔

کئی سال تک سخت مزاج ایرانی آفیشلز نے ٹیلیگرام کے خلاف طرح طرح کی مہمیں چلائی ہیں۔ اس طریقے سے حکومت کا سینسر شپ کا پلان بہت ڈسٹرب رہا ہے۔ ستمبر ۲۰۱۷ میں ٹیلیگرام کے سی ای او کے خلاف عدالت میں ایک پٹیشن دائر کی گئی جس میں موقف اختیار کیا گیا کہ اس ایپ کے ذریعے دہشت گردوں کی مدد اور غیر اخلاقی اور غیر قانونی حرکات کی جاتی ہیں جن میں بچوں کی برہنہ تصاویر، انسانی سمگلنگ اور نشہ آور اشیا کی فروخت جیسے بھیانک جرائم شامل ہیں۔

جواب میں سی ای او نے دعوی کیا کہ یہ سب الزامات جھوٹ ہیں اور پورن اور ٹیرر سے متعلقہ ہر طرح کا مواد اس ایپ پر بلاک کیا گیا ہے۔ اصل بات یہ ہے کہ حکومت اس ایپ کو شہریوں پر جاسوسی کرنے کےلیے استعمال کرنا چاہتی ہے جو ہم کسی صورت نہیں ہونے دیں گے۔

آن لائن ایڈورٹائزینگ اور شاپنگ کا فیوچر تابناک ہے لیکن ایک چیز یقینی ہے۔ اگر حکومت ایک ایپ کو بند کرے گی تو ایرانی شہری طوری طور پر دوسری ایپ سے شانگ شروع کر دیں گے۔

ھائی ٹیک شاپنگ کے اس دور میں بھی کچھ لوگ ایسے ہیں جو اینٹ کی بنی دوکان کو زیادہ ترجیح دیتے ہیں۔ اصفہان سے تعلق رکھنے والی سحر نے المونیٹر کو بتایا کہ وہ شاپنگ انسٹاگرام پر ہی کرتی ہیں۔ ۵ سالہ سحر نے انسٹا گرام سے جوتے، سیڈیز، اور ٹوائز خرید رکھے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ان کے دوسرے گھر والے بھی آن لائن شاپنگ کرتے ہیں لیکن انہیں اس طریقے پر کوالٹی اور ریٹرن پالیسی کے حوالے سے تسلی نہیں ہے۔ ان کے خیال میں آج بھی لوگ خود سٹور پر جا کر خریداری میں زیادہ تسلی بخش محسوس کرتے ہیں۔


Courtesy:https://www.al-monitor.com/pulse/en/originals/2017/11/iran-social-media-advertising-instagram-telegram-business.amp.html?__twitter_impression=true

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *