اصغر خان کرگس کا جہاں اور ہے شاہیں کاجہاں اور

saeed azhar (actual)

پاکستان فضائیہ کے سربراہ ایئر مارشل (ر) اصغر خان 5جنوری 2018ء کو دنیا سے رخصت ہو گئے، انہوں نے با مقصد، طاقتور اور متاثر کن زندگی گزاری، افواج پاکستان کے ایئر مارشل (ر) نور خاں کی طرح ایئر مارشل (ر) اصغر خان کو پاکستانی قوم نے سر آنکھوں پہ بٹھایا، دونوں پہ بلا کسی تفریق و تقسیم کے محبت اور احترام کے پھول نچھاور کئے، دونوں نے پاک فضائیہ کی سربراہی کے اپنے اپنے دورانیوں میں وطن کے لئے قابل فخر اور قوم کے لئے قابل وقار کردار اور روایات کا ورثہ چھوڑا، ایسا ورثہ جس کا حوالہ پاکستان اور پاکستانیوں کو عالمی برادری کے کسی بھی فورم پر سر اٹھا کر چلنے کا حق اور اعتماد بخشتا ہے۔ دونوں ملک و قوم کے ایسے نایاب گوہر آبدار جن کی شجاعت و دیانت نے پاکستانی معاشرے کے مجموعی ڈیپریشن کو ہمیشہ نئے آدرشوں اور نئی امنگوں کے تبادلوں سے سرفراز کیا۔ ایئر مارشل (ر) نور خان ایسی ہی نتیجہ خیز اور تاریخ ساز اننگ کھیل کے اس عارضی سہارے سے ابد الاباد روانہ ہوئے، ایئر مارشل (ر) اصغر خان نے ریٹائرمنٹ کے بعد سیاست کا میدان منتخب کیا اوروں کی تو کیا مثال دینی ہے، خود خاکسار ان کی سیاسی زندگی کے انجام پر ’’وہ سیاست کا اصغر خان ہو گا‘‘ کا قول دھراتا رہا، آج جبکہ وہ وجود، وہ آواز، وہ نمونہ ہمارے مابین سے اٹھ گیا نہ جانے، ملک کی سیاست میں رائج یہ مقولہ مجھے کیوں غیر اخلاقی، غیر واقعاتی، غیر سچا، غیر منطقی، غیر مہذب اور غیر مناسب محسوس ہوتا ہے، ایسا لگتا ہے جیسے ہم نے کسی کو اس کے شریف اور مخلص ہونے کے وصف ’’مجرموں‘‘ کی صف میں کھڑا کر دیاتھا اس لئے کہ اس نے شرافت اور اخلاص کے اس ترازو میں کیوں خود کو تولنے کی کوشش کی جسے ہم متروک قرار دے کر معدوم کر چکے تھے اور کر چکے ہیں، معدوم کر دیا ہے، ہم سب (استثناء ہمیشہ اپنی جگہ موجود ہوتا ہے، زندگی کو اجتماعت کے قانون کی روشنی میں دیکھا جاتا ہے) مجموعاً ایک نمبر کے غیر شریف اور غیر مخلص ہیں، یہ اصغر خان کہاں سے تشریف لے آئے تھے اور اگر تشریف لے ہی آئے تھے، پھر شرافت اور اخلاص کے اس ترازو کے ساتھ کیوں جسے ہم متروک قرار دے کر معدوم کر چکے تھے اور کر چکے ہیں۔
1978ء کا ذکر ہے۔ ضیاء الحق باقاعدہ باضابطہ نیت منصوبہ بندی، ناقابل تصور گہری سازش کے تانے بانے کی بنت سے ذوالفقار علی بھٹو کی آئینی حکومت پر غیر آئینی اور غاصبانہ قبضہ کر چکا تھا، یہ ذوالفقار علی بھٹو کے خلاف اٹھائی گئی پاکستان قومی اتحاد (پی این اے) کی تحریک کا نتیجہ تھا، ابھی اصغر خان کی جماعت ’’تحریک استقلال‘‘اس پاکستان قومی اتحاد کے نو جماعتی اکٹھ کا حصہ تھی۔ ’’تحریک استقلال ‘‘ نے مستقبل کی سیاست کے پیش نظر قومی سطح پر 1978ء میں ایک روزنامے کا اجرا کر دیا، ملکی مقام و مرتبہ کے حامل صحافیوں اور دانشوروں کی خدمات حاصل کی گئیں لیکن ایک وقت پر اصغر خان نے پاکستان قومی اتحاد کو خیر باد کہہ دیا، اصغر خان صاحب کی اس نو جماعتی اتحاد سے علیحدگی کے الفاظ آج بھی نہیں بھولتے، تحریک استقلال کے ترجمان اخبار کی ہیڈ لائن یہ تھی
’’کرگس کا جہاں اور ہے شاہیں کا جہاں اور!‘‘
’’تحریک استقلال‘‘ کے ترجمان اخبار کی ادارت کا موقع ملنے پر اس کشمیری نژاد پٹھان کو ون ٹو ون دیکھنے اور جانچنے کا موقع ملا، پاکستان قومی اتحاد (پی این اے) کی تحریک پاکستان کی دھرتی پہ دائیں بازو اور مذہب پرست پنجابی عوام کے طرز فکر اور طرز عمل کا ایک فیصلہ کن فکری باب ہے، یہ تحریک کیا تھی؟ اس میں شامل ’’امت مسلمہ‘‘ کے نجات دہندہ ’’افراد‘‘ خدا کی اس دنیا اور اس کی عام مخلوق کو کس ڈھب کی زندگی گزارنے کا ’’فلسفہ‘‘ دے رہے تھے، نو جماعتوں کے اس اتحاد میں شامل ان نمایاں لوگوں میں اکثر اجتماعی انسانی ارتقا اور کردار کی روشنی میں ’’اصل شکل و صورت‘‘ کیا ہے، اس سب کا تذکرہ ہونا چاہئے، شوروغوغا، نعرہ بازی، مقدس مذہبی اصطلاحات کی جبریت اور پاکستانی عوام کی سادہ لوح مذہبی حسیات کے تباہ کن انسانی استعمال کے ابواب پہ مشتمل اس تحریک ’’(پی این اے)‘‘ کو گزرے اور ذوالفقار علی بھٹو کو تختہ دار پر سرفراز کئے قریب قریب اڑتیسواں برس گزرنے کو ہے مگر ’’پی این اے‘‘ کے ’’مذہبی آسیب‘‘ نے پاکستان کی دھرتی پہ جس بہیمانہ ’’رقص‘‘کی تاریخ مرتب کی، وہ کون سا حق گو ہو گا جو جان ہتھیلی پہ رکھ کے ان ’’لوگوں‘‘ کی اکثریت کے چہروں اور اعمال کی اصلیت پر سچ کی ایڑی رکھ سکے گا؟ کوئی امید نہیں، آج بھی اچھل اچھل کر بولتے ہیں زور زور سے آسمان پھاڑنا اور کان پڑی آواز سنائی نہ دینے دینا ان کی فطرت ثانیہ ہے، آج بھی اچھل اچھل کر ہی حوالے دیتے ہیں، ان میں سے ایک دانشور اصغر خان سے اپنی گفتگو کا حوالہ دیتے ہوئے کہتا ہے ’’اصغر خان نے بہت سے معاملات پر اپنی ’’منفرد‘‘ رائے دی، مشرقی پاکستان، افغانستان حتیٰ کہ کشمیر کے بارے میں وہ ہماری مقبول عام پالیسیوں کے حامی نہ تھے‘‘۔ اور ان کی مقبول عام پالیسیوں نے کشمیر، مشرقی پاکستان اور افغانستان کا کیا ’’حشر‘‘ کیا، سوائے خالق کائنات کے کوئی ان کی گردن نہیں پکڑ سکتا، دائیں بازو کے ان سرخیلوں کی ایکسپلائٹ کردہ ان کی مذہبی اپروچ نے پاکستان کو برباد کر دیا۔
پاکستان قومی اتحاد (پی این اے) کا یہ نظریاتی اور سماجی طبقہ ہی پاکستان اور پاکستانی عوام کے مقدر پر مسلط اور سوار رہا، ان میں کسی قسم کی شرمندگی، حجاب آمیزی یا احساس ندامت کے کسی عنصر کی کبھی پیدائش ہی نہیں ہوئی، ضیاء الحق، دہشت گردی، فرقہ واریت عالمی برادری میں پاکستان کو کس طرح مخاطب کیا جاتا ہے، پاکستان کی زندگی کا یہ ایک ایک باب ان لوگوں کے گمراہ اور غیر فطری ہونے کا ثبوت ہے، جس دور میں اصغر خان نے پاکستان میں انسانی احترام، دیانتداری، حب الوطنی اور عظمت کردار کی خاطر اپنی زندگی دائو پہ لگا دی وہ دنیا سے جاتے وقت پی این اے جیسی تحریک کے ان علمبردار طبقوں کی حکمرانیوں اور فعالیت کے باعث پاکستان کو بے پناہ خون ریز شب و روز کی غرقابی کے عالم میں چھوڑ کر گیا۔
طاقتور یہ اتنے ہیں کہ ایئر مارشل (ر) اصغر خان نے برسوں پہلے غالباً سیاستدانوں میں پیسے تقسیم کئے جانے کا مشہور عالم مقدمہ دائر کیا تھا، بقول ایک تجزیہ کار کے ’’ان کا کیس آج بھی زندہ ہے اور اگر یہ کسی نتیجے پہ پہنچ پایا تو نہ صرف سیاست میں ادارہ جاتی کرپشن کو افشا کر دے گا بلکہ یہ بھی ظاہر ہو جائے گا کہ ریاستی ادارے انتخابی دھاندلیوں میں کس طرح ملوث رہے، انہیں اس لحاظ سے بھی یاد رکھا جائے گا جنہوں نے سیاسی، انتخابی انجینئرنگ کو روکنے کے لئے عدالت سے رجوع کیا جس کے نتیجے میں اعلیٰ ترین سیاسی ایجنسی کا سیاسی سیل بند ہوا‘‘ لیکن ایئر مارشل (ر) اصغر خان اس کیس کے فیصلے کی حسرت دل میں لئے ہی ہمیں خدا حافظ کہہ گئے، پاکستان پی این اے، جیسی تحریک کے طبقوں اور عوام کا ہے، وقت بتائے گا یہاں انتشار و فساد اور حد درجہ ناشائستہ معاشرتی ڈھانچہ جسے یہ طبقے اپنے مفاد کی حد تک کنٹرول میں رکھتے اور عام لوگوں کے لئے کھلا چھوڑ دیتے ہیں شاید ہی کبھی تبدیل ہو سکے۔
’’ایئر مارشل (ر) اصغر خان سچائی اور کردار کا ناقابل فراموش نمونہ تھے، ذوالفقار علی بھٹو پاکستانی کی سلامتی اور بقا کے لئے جنگ کیا کئے، دونوں کو تاریخ نے کیا مقام دیا آج ہمارے سامنے ہے، دونوں کو ایک دوسرے سے اختلاف رہا لیکن دونوں کا تاریخ نے اعتراف کیا‘‘۔
اور ان پی این اے والوں نے پاکستان کو کیا دیا؟ اور ضیاء الحق کو تاریخ کے ایوان میں کیا مقام نصیب ہوا ان سے مکالمہ نہیں ہو سکتا، وقت کے گجر کا بیانیہ اپنی صداقت آپ ہے

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *