اردگان کے حماتیوں کے لیے خاص رعایت

عنبرین زمان

ترکی کے سب سے مشہور پراسیکیوٹر نے اس قانون کو قانون کی موت قرار دیا جب کہ حکومتی عہدیدار کے مطابق اس قانون کا مقصد دہشت گردی سے موثر طریقے سے نمٹنا تھا۔ لیکن آپ جس زاویہ سے بھی دیکھیں حکومت نے جو تازہ ترین ایمرجینسی قوانین پیش کیے ہیں ان کا واحد مقصد حکومت کے حامیوں کو قانونی تحفظ فراہم کرنا ہے۔ تازہ ترین قوانین جو حکومت میں منظور کیے ان کے مطابق حکومت گرانے کے عمل کا حصہ بننے والوں کے خلاف کوئی بھی ایکشن لینے والے شہریوں کو قانونی طور پر محفوظ قرار دیا گیا ہے۔ ان لوگوں کو بھی قانونی تحفظ سے نوازا گیا ہے جو کسی ایسے شخص کے خلاف طاقت کا استعمال کریں جو کسی بھی طرح سے حکومت کو گرانےکی کوشش میں مصروف ہو۔

جولائی ۲۰۱۶ مین ترکی میں ایک بغاوت کی ناکام کوشش کی گئی جس کا مقصد طیب اردگان کو قتل کرنا اور حکومت پر فوجی قبضہ تھا۔ لیکن عوام کی طرف سے اس بغاوت کی سخت مزاحمت کی گئی اور بغاوت کو مکمل طور پر ناکام بنا دیا گیا۔

حکومتی ترجمان ماہر انال کا کہنا ہے کہ یہ قانون صرف بغاوت کے دوارن اور اس کے پیش نظر پیش آنے والے لوگوں کے لیے ہے لیکن اپوزیشن کا کہنا ہے کہ اس قانون کے ذریعے عوام کو شدت پسندی اور مخالفین کے خلاف طاقت کے استعمال کی کھلی چھوٹ دی گئی ہے۔ ری پبلکن پیپلز پارٹی کے ایم پی اے اوزگر اوزل کا کہنا تھا کہ حکومت نے ہر کسی کو کھلی چھوٹ دی ہے کہ وہ دہشت گردی کا مقابلہ کرنے کی آڑ میں جس کو چاہے قتل کر دے۔

صدارتی امیدوار میرال اکسینر نے ٹویٹر پر حکومت کو خبردار کرتے ہوئے اس قانون کی حماقتوں پر روشنی ڈالی۔سابق صدر عبداللہ گل بھی اس موقع پر خاموش نہ رہ سکے اور قانون کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ اس طرح کا قاون بے بنیاد ہے اور اسے فوری طور پر بدل دینا چاہیے۔ اگر ایسا نہ کیا گیا تو بھیانک نتائج سامنے آ سکتے ہیں۔

Image result for tayyab urdgan

اس قانون کی سب سے بڑی خامی یہ ہے کہ اردگان کے حامی فوجی ان کے کسی بھی سیاسی مخالف کے خلاف کاروائی کا اختیار حاصل کر چکے ہیں اور اس طرح ایک شخص کی طاقت کو بڑھاوا دینے کا کام کر سکتے ہیں۔

ہووارڈ ایسن سٹیٹ مڈل ایسٹ ڈیموکریسی پراجیکٹ کے سینئر فیلو ہیں جو سینٹ لارنس یونیورسٹی میں شعبہ تاریخ میں پروفیسر کی حیثیت سے خدمات سر انجام دیتے ہیں۔ انہوں نے اپنے تازہ ترین مضمون میں لکھا ہے طیب اردگان اس بارے میں پریشان ہیں کہ ان کے خلاف ایک بار پھر سے بغاوت ہو سکتی ہے اور انہیں قتل بھی کیا جا سکتا ہے۔ اس لیے وہ ایک خفیہ ملٹری کنٹریکٹر کے ذریعے سکیورٹی کی نئی راہیں بنا رہے ہیں۔

گروپ کے بانی عدنان تنیر وردی جو پہلے ترکی فوج کے جنرل ہوا کرتے تھے اور انہیں ریڈیکل اسلامسٹوں سے ہمدردی کے شبہ میں فوج سے برخاست کر دیا گیا تھا اب دہری ترقی پاتے ہوئے صدر کے مشیر بن چکے ہیں۔ ایسن سٹیٹ کے مطابق اردگان اور تنریوردی کے تعلقات میں ترکی کی ملٹری اور سکیورٹی سروسز کو سیاسی رنگ دینے کا عمل واضح نظر آتا ہے۔ اس سے یہ امکان بھی واضح ہوتا ہے کہ آنے والے وقتوں میں عدلیہ کو بھی سیاسی دشمنوں سے نمٹنے کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔ اس کے باوجود ایسن سٹیٹ کا کہنا ہے کہ ترکی کے عوام جمہوریت کے دفاع کے لیے گولیاں کھانے کے لیے اور اپنی جان کا نذرانہ دینے کے لیے بھی تیار ہیں۔

بغاوت کی رات اردگان کے کچھ حمایتیوں نے اپنے ہتھیار بھی فوج کے خلاف استعمال کیے۔ اعداد و شمار کے مطابق اس رات بغاوت کی کوشش میں ۳۶ فوجی اہلکار مارے گئے جن میں سے ۷ ایسے تھے جہنیں بوسپورس برج پر قتل کیا گیا۔ ان فوجیوں میں سے زیادہ تر عام فوجی تھے جو اپنے کمانڈرز کے احکامات بجا لانے میں مصروف تھے۔ خاص طور پر ایک ۲۱ سالہ نوجوان فوجی جو ابھی اپنی ائیر فورس اکیڈمی کا طالب علم تھا اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھا۔ نوجوان جس کا نام تیقن تھا کی موت کی ویڈیو سوشل میڈیا پر بھی شئر کی گئی تھی۔ ان کی بہن مہتاب تیکن اپنے بھائی کے قتل پر انصاف کے لیے مہم چلاتی رہیں۔ اوڈا ٹی وی کی طرف سے شئر کیے گئے ایک ویڈیو کے مطابق مہتاب کا کہنا تھا کہ انصاف کے محکمہ نے ان کی تمام دھائیوں کو بے دردی سے نظر انداز کر دیا۔

انہوں نے ایک تازہ ترین بیان میں کہا: ایسا لگتا ہے کہ میرے بھائی کے قاتلوں کو سزا نہیں ملے گی اور انہیں قانونی تحفظ فراہم کر دیا گیا ہے۔ ہم پورا خاندان بہت مشکل میں ہیں کیونکہ مرات میرا اکلوتا بھائی تھا۔


courtesy:https://www.al-monitor.com/pulse/originals/2017/12/turkey-new-emergency-laws.html

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *