بلوچستان میں سیاسی ڈرامہ اور سینٹ کے الیکشن 

سید علی شاہ

baluchistan

پچھلے کئی ماہ سے بلوچستان میں سیاسی ٹھہراو تھا۔ لیکن منگل کے روز اچانک حالات نے ایک دوسرا رخ اختیار کر لیا۔ ذیل میں ہم بتائین گے کہ ہو کیا رہا ہے اوراس کی ملک کے لیے کیا اہمیت ہے۔

حال ہی میں بلوچستان اسمبلی کے 14 ایم پی ایز نے وزیر اعلی کے خلاف قرارداد عدم اعتماد پیش کی ہے جو سیاسی پنڈتوں کے مطابق ایک عام واقعہ نہیں ہے بلکہ ایک سوچا سمجھا منصوبہ ہے اور اس کاسینیٹ الیکشن سے خاص تعلق ہے۔ ایوب ترین جو ایک ماہر صحافی اور تجزیہ کار ہیں نے ڈان نیوز سے بات کرتے ہوئے کہا: بلوچستان میں ہونے والی سیاسی سرگرمیاں ملکی سیاست پر دور رس نتائج کا باعث بنیں گی۔

ان استعفوں کی ٹائمنگ بہت معنی خیز ہے۔

بلوچستان کے ۱۱ سینیٹرز اس سال مارچ میں ریٹائر ہو جائیں گے اور ن لیگ کے لیے موقع پیدا ہو گا کہ وہ سینیٹ کی کچھ نشستیں جیت کر ایوان بالا میں اپنی اکثریت بناے جہاں اس وقت ن لیگ کے 65 میں سے 21 سینیٹر موجود ہیں۔ لیکن اس کے لیے ضروری ہے کہ ن لیگ بلوچستان اسمبلی میں اپنی طاقت برقرار رکھے اور اسمبلی کو ٹوٹنے سے بچائے تا کہ یہی اسمبلی سینیٹر منتخب کرنے میں اپنا کردار ادا کر سکے۔

اسی وجہ سے پارٹی کے اندر پڑنے والی دراڑوں کی خبریں ن لیگ کےلیے ایک دھچکہ سے کم نہیں ہیں۔ ابھی تک بلوچستان اسمبلی میں سابقہ ہوم منسٹر میر سرفراز بگٹی، سردار سرفراز ڈومکی اور احمد علی نے استعفے دیے ہیں اور بگٹی نے دعوی کیا ہے کہ آنے والے دنوں میں مزید استعفے آنے والے ہیں۔

صورتحال اور موڈ کو دیکھ کر اندازہ لگایا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ بلوچستان کے سی ایم کےلیےاپنی حکومت بچانا بہت مشکل ہو گا اور وہ اپنی پارٹی کو بھی بچا نہیں پائیں گے۔ انہوں نے اپنے کارڈز بھی کھیلنے شروع کردیےہیں جیسا کہ ق لیگ کےمیر امان اللہ کی برطرفی سے ظاہر ہوتا ہے جو کہ ان کے ایکسائز اور ٹیکسیشن معاملات میں مشیر خاص تھے۔

یہ توقع کی جا رہی ہے کہ وہ ان کے متبادل کا بہت جلد اعلان کر دیں گے۔ اس مشکل وقت میں پی کے ایم اے پی اور نیشنل پارٹی کی طرف سے حمایت کی یقین دہانی سے یقینا وزیر اعلی کو بہت حوصلہ ملا ہو گا۔ محمود اچکزئی جو پی کے ایم اے پی کے چئیرمین ہیں نے ایک بہت بڑی پریس کانفرنس میں اعلان کیا کہ وہ ثنااللہ زہری کے ساتھ کھڑے رہیں گے۔

این پی کے صدر میر حاصل بزنجو نےجن کے پاس بلوچستان کے 25 ایم پی ایز ہیں نے وزیر اعلی کی مدد کی یقین دھائی کروائی ہے اور وعدہ کیا ہے کہ وہ تحقیقات کروا کر معلوم کریں گے کہ ان کی پارٹی کے ایک لیڈر نے عدم اعتماد تحریک میں کیوں اپنا نام شامل کیا۔انہون نے کہا کہ وہ لینگو سے پوچھیں گے کہ انہوں نے ایسا کیوں کیا۔

حیرت کی بات یہ ہے کہ قرار داد عدم اعتماد پر جے یو آئی ایف کے بھی ۴ ایم پی ایز کے دستخط موجود ہیں جب کہ مرکز میں یہ جماعت حکومت کی اتحادی ہے۔ لیکن ذرائع کا کہنا ہے کہ حکومت اپنے اتحادی مولانا فضل الرحمان کے ساتھ بات چیت کر کے انہیں اپنی پارٹٰ کو اس مہم کا حصہ بننےسے دور رکھنے پر آمادہ کر لے گی۔ ۱۴ ناراض افراد میں بی این پی کے چیف سردار اختر مینگل، اے این پی کے زمارک اچکزئی اور مجلس وحدہ المسلمین کے آغا رضا بھی شامل ہیں۔

ن لیگ ماضی میں یہ دعوی کرتی آئی ہے کہ یہ بلوچستان میں سب سے بڑے پارلیمنٹری گروپ کی مالک ہے۔ لیکن اب ایسا لگتا ہے کہ یہ دعوی اور ۲۱ بلوچستان اسمبلی قانون سازوں کی وفاداری حاصل کیے رکھنا بہت مشکل ہوتا جا رہا ہے۔


Courtesy:https://www.dawn.com/news/1380561/the-sudden-political-drama-in-balochistan-and-why-it-matters-for-the-upcoming-senate-elections

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *