ڈونلڈ ٹرمپ کھل کر سامنے آ گئے

DAVID FRUM

david

میں چیزیں ہینڈل کر سکتاہوں کیونکہ میں سمارٹ ہوں۔ میں ان لوگوں کی طرح نہیں ہوں جو سمارٹ ہونے کے جھوٹےد عوے کرتے ہیں۔ میں حقیقت میں سمارٹ ہوں اور چاہتا ہوں کہ لوگ میری عزت کریں۔ آج کی صبح کا صدارتی ٹویٹر اکاونٹ دی گاڈ فادر سیریز کےفریڈو کورلیون کے تاریخی الفاظ کی یاد دہانی کرتا ہے ۔ ٹرمپ نے ٹویٹ میں لکھا کہ ان کی دو سب سے اہم خصوصیات یہ ہے کہ وہ ذہنی طور پر ایک دم تیز دماغ انسان ہیں اور دوسرے وہ بہت سمارٹ ہیں۔ ایک دوسرے ٹویٹ میں انہوں نے اپنے آپ کو stable genius بھی قرار دیا۔

شاید ٹرمپ یہ سمجھتے ہوں کہ وہ مائیکل کورلیون ہیں یا بھی وہ سونی کورلیون ہیں جو دونوں بہت پاورفئل اور تیز اور شاطر دماغ شخصیات تھیں لیکن سچ یہ ہے کہ ٹرم آج سے ہمیشہ کےلیے فریڈو بن چکے ہیں۔ لیکن فلم اور حقیقت میں ایک بہت واضح فرق ہوتا ہے۔ کورلیون فیملی کے پاس یہ اختیار تھا کہ وہ کسی بھی وقت فریڈو کو اقتدار سے نکال باہر کریں۔ لیکن امریکی سیاسی نظام اس معاملے میں زیادہ کامیاب نہیں ہے۔

John Cazale as Fredo Corleone and Al Pacino as Michael Corleone in 'The Godfather: Part II'

مائیکل وولف کی شاندار کتاب جو ٹرمپ وائٹ ہاوس کے بارے میں ہے نے صدر ٹرمپ کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ اب تک ٹرمپ کو جتنی بھی مشکلات پیش آئیں وہ سب چیزیں پردے کے پیچھے تھیں اور ان میں سے کسی چیز کی معلومات عوام تک براہ راست نہیں پہنچ پائیں لیکن کل اور آج ہم نے ٹرمپ کو غصے کی حالت میں جس طرح بلبلاتے دیکھا ہے اس سے تو حالات ہی بدلے ہوئے معلوم ہوتے ہیں۔ کل کے دن ٹرمپ کےسارے ٹویتس وولف کی کتاب ۔فائر اینڈ فیوری۔ سے متعلق تھے۔

اگرچہ یہ ایسا واقعہ نہیں ہے جسے خبر کے طور پر استعمال کیا جا سکے لیکن حقیقت یہ ہے کہ وولف کی کتاب کے الفاظ ایسے ہیں جو سینٹ میجورٹی لیڈر مچ مک کانل نے الیکشن کے وقت ڈونلڈ ٹرمپ کے لیے استعمال کیے تھے۔ انہوں نے کہا تھا: یہ ہر اس چیز پر دستخط کر دے گا جو ہم اس کے سامنے رکھیں گے۔ جس شخص نے بھی پچھلی دہائیوں سے جاننا چاہا کہ ٹرمپ کون اور کیا ہیں اسے اس کا جواب مل چکا ہے۔ صدر بننے سے پہلے وہ امریکہ میں نسل پرست کانسپریسی تھیورسٹ تھے۔ اس سے قبل وہ ایک سلیبرٹی گیم شو کے میزبان تھے۔ اس سے قبل وہ ایک ملٹی بینک رپٹ اور نا قابل اعتماد رئیل اسٹیٹ ڈیلر تھے۔ اس سے پہلے وہ آرگنائزڈ کرائم کی دنیا میں شہرت رکھتے تھے۔ ڈونلڈ ٹرمپ ہمیشہ ایک متنازعہ کردار کے حامل شخص رہے ہیں جنہیں صدارتی الیکشن سے بھی دور رکھا جا سکتا تھا لیکن طاقتور لوگوں نے انہیں تحفظ دیا اور الیکشن میں فتح بھی دلوائی۔ انہیں ہر طرح کا تحفظ دیا گیا اور اب مزید محنت سے انہیں پروٹیکٹ کیا جا رہا ہے۔

ہفتہ کے روز وارد ہونے والے ٹویٹس کو اگر الگ رکھا جائے تو اس دن سب سے اہم سٹوری خبروں میں یہ ہوتی کہ ٹرمپ نے سینیٹ اور ایف بی آئی کو حرکت میں لا کر اپنے ناقدین کا منہ بند کرنے کا عمل شروع کر دیا ہے۔ سینیٹ جوڈیشری کمیٹٰ نے کرسٹوفر سٹیل کے خلاف جو کہ ٹرمپ کے روس سے تعلقات کی معلومات پر مشتمل کتاب کے مصنف ہیں کے خلاف ایک کریمینل ریفرل ڈیپارٹمںٹ آف جسٹس کو بھیج دیا ہے۔ اس ریفرل پر کمیٹی کے چئیر مین کے دستخط موجود ہیں جو ری پبلکن پارٹی سے تعلق رکھنے والےسینیٹر چک گراسلی ہیں۔ اس معاملے کی ڈیموکریٹکس کو بھنک تک نہ لگنے دی گئی جو کہ امریکی سینیٹ جو کہ بہت متوازن ہے کی ترویج کے خلاف عمل ہے۔

شعبہ عدل و انصاف اس طرح کی ریفرل کو نظر انداز کر سکتا ہے۔ لیکن یہ بات خطرناک ہے کہ اسی روز ایف بی آئی ٹرمپ کا حکم مانتے ہوئے کلنٹن فاونڈیشن کے خلاف ایک بہت ہی پرانا کیس کھلوا دے۔ ٹرمپ ایف بی آئی سے سخت ناراض رہتے ہیں اور شکایت کرتے ہیں کہ یہ ایجنسی ان کا حکم نہیں مانتی۔ کیا ایسا کرنے کا کوئی فائدہ ہے؟

ہمیں اس ہفتے نیو یارک ٹائمز کے ذریعے یہ بھی معلوم ہوا کہ اٹارنی جنرل کے ساتھیوں نے ایف بی آئی ڈائریکٹر کومی کے متعلق کیپٹل ہِل کے بارے میں انتہائی نقصان دہ معلومات کے حصول کے طاق میں تھے اور اس مقصد کے لیے وائٹ ہاوس اور مین جسٹس کے قریبی تعلقات کو ملک کے سب سے اہم ادارہ کے خلاف استعمال کرنے کی کوشش میں لگے تھے۔ مائیکل وولف نے ٹرمپ کی ایسی تصویر کشی کی ہے جسے ڈیلیٹ نہیں کیا جا سکتا۔ لیکن ٹرمپ کے بارے میں سب سے اہم بات یہ ہے کہ اصل اہمیت ٹرمپ کی نہیں بلکہ ان کے ارد گرد موجود لوگوں کی ہے جو انہیں استعمال کرتے ہیں۔

2016 میں امریکی عوام یہ سمجھتے تھے کہ ٹرمپ ایک اچھا بزنس لیڈر ہے ، سماجی معاملات میں ماڈریٹ ذہنیت رکھتا ہے اور انہیں امریکہ کی ورکنگ کلاس اور سفید فارم سوسائٹی کے مفاد سے گہری دلچسپی ہے اس لیے وہ ملک کی بہتری کےلیے کردار ادا کر سکتے ہیں۔ اب بھی بہت سے لوگو ایسا سمجھتے ہوں گے لیکن صدر کی حیثیت سے کوئی بھی انہیں بلکل موزوں نہیں سمجھتا۔

ٹرمپ کی اپنی کرسی سنبھالے رکھنے کی وجہ وہ عوام ہیں جو اسے جانتے ہیں لیکن پھر بھی اس کی حمایت کرتے ہیں۔ری پبلکن سیاسی ایلیٹ طبقہ کے لوگ جو جانتے ہیں کہ ٹرمپ کس طرح کا انسان ہے اور پھر بھی ٹرمپ کو تھپکی دیتے ہیں کیونکہ انہیں معلوم ہے کہ وہ اسے کنٹرول اور استعمال کر سکتے ہیں۔ کنزرویٹو میڈیا کا ایلیٹ طبقہ بھی ٹرمپ کو جانتا ہے لیکن اس لیے اس کی حمایت جاری رکھتا ہے کہ وہ اسے کلچرل وار کے ذریعے نئے نئے موضوع گفتگو فراہم کرتا ہے۔ کنزرویٹو کے عام لوگ جنہیں صرف اپنی فکر رہتی ہے وہ بھی ٹرمپ کی بلا وجہ حمایت ہی کرنے کو بہتر سمجھتے ہیں۔

ٹرمپ جتنا ہی پاگل کیوں نہ ہو، ایک لحاظ سے وجہ بہت ہی جینئس شخص ہے اور وہ خود اس چیز کا دعوی کرتا ہے۔ یہ یوں ہے کہ وہ نفرت اور حقارت جیسے رویہ کو اپنے فائدہ اور منافع کے لیے استعمال کرنا جانتا ہے۔ اس معاملے میں وہ جو میکارتھی، چارلز لنڈ برگ اور تھیوڈور بلبو سے آگے بڑھ چکا ہے اور پھر بھی کرسی صدارت پر ایک سال مکمل کرنے میں کامیاب ہو گیا ہے اور اسے ملک کی ایک تہائی عوام کی اکثریت حاصل ہے جس کے ذریعے وہ اپنی ٹرم بھی مکمل کر سکتا ہے۔

مائیکل وولف نے امریکی نظام کے سینٹر میں موجود انسان کے بارے میں کتاب لکھ کر اس کی فطرت سے قارئین کوبہرہ ور کر کے ایک قومی خدمت سر انجام دی ہے۔ لیکن باقی طاقت ور اشخاص کی سپورٹ کے بغیر ٹرمپ سڑے ہوئے دانت کی طرح سینٹر سے غائب ہو سکتے ہیں۔ ہمیں ضرورت اس امر کی ہے کہ کیمرہ کا فوکس ٹرمپ کے چہرے سے ہٹا کر اس کے آس پاس موجود چہروں پر ڈالیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے ٹرمپ کو یہاں لا کھڑا کیا ہے جہاں وہ اس وقت موجود ہیں۔ یہ لوگ ٹرمپ کو یہاں ٹکائے ہوئے ہیں اور امریکی جمہوریت کے اداروں کو کرپٹ کرنے میں مصروف ہیں اور دنیا بھر کے امن اور سیکیورٹی کو بھی خطرے میں ڈال رہے ہیں۔


Courtesy:https://t.co/ncBWJXkmhg?amp=1

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *