بلوچستان میں ایک بار پھر سیاسی گرما گرمی

عباس ناصر

abbas nasir

بلوچستان حکومت اس وقت سخت مشکلات میں ہے کیونکہ اس کے خلاف مختلف پارٹیوں نے عدم اعتماد کی قرار داد جمع کروا رکھی ہے۔ سرفراز بگٹی کے استعفی کے بعد معاملہ کھل کر سامنے آ گیا ہے جو بلوچستان حکومت اور آرمی کے ترجمان تھے۔ انہوں نے ہی یہ قرارداد پیش کرنے کا عمل شروع کیا تھا۔ ۲۰۱۳ کے الیکشن کے بعد ن لیگ اور نیشنل پارٹی کے بیچ پاور شئیرنگ کا معاہدہ ہوا تھا جس کے مطابق نصف دور ایک جماعت کا وزیر اعلی اور باقی دور دوسری پارٹی کے وزیر اعلی نے پورا کرنا تھا۔ ن لیگ کے ڈاکٹر عبد المالک نے اپنا دور مکمل کر لیا اور نواب ثنا اللہ زہری کو وزیر اعلی بنا دیا گیا۔ ان دو جماعتوں کے ساتھ ایک اور پارٹنر محمود خان اچکزئی کی ملی عوامی پارٹی تھی اور اچکزئی کے بڑے بھائی کو بلوچستان کا گورنر بنایا گیا۔ عبد المالک کی رہنمائی میں بلوچستان میں امن کے قیام کا عمل شروع ہوا۔ اپنے دور کے اختتام تک ڈاکٹر عبد المالک نے یہی ظاہر کیا کہ بیرون ملک مقیم علیحدگی پسند بلوچ لیڈروں سے بات چیت جاری ہے اور مذاکرات کی کامیابی کاواضح امکان ہے۔

لیکن یہ دعوی بے بنیاد ثابت ہوا کیونکہ براہمداغ بگٹی کے علاوہ باقی تمام علیحدگی پنسد باغی لیڈروں نے مذاکرات کے لے تمام ملٹری اور پیرا ملٹری فورسز کی واپسی کی شرط رکھی۔ دوسرے باغیوں کے قریبی ذرائع نے بتایا کہ وہ اپنے ساتھیوں اور عوام کی مشکلات کم کرنے کےلیے مذاکرات کے لیے تیار ہیں لیکن ملٹری نے اس عمل کا آغاز نہ ہونے دیا کیونکہ ملٹری کو اپنی کامیابی کا یقین تھا۔

اگرچہ پردے کے پیچھے جاری رہنے والے سارے معاملات کا تو معلوم نہیں کیا جا سکتا لیکن یہ واضح ہے کہ براہمداغ بگٹی نے بی بی سی کو انٹرویو دیتے ہوئے بلوچستان سے آرمی ہٹانے کی شرط پر مذاکرات پر آمادگی ظاہر کی تھی جس پر انہیں اپنے علیحدگی پسند ساتھیوں کی طرف سے سخت تنقید کا سامنا کرنا پڑا تھا۔

بجائے علیحدگی پسندوں کے اختلافات کا فائدہ اٹھانے اور مذاکرات کا عمل شروع کرنے کے پاکستانی حکام نے متکبرانہ لہجہ اختیار کیا اور یہ موقع ضائع کر دیا، خاص طور پر اس واقعہ کے بعد کہ براہمداغ بگٹی نے مرکزی اور صوبائی حکومت کے کچھ وزیروں سے ملاقات بھی کی تھی۔

یہ ایک مکمل ناکامی ثابت ہوئی کیونکہ ۲۰۱۶ میں براہمداغ بگٹی نے سر عام مودی کا بلوچستان مسئلہ کو اجاگر کرنے پر شکریہ ادا کیا اور بھارت میں سیاسی پناہ کی بھی درخواست کی۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ پاکستان کی صوبائی اور مرکزی حکومت بلوچستان پالیسی میں کوئی کردار ادا کرنے کے قابل نہیں ہیں۔ تو پھر اگلے الیکشن سے صرف 6 ماہ قبل ایک منتخب وزیر اعلی کو عدم اعتماد کے ذریعے نکالنے کے پیچھے کیا محرکات ہو سکتے ہیں؟

اس سوال کے دو ممکنہ جوابات ہیں۔ پہلا ان لوگوں سے متعلق ہے جو ن لیگ کو کسی صورت کامیاب ہوتا نہیں دیکھنا چاہتے۔ ان لوگوں کا بلوچستان حکومت گرانے کا مقصد ن لیگ کو سینیٹ میں اکثریت حاصل کرنے سے دور رکھنا ہے۔

مارچ میں نصف سے زیادہ سینٹرز کی ۶ سال کی مدت پوری ہو جائے گی اور ان کی جگہ نئے منتخب نمائندے لے لیں گے۔ موجودہ ایکویشن میں بلوچستان کی 11 میں 7 سیٹیں ن لیگ آسانی سے جیت سکتی ہے۔ اگر ایسا ہو جاتا ہے پنجاب کی بھی کچھ سیٹیں ملا کر ن لیگ کو سینیٹ میں اکثریت مل جائے گی جو ایک بہت بڑی کامیابی ہو گی۔

اگرن لیگ کے بلوچستانی وزیر اعلی کو بھی حکومت چھوڑنے پر مجبور کر دیا جاتا ہے اور گورنر راج لگ جاتا ہے اور یہی عمل ری ایکش میں ن لیگ کی دشمن حکومتیں سندھ اور کے پی کے میں شروع کر دیتی ہیں تو سینیٹ الیکشن خطرے میں پڑ جائیں گے۔ باشعور مشاہدین کا ماننا ہے کہ بلوچستان کے وزیر اعلی اور ان کے کابینہ کے وزرا نے کچھ ایم پی ایز کو اکیلا چھوڑ کر اپنے مخالفین کاکام آسان کیا ہے۔ اس بات کے حق میں وہ دو دلائل دیتے ہیں۔ پہلی بات سردار اختر مینگل کی ہے۔ کہا جا رہا ہے کہ خضدار سے تعلق رکھنے والے اختر کے حلقے کو یکسر نظر انداز کیا گیا جب کہ اپنے حلقوں پر وزیر اعلی نے بے جا پیسا خرچ کیا۔

اس وقت کے ڈویلپمنٹ منسٹر حامد اچکزئی پر الزام ہے کہ انہوں نے زیادہ تر فنڈز اپنے حلقے قلعہ عبداللہ گلستان پر لگا دیے۔ کہا جاتا ہے کہ انہوں نے اپنے علاقے میں چھوٹے چھوٹے ڈیموں پر ۲ ارب روپے خرچ کر ڈالے اور باقی علاقے کے عوام کی ضروریات کی طرف توجہ نہیں دی۔ثنا اللہ زہری کی قسمت جے یو آئی کے ہاتھ میں ہے لیکن چونکہ مولانا فضل الرحمان فاٹا اصلاحات کے حوالے سے مرکزی حکومت سے اتفاق نہیں رکھتے اس لیے معلوم نہیں جے یو آئی ایف زہری کا ساتھ دے گی یا نہیں۔

ایک دوسرے ذریعے سے معلوم ہوا ہے کہ زہری کا اختلاف کسی اور سے نہیں بلکہ فوج سے ہے۔ یہ معاملہ کسی اور نے نہیں بلکہ فوج نے زہری کے خلاف شروع کیا ہے تا کہ انہیں ریکو دق پراجیکٹ میں دوبارہ مذاکرات پر مجبور کیا جا سکے۔

مائننگ کے سب سے بڑے ٹھیکیدار کی حمایت میں چوہدری افتخار کے دور میں فیصلہ آیا تھا جب سابقہ چیف جسٹس نے اسلم رئیسانی کے دور میں کنٹریکٹ منسوخ کرنے کا حکم جاری کیا تھا۔ شنید ہے کہ فوج چاہتی ہے کہ سیاستدان اس معاملے سے دور رہیں۔

افسوس کی بات ہے کہ طاقت کا یہ کھیل ایک ایسے وقت میں کھیلا جا رہا ہے جب پاکستان اندورنی اور بیرونی طور پر مشکلات کا شکار ہے اور امن و اتحاد کی فوری ضرورت ہے۔ صدر ٹرمپ نے جو رویہ اپنا رکھا ہے اور ہمارے دو اطراف بارڈر پر جو خوف اور جنگ کے سائے لہرا رہے ہیں ایسے دور میں یہ کھیل ملک کے لیے مناسب نہیں ہے۔ آئے روز بہتری کی امید مزید کمزور ہو رہی ہے۔


Courtesy:https://www.dawn.com/news/1381054/balochistan-on-the-boil-again

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *