ائیر مارشل(ر) اصغر خان میرے ہیرو 

ائیر کموڈر ریٹائرڈ ایس سجاد حیدر

air comodor, sajad haider

اصغر خان جو قائد اعظم کی طرح پاکستان کی با اثر شخصیت تھے میرے لیے ایک رول ماڈل تھے جب میں نے 19 سال کی عمر میں آر پی اے ایف جائن کی۔ میں جناح کو ایک خاص اور باقی تمام انسانوں سے بالا تر لیڈر سمجھتا تھا جب میں نے انہیں کوئٹہ کے میکموہن پارک میں پہلی بار دیکھا۔ تب میں 11 سال کا تھا جب جناح نے کہا: ان میں سے کچھ طلبا پاکستان کا دفاع کرنے کےلیے فوج میں شامل ہوں گے۔ تب میں نے فائٹر پائلٹ بننے کا خواب دیکھنا شروع کیا۔ اس وقت اصغر خان ونگ کمانڈر تھے اور رسالپور میں میرے انسٹرکٹر تھے۔ انہی دنوں قائد اعظم اور فاطمہ جناح نے رسالپور اکیڈمی کا دورہ کیا جہاں اصغر خان نے انہیں خوش آمدید کہا۔ میرے انسٹرکٹر نے مجھے تاریخی الفاظ میں نصیحت کی تھی کہ پی اے ایف دنیا کا سب سے بہترین ادارہ ہو گا۔ میں نے اس چیز کو زندگی کا مقصد بنا لیا۔

Falcon Aerobatics team meeting Asghar Khan (second from left). The author is third from right.

خان پہلے انڈین تھے جنہوں نے فائٹر جیٹ کا پائلٹ بننے کا اعزاز حاصل کیا۔ انہوں نے جنگ عظیم دوم میں حصہ لیا اور کشمیر کی جنگ میں بھی اہم کردار ادا کیا۔ انہوں نے کچھ ہی عرصہ میں پاکستان ائیر فورس کو ایک بہت بڑا ادارہ بنا دیا۔ میری خان سے پہلی ملاقات 1957 میں ایک ائیر شو پر ہوئی جو امریکی ملٹری وفد کی آمد پر منعقد ہوا تھا۔ میں ٹیم کا سب سے کم عمر فائٹر تھا۔ کچھ عرصہ تک ہماری صرف سرسری ملاقاتیں ہوتی رہیں اور پھر 65 کی جنگ میں ہم اکٹھے لڑ رہے تھے ۔ اس موقع پر اصغر خان نے ہمیں ٹاپ سیکرٹ آپریشنل پلان اور پی اے ایف وار ڈاکٹرائن کے بارے میں بھی بتایا۔

مجھے یاد ہے کہ ایک بار ایک انڈین سپائی بامبر نے پاکستانی حدود کی خلاف ورزی کی۔ ائیر ڈیفنس سسٹم نے فوری طور پر حرکت کی۔ ایک نوجوان فلائٹ آفیسر اس طیارے کو 40 ہزار فٹ نیچے لایا اور پائلٹ اور نیوی گیٹر دونوں کو گرفتار کر لیا گیا۔ پی اے ایف کے تمام افسران بہت مہارت سے کام کرتے تھے۔ اس کی وجہ وہ عزم تھا جو خان صاحب نے ان کے دلوں میں اپنی ٹریننگ کے ذریعے پھونک دیا تھا۔ اسی جذبہ سے ہم نے 65ء کی جنگ لڑی۔ اس وقت اصغر خان ریٹائر ہو چکے تھے لیکن انہوں نے ہمیں پورے جذبے کے ساتھ لڑنے کےلیے رخصت کیا۔

اس کے بعد میری ملاقات خان صاحب سے اسوقت ہوئی جب میرا ان سے قریبی تعلقات بنانے کا ارادہ بنا۔ 1965 جنگ کی 25 ویں برسی پر سابقہ ائیر چیف اور کچھ بڑے افاسران کو پی اے ایف سرگودھا مدعو کیا گیا تھا۔ میں اپنی بیوی کے ہمراہ خان صاحب سے ملا اور ان سے 90ء الیکشن کے بارے میں دریافت کیا اور ہر طرح کی مدد کی یقین دہانی کروائی۔ انہوں نے میری بیوی کو پوچھا کہ وہ میری کچھ عرصہ کےلیے مدد لے سکتے ہیں اور انہوں نے ہاں میں جواب دیا۔ اس کے بعد میں 6 ہفتے تک ان کے ساتھ الیکشن مہم میں مشغول رہا۔ تب میں نے دیکھا کہ وہ بہت اعلی اخلاق والے، بڑے عزم والے اور پر اثر شخصیت تھے۔

وہ پریشان نہین ہوتے تھے اور غصہ بھی نہیں کرتے تھے ۔ وہ ایک عام اور معمولی انسان کی زندگی جیتے تھے۔

Asghar Khan's recent visit to the author's home in December, 2017. All photos are by the author.

1990 الیکشن میں دھاندلی ہوئی۔ مجھے خان صاحب نے حکم دیا کہ اس دھاندلی کے خلاف الیکشن کمیشن میں پٹیشن دائر کروں ۔ انہوں نے جسٹس طارق سعید کو بھی میرا ساتھ دینے کا کہا ۔ میرے پاس دھاندلی کے واضح ثبوت تھے جو میں نے تین ججز پر مشتمل بینچ کے سامنے پیش کیے۔

سی ای سی نے میری پٹیشن کو درست قرار دیا لیکن ایک کمزور اور مغلوب ای سی نے الیکشن کے بعد صرف اتنا کیا کہ خان کو ایک خط لکھ دیا۔مجھے یاد ہے کہ الیکشن کے دوران ایک کمیونٹی کے سربراہ جس نے قصائی کے طبقہ کے 3000 ووٹ کا دعوی کیا تھا نے مجھ سے پوچھا کہ کیا وہ خان صاحب سے مل سکتا ہے؟ میں نے بتایا کہ ان سے ہر کوئی مل سکتا ہے۔ اس شخص نے خان صاحب سے ملاقات کر کے ووٹ دینے کا وعدہ کیا اور ان سے درخواست کی کہ ان کے محلہ میں چائے کے لیے تشریف لائیں۔ خان صاحب نے اس کی بات مان لی۔ چائے کی دعوت کے دوران معلوم ہوا کہ اس کمیونٹی کا گیس کنیکشن پنجاب حکومت کی طرف سے کاٹ دیا گیا ہے کیونکہ کمیونٹی حکومتی پالیسیوں کے سخت مخالف تھی۔ کمیونٹی نے خان صاحب سے درخواست کی کہ وہ انہیں الیکشن کے بعد کنیکشن بحال کروا دیں۔ خاں صاحب اٹھے اور بولے: میں ایسے وعدے نہیں کرتا جو میں پورے نہ کر سکوں۔ ہر شہری کو میرٹ پر اس کا حق ملنا چاہیے۔ آپ بے شک کسی ایسے شخص کو ووٹ دیں جو آپ کی بات پوری کرنے کا وعدہ کرے۔ وہ ایک باعزت انسان تھے اور لوگ ان کو انڈر ایسٹیمیٹ کرتے رہے اور ان کی قدر نہ کی۔ 5 جنوری 2018 کو خان صاحب اس دنیا سے 97 سال کی عمر میں کوچ کر گئے۔ ان کا ویژن، ہمت، ایمانداری، صداقت یہ سب خصوصیات جناح کی طرح ایک اعلی شخصیت کی تھیں۔ وہ ایک آفیسر، کمانڈر، لیڈر اور عام انسان کی طرح اخلاق کے اعلی درجے پر فائز تھے۔ اللہ انہیں کروٹ کروٹ جنت نصیب کرے۔


Courtesy:https://www.dawn.com/news/1381617/air-marshal-asghar-khan-my-role-model-father-of-pakistan-air-force-and-the-protege-of-jinnah

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *