انگریزی آج بھی راج کر رہی ہے

عرفان حسین

Photo-Irfan-Hussain-sb-2

پاکستان کو چاہیے کہ بیرونی ممالک اور دوسری زبانوں میں تیار مواد کے ترجمہ کےلیے انویسٹمنٹ پر غور کرے۔مجھے کسی نے بتایا تھا کہ اگر آپ کے پاس ایک اچھا سوٹ ہے اور آپ انگریزی بول لیتے ہیں تو پاکستان میں آپ کبھی بھوکے نہیں مریں گے۔ یہ سچ ہے کیونکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ انگریزی جاننے کا مطلب ہے آُپ کسی بااثر خاندان سے تعلق رکھتے ہیں جس نے آُ پ کو انگلش میڈیم سکول میں تعلیم دلوائی اور اس سکول کی وجہ سے آپ کی دوستی بھی اچھے اور با اثر لوگوں کےسا تھ بن پائی۔ اسی طرح اگر آپ کے پاس ایک اچھا سوٹ ہے تو آپ کسی بھی شادی کی تقریب میں گھس کر سیر ہو کر کھانا کھا سکتے ہیں۔

جو لوگ ان دو خصوصیات سے محروم ہیں ان کےلیے یہ ایک بری خبر ہے۔ ابھی کسی غریب کا بچہ بلوغت کو نہیں پہنچتا کہ سہولیات پر امیرانہ طبقہ قابض ہو چکا ہوتا ہے۔ اس کی بنیادی وجہ ہمارا خراب تعلیمی نظام ہے جس میں انگریزی کو حد سے زیادہ اہمیت دے کر معاشرے میں تقسیم کے عمل کو بڑھاوا دیا جاتا ہے۔ اگرچہ انگلش میڈیم سکولوں کی تعلیم بھی کوئی خاص اعلی درجے کی نہیں ہوتی لیکن صرف انگلش میڈیم نام ہی خاندانوں کے لیے اس لیے باعث کشش رہتا ہے کہ انہیں لگتا ہے انگلش میڈیم سکول میں ان کا بچہ بہتر تعلیم حاصل کرے گا جو کہ حقیقت کے برعکس معاملہ ہے۔

جو لوگ زیادہ غریب ہوتے ہیں وہ بچوں کو مدرسے میں بھیج دیتے ہیں جہاں بچوں کو رٹا لگانے کے علاوہ کوئی سکل نہیں سکھائی جاتی اور مدارس سے فارغ التحصیل لوگوں کے لیے ایک ہی پیشہ رہ جاتا ہے جو کہ مساجد میں قران کی تعلیم دینا اور امامت کرنا ہے۔ اس میں ناکامی ان بچوں کو جہاد یا جرائم کا راستہ اختیار کرنے پر اکساتی ہے جس کے نتیجہ میں ان بچوں کا کیریر بہت مختصر ہو کر رہ جاتا ہے۔

تیسرا اور سب سے زیادہ اہمیت کا حامل راستہ یہ ہوتا ہے کہ بچے کو پرائیویٹ سکول سے تعلیم دلوائی جائے جہاں یہ خیال کیا جاتا ہے کہ اعلی درجے کی انگریزی تعلیم دی جاتی ہے۔ بہت کم ایسے پرائیویٹ سکول ہیں جہاں بہت ہی اعلی تعلیمی نظام ہو۔ ایسے اداروں میں داخلہ کےلیے والدین کو ڈویلپمنٹ فنڈز اور ایڈوانس میں بھاری فیس ادا کرنا پڑتی ہے۔ ان اداروں سے تعلیم کے بعد ہی بچوں کے لیے کارپوریٹ سیکٹر ، سول سروس میں نوکری پانے یا اپنا بزنس شروع کرنے کے دروازے کھلتے ہیں۔

یہ لاٹری دنیا بھر میں ہر ملک میں پائی جاتی ہے جہاں امیر طبقہ اپنی دولت کی وجہ سے بچوں کو اعلی تعلیم اور بہترین نوکری دوانے میں کامیاب رہتا ہے اور اسے ہمیشہ غریب طبقہ پر فوقیت حاصل رہتی ہے۔ لیکن کچھ ممالک میں پاکستان کی طرح یہ تقسیم بہت واضح اور تکلیف دہ حد تک بڑھی ہوئی ہے۔

کچھ دن قبل میرے ایک دوست نے میری توجہ اس معاملے کی طرف دلوائی کہ ہمارے ملک میں انگریزی کو حد سے زیادہ اہمیت دی جا رہی ہے جو نا مناسب ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ کچھ لوگوں کو صرف انگریزی پر عبور نہ ہونے کی وجہ سے مواقع سے محروم رکھا جاتا ہے باوجود اس بات کے کہ وہ بہت قابل اور محنتی لوگ ہیں۔ انہوں نے خاص طور پر انفارمیشن ٹیکنالوجی کے شعبہ کا ذکر کیا جس میں ٹیکنیکل مہارت کو انگریزی بول چال سے ہمیشہ زیادہ اہمیت دی جانی چاہیے لیکن ایسا نہیں ہوتا۔

میں نے یہ سوال ایک ایسے انٹرپرینر کے سامنے رکھا جو بہت سے آئی ٹی انجینئرز کو بھرتی کر چکا ہے۔ اس کا جواب تھا کہ اگرچہ لوگ بہت قابل ہوتے ہیں لیکن اگلے لیول تک جانے کےلیے انہیں بہت تکنیکی نوعیت کی کتابیں پڑھنا پڑھتی ہیں جو صرف انگریزی میں دستیاب ہیں اس لیے انگریزی سے واقفیت کو سب سے زیادہ اہمیت دی جاتی ہے۔

جب میں ایک ٹیکسٹائلز یونیورسٹی کا صدر تھا تو میں نے بھی اسی بات پر اصرار کیا تھا کہ طلبا کو کسی حد تک تو انگریزی سے واقفیت ہونی چاہیے ۔ اس لیے نہیں کہ بننے اور مشینیں چلانے کےلے انگریزی کی ضرورت ہوتی ہے بلکہ اس لیے کہ یہ ادارہ یونیورسٹی اس لیے کہلاتا ہے کہ یہاں کے طلبا کو مختلف شعبہ تعلیمات اور مضامین سے واقفیت ہو۔ تبھی جا کر بچے مستقبل میں دنیا بھر کے خریداروں اور تاجروں سے آزادانہ تجارت کی صلاحیت حاصل کر پائیں گے۔

اردو کی پسماندگی کی ایک وجہ یہ ہے کہ مارکیٹ میں بہترین انگریزی کتابوں کے اردو میں تراجم موجود نہیں ہیں۔ اگرچہ سیاستدان اور ججز ملک بھر میں اردو کو سرکاری زبان کی حیثیت دینے پر بڑے بڑے لیکچر دیتے نظر آتے ہیں لیکن حقیقت یہ ہے کہ وہ اپنے بچوں کو بھی انگریزی میڈیم پرائیویٹ سکولوں میں داخل کراتے ہیں اور پھر اعلی تعلیم بھی انہیں پرائیویٹ کالجز اور یونیورسٹیز سے ہی دلواتے ہیں یا ملک سے باہر بجھوا دیتے ہیں۔ یہاں تک کہ میں نے اپنے بچے کی تعلیم کےلیے بھی یہی طریقہ اختیار کیا اور مجھے یا میرے بیٹے کو اس بات پر کوئی افسوس نہیں ہے۔

افسانوی اور دوسری کتابوں کے تراجم کے بغیر اور اردو کتابوں کی محدود اشاعت کی وجہ سے ہمارا معاشرہ بہت جلدی سے پستی کی طرف گامزن ہے۔ میں آپ کو اس معاملے میں کچھ اہم اعداد و شمار کے بارے میں بتاتا ہوں۔

ایران جس کی کل آبادی ۷۰ ملین ہے اس میں ۲۰۱۴ میں ۷۳۰۰۰ کتابوں کو قومی زبان میں ترجمہ کیا گیا۔ پاکستان میں اسی سال صرف ۴۰۰۰ کتابوں کا ترجمہ کیا گیا۔ یہی حال عرب ملکوں کا ہے پورے ۲۲ ارب ممالک میں پچھلے ایک ہزار سال میں اتنی کتابوں کا ترجمہ نہیں کیا گیا جتنا سپین میں ایک سال میں کیا جاتا ہے۔ ۱۱ ملین رومی عوام ۳۰۰ ملین عرب عوام کے مقابلے میں ۵ گنا زیادہ کتابوں کا ترجمہ کرتے ہیں۔

صرف یہی حقیقت تمام مسلمان ممالک کی پسماندگی کا سارا پول کھول دیتی ہے۔ لیکن ایران اس مسلم دنیا کے مقابلے میں بہت مختلف ہے جہاں حکومتی سطح پر سالانہ لاکھوں کتابوں کو اپنی قومی زبان میں ڈھال لیا جاتا ہے۔پرائیویٹ پبلشرز بہت سی غیر ملکی کتابوں کو قومی زبان میں ڈھال کر اپنے ریڈرز کےلیے پیش کرتے ہیں۔

اس لیے جب تک پاکستانی حکومت کتابوں کے ترجمہ پر انویسٹمںٹ نہیں کرتی تب تک یہاں کوئی تبدیلی آنا ممکن نہیں ہے۔ تب تک ہم ایسے ہی گریجویٹ تیار کرتے رہیں گے جنہیں بین الاقوامی مارکیٹ کے نت نئے تجربات اور خیالات سے کوئی ہم آہنگی نہ ہو۔ جس غربت سے ہم اس قدر لا تعلق رہتے ہیں یہ ہماری زندگی میں تب تک مزید پیوست ہوتی رہے گی۔


Courtesy:https://www.dawn.com/news/amp/1379658#click=https://t.co/LC63kvIQHV

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *