عجب اتحادی کی غضب کہانی

nadeem f paracha

بھارت میں انتہا پسند جماعت بی جے پی کے اقتدار میں آنے کے بعد ایک نئی سکالر شپ متعارف ہو رہی ہے۔ آکسفورڈ یونیورسٹی کے پروفیسر ساوتھ ایشین ہسٹری فیصل دیو جی کے مطابق بھارتی مورخ پاکستان کی تخلیق اور اس کے قائد کے بارے میں ایسی تھیوریز متعارف کروا رہے ہیں جو تقسیم کے وقت مذہبی طبقات اور رائٹ ونگ کے قریبی مورخین نے اپنا رکھی تھیں۔ مشاہدین کا ماننا ہے کہ یہ ہندوں کے نیشنلزم کے بیانیے کو تقویت دینے کے لیے کیا جا رہا ہے جس کے مطابق پاکستان ایک خطرناک مذہبی ریاست ہے اور بھارت میں موجود مسلمانوں کو بھی شک کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔ یہ نئی سکالر شپ بہت احتیاط سے پاکستان اور جناح کے بارے میں بھارت کے سابقہ بیانیے کو حذف کر کے اس کی جگہ لینے کی کوشش میں ہے۔ ۱۹۸۲ میں برطانوی فلم ڈائریکٹر نے اپنی تاریخی فلم ۔گاندھی۔ ریلیز کی۔ مہاتما گاندھی کی زندگی پر بننے والی یہ فلم باکس آفس میں ہٹ ثابت ہوئی۔

۱۹۸۳ میں جب فلم کو ۸ آسکر ایوارڈ ملے تو پاکستانی حکومت اور صدر ضیا الحق نے شکایت کی کہ اس فلم میں قائد اعظم محمد علی جناح کے کردار کو نہ صرف نظر انداز کیا گیا تھا بلکہ انکے کردار پر کیچڑ اچھالنے کی بھی کوشش کی گئی تھی۔ فلم میں جناح کا کردار ایسا دکھایا گیا جس میں وہ کمیونلزم کی طرف جھکاو رکھتے تھے جس کی وجہ یہ تھی کہ وہ گاندھی کی مقبولیت سے بہت متاثر تھے۔ ظاہر ہے کہ فلم رائٹر اور ڈائریکٹر نے اس وقت کے بھارتی عوام کے جناح اور گاندھی کے بارے میں خیالات کو سامنے رکھ کر بنائی گئی تھی۔ یہ تاریخ کانگریس دور کے مورخین نے ۱۹۴۷ سے ۱۹۸۰ کے بیچ کے دور میں لکھی تھی۔

اس فلم میں مہاتما گاندھی کو ایسی کرشماتی شخصیت دکھایا گیا تھا جو جب چاہیں پانی پر بھی چل سکتے تھے اور جناح کو ایسا شخص دکھایا گیا تھا جسے نیشنلزم کی بجائے اپنے سوٹ اور بوٹ کے بارے میں زیادہ فکر مند رہتے تھے۔ فلم کے مطابق جناح نے ہی برصغیر میں کمیونل جذبات کو بھڑکا کر بھارت کو توڑا اور ایک الگ مسلمان ملک بنانے میں کامیاب ہوئے کیونکہ وہ گاندھی کی مقبولیت سے حسد رکھتے تھے۔

اکثر بڑی شخصیات کی موت کے بعد اپنے ایجنڈا کو ترویج دینے کےلیے ان کے بارے میں منفی اور مثبت افسانوی حالات بیان کیے جاتے ہیں۔ فلم میں گاندھی کو سفید فارم انگریزوں کی طرف سے افریقہ میں ریلوے کیرج کے فرسٹ کلاس کمپارٹمنٹ سے نکالے جاتے دکھایا گیا ہے۔ یہ ایک ایسا واقعہ تھا جو کانگریس حکومت اور اس کے حمایتوں کے لیے موزوں تھا۔ حقیقت یہ ہے کہ گاندھی کی فرسٹ کلاس میں سفر کرنے کی خواہش کا احترام کیا گیا تھا۔ دی ٹیلیگراف کے کلچر ایڈیٹر مارٹن چلٹن نے لکھا: یہ واقع نسلی ظلم و ستم کے خلاف جدو جہد کے آغاز کے وقت نہیں بلکہ ساوتھ افریقہ میں نسلی تفاوت کو پروان چڑھانے کی تحریک کے آغاز کے وقت پیش آیا تھا۔ سچ یہ تھا کہ گاندھی کا اصرار تھا کہ معزز بھارتی شہریوں کو سیاہ فارم افریقیوں سے امتیازی سہولیات فراہم کی جانی چاہیں۔ مورخ اور فلمی ناقد الیکس وان ٹنزلمین نے دی گارڈین میں شائع ہونے والے آرٹیکل میں لکھا کہ اس فلم میں گاندھی کے نازی جرمنی کی سربراہی میں شروع ہونے وانے پاور ایکسز کے بارے میں گاندھی کے خیالات کو ایسے دبا کر رکھا گیا کہ ایک مغربی شخص اسے فلم میں دیکھ کر چونک اٹھے۔

یہی حال جناح کی موت کے بعد ان کی ذاتی زندگی کے بارے میں پیدا ہوا۔ ا ن کے بارے میں من مانے واقعات گھڑے گئے۔ کچھ لوگوں کے مطابق جناح بھی ایسی جادوئی شخصیت کے مالک تھے کہ وہ پانی پر بھی چل سکتے تھے۔ گاندھی پر بننے والی فلم کے جواب میں ضیا الحق نے بھی جناح پر ایک بڑے بجٹ والی فلم بنوانے کا سوچا۔ لیکن یہ ممکن نہ ہو سکا کیونکہ جناح کے بارے میں تمام ریسرچ یہ ثابت کرتی کہ جس طرح ضیا الحق انہیں دکھانا چاہتے تھے وہ اس سے بلکل مختلف تھے۔ ضیا نے حکومت میں آتے ہی قائد اعظم کی ایک مذہبی ریاست کے حامی مذہبی لیڈر کی تصویر کشی کی تھی۔

جواب میں ۱۹۸۵ میں عائشہ جلالا نے اپنی کتاب ۔دی سول سپوکسمین شائع کی۔ اس کتاب میں انہوں نے جناح کے بارےمیں وہ تمام معلومات اور حقائق اکٹھے کیے جن کا فلم میں اور تاریخ میں ذکر ملتا تھا۔ ایک مکمل اور جامع تحقیق کے بعد انہوں نے کتاب لکھی جس میں انہوں نےقائد اعظم کو ایک با شعور، ماڈرن اور پر عزم شخصیت قرار دیا اور پاکستان کے قیام کی وجوہات بیان کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ ہندو مسلم دشمنی کے واقعات کو دیکھتے ہوئے جناح کےلیے ضروری ہو گیا تھا کہ وہ ایک الگ ملک کا مطالبہ کریں۔ جلال نے ثبوتوں کے ذریعے یہ باور کرانے کی کوشش کی کہ قائد اعظم مسلم اکثریت والی ایک مذہبی نہیں بلکہ جدید ریاست کے قیام کے حامی تھے۔

جیسے جیسے یہ بدلتی ہوئی تھیوریاں زیادہ مضبوط ہوتی جاتی ہیں، ان کے خلاف دفاع کرنے والوں کے پاس دلائل کی کمی واقع ہوتی جا رہی ہے۔ اب مزید مشکل بھارت کی طرف سے یہ سکالرشپ انکے لیے کھڑی کر رہی ہے جس میں پاکستان کی تخلیق کے بیانیہ کو ہی ایک نیا رنگ دیا جا رہا ہے جو ضیا کے قائد اعظم اور پاکستان کے بیانیہ کے مقابلہ میں زیادہ انتہا پسندی پر مبنی ہے۔ حال ہی میں کیمبرج یونیورسٹی پریس میں چھپنے والے ایک مضمون ۔نئے مدینہ کی تخلیق کی کوشش۔ میں بھارتی مورخ وینکٹ دھولیپالا یہ ثابت کرنے کی کوشش کرتے پائے گئے کہ پاکستان مکمل طو رپر مذہبی بنیادوں پر قائم کی گئی ایک ریاست ہے اور اس کا نظریہ جرمنی کے نازیزم جیسا ہے۔

ذاتی طور پر مجھے دھولیپالا کے نظریات کا پورا علم نہیں ہے۔ لیکن ان کی کتاب سے یہ اندازہ ہو جاتا ہے کہ ہندو نیشنلسٹ پاکستان کو کیسے دیکھتے ہیں اور خاص طور پر مودی کی حکومت کے قیام کے بعد انتہا پسند ہندوں کا پاکستان کے بارے میں کیا نظریہ ہے۔ کانگریس جو پاکستان کو بھارت کا ہی علیحدہ ہوا ٹکڑا سمجھتی تھی کے مقابلے میں مودی اور انکے چیلوں کایہ نظریہ ہے کہ پاکستان ایک مذہی ریاست کے طور پر قائم ہوا اور اس کا مقصد ہی دہشت گردی کو فروغ دینا ہے۔

حیرت کی بات یہ ہے کہ اگر کوئی ہندو نیشنلسٹوں کے نظریہ کو نظر انداز کرنا چاہے تو بھی ممکن ہے دھولیپالا کی کتاب کے مذہبی دائیں بازو طبقہ پاکستان میں اپنے سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرنا شروع کر دے۔ اس کتاب کے ذریعے پاکستان نے قومیت پرست اورمذہبی قدامت پرست ان نقصان کا ازالہ کر سکتے ہیں جو انہوں نے اپنے انتہا پسند بیانیے کو پروموٹ کرنے کےلیے قوم اور ملک کو پہنچایا۔ یہ ایک عجیب تجویز ہے لیکن قابل عمل ہے۔


Courtesy:http://hilal.gov.pk/index.php/layouts/item/2061-strange-bedfellows

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *