پنجاب بمقابلہ پنجاب

m zia uddin

اس وقت پاکستان میں عجیب ہی صورتحال ہے جہاں ایک پنجاب کی مضبوط پارٹی پنجاب کی ہی مضبوط اسٹیبلشمنٹ کے سامنے کھڑی ہے۔ اس سے پہلے اس طرح کا امتحان 2014 کے پی ٹی آئی کے دھرنے کے وقت پیش آیا تھا۔ وہ مقابلہ دو سیاسی جماعتوں کے بیچ تھا اور ڈر پر ختم ہوا کیونکہ کوئی پارٹی اپنی طاقت کا لوہا نہ منوا سکی۔ اگر پیپلز پارٹی یا کوئی اور جماعت اگراپنے صوبے کے دارالحکومت میں دھرنا ڈال کر بیٹھ جاتی تو فوج کچھ ہی دیر میں چاہے کچھ کو قتل ہی کیوں نہ کرنا پڑے دھرنا مظاہرین کو تتر بتر کر دیتی۔ اور پنجاب اس معاملے میں فوج کے ساتھ کھڑا ہوتا۔ اندرون سندھ میں ایم آر ڈی تحریک کو یاد کیجیے جو 1980 کی دہائی میں ضیا کے خلاف شروع کی گئی تھی۔ اس کو فوری طور پر بزور بازو ختم کیا گیا اور پنجاب نے بھر پور ساتھ دیا۔ ہماری تاریخ ایسےواقعات سے بھری پڑی ہے جب اسٹیبلشمنٹ کو بہت سے علیحدگی پسند لیڈروں کا مقابلہ کرنا پڑا جو این ڈبلیو ایف پی کو ایک آزاد ملک پختونستان
بنوانا چاہتے تھے۔ ہر بار پنجاب نے ہمیشہ اسٹیبلشمنٹ کا ساتھ دیا۔ 1970 کی خانہ جنگی کے دوران بھی فوج نے ہتھیار کے ذریعے بنگالیوں کو سبق سکھانے کی ٹھانی اور پنجاب نے اس کا بھر پور ساتھ دیا۔ 1948، 58، 62، 74، 2003 اور موجودہ بلوچستان آپریشن کو کون بھول سکتا ہے جو پنجاب کے تعاون کے بغیر کبھی ممکن نہ تھے۔ اب جو اسٹیبلشمنٹ خود پنجاب میں مبنی ہے وہ پنجاب کی ایک مقبول پارٹی کو کیسے بے اثر بنا سکتی ہے اور اس کے خلاف کیا ایکشن لے سکتی ہے؟ یاد کیجیے کہ 1977 میں ذوالفقار علی بھٹو کے خلاف پی این اے تحریک کے دوران جب احتجاج ختم کروانے کے لیے فوج کی مدد طلب کی گئی تو فوج نے کیسے رد عمل دیا تھا اور مظاہرین پر گولیاں برسانا شروع کر دیا تھا۔ اب ان کی جنگ ایک غیر یقینی فیز میں داخل ہو چکی ہے کیونکہ نا اہل قرار دیے جانے کے باوجود ان کی پارٹی انہیں اپنا لیڈر مانتی ہے اور پارٹی میں ابھی تک کوئ دراڑ بھی نظر نہیں آئی ہے۔ نا اہلی کے بعد نواز شریف کی جی ٹی روڈ ریلی اور این اے 120 میں الیکشن مہم اور کامیابی سے ان تمام لوگوں کو چپ لگ گئی جنہیں لگتا تھا کہ اب پنجاب میں پی ٹی آئی مضبوط ہو چکی ہے۔ البتہ فیض آباد میں ممتاز قادری جس نے سلمان تاثیر کو قتل کیا تھا کے پیروکاروں کے دھرنا سے حکومت کی کچھ کمزوری ظاہر ہوئی۔ لیکن جس طرح آرمی نے معاملہ ختم کروایا، اور خاص طور پر جس طرح ایک سینئر فوجی اہلکار کو رقم تقسیم کرتا دیکھا گیا، جو ان مظاہرین کو دی گئی جو معاہدہ کے تحت رہا ہو رہے تھے جس کے ضامن جنرل قمر جاوید باوجوہ تھے، اس سے معلوم ہوتا ہے کہ سارا کھیل آرمی کا تھا۔ حالت یہ ہو گئی کہ سینیٹ کمیٹی کو بریفنگ
دیتے ہوئے جنرل قمر جاوید صاحب کو کہنا پڑا کہ اگر فیض آباد دھرنے کے پیچھے فوج کا ہاتھ ثابت ہوا تو وہ مستعفی ہو جائیں گے۔ اب ایسا لگتا ہے کہ پنجاب میں قائم شدہ پاکستانی اسٹیبلشمنٹ کے لیے پنجاب میں مقبول ایک پارٹی کو توڑنا بہت مشکل محسوس ہو رہا ہے۔ یہ صرف اس لیے نہیں ہو رہا کہ اسٹیبلشمنٹ کے مطالبات کے سامنے پنجاب کا سیاسی ریسپانس منفی تھا بلکہ اس لیے بھی تھا کہ 70 سال میں پہلی بار امریکہ اور پاکستان کی اسٹیبلشمنٹ کے تعلقات تقریبا ختم ہو چکے تھے اور اسے بہت کمزور اور بے سرو پا سمجھا جا رہا تھا۔  شاید اسی وجہ سے جیسا کہ ڈان لیکس سے ظاہر ہے، حکومت نے 3 اکتوبر کی میٹنگ میں فوجی عہدیداروں کو سخت وارننگ دی اور بتایا کہ پاکستان کو عالمی تنہائی کا سامنا ہے۔ اس لیے کچھ معاملات پر فوجی قیادت کا ساتھ بھی حاصل کرنے کی کوشش کی۔ اس ملاقات میں یہ اتفاق رائے حاصل کرنے کی کوشش کی گئی کہ اگر قانون نافذ کرنے والے سویلین ادارے کسی ملی ٹینٹ گروپ کے خلاف کاروائی کریں تو فوج اور خفیہ ایجنسیاں اس کاروئ میں خلل نہ ڈالیں۔ دوسری بات یہ کہ نواز شریف نے اس موقت پر پٹھانکوٹ واقعہ کی نئے سرے سے تحقیقات کا حکم دیا اور کہا کہ ممبئی حملوں کے حوالے سے بھی راولپنڈی انسداد دہشت گردی عدالت میں کیسز پر عمل میں تیزی لائی جائے۔ اس سے قبل میٹنگ میں آئی ایس آئی کے ڈائریکٹر جنرل نے بتایا کہ کسی بھی ملی ٹینٹ گروپ کے بیچ فرق نہ کرنا فوج کی پالیسی ہے اور فوج اس پالیسی پر سختی سے
عمل پیرا ہے۔ ایجنسی کے چیف کا یہ بھی کہنا تھا کہ ملی ٹینٹس گروپ کے خلاف کاروائی کے لیے بھی ایسا وقت چنا گیا تا کہ اسے بھارتی پریشر کا جواب یا
کشمیریوں کو اکیلا چھوڑنے کے برابر نہ سمجھ لیا جائے۔  بہت سے حکومتی عہدیداروں کے مطابق 3 اکتوبر کو ہونے والی میٹنگ نواز شریف اور فوجی قیادت کے درمیان سب سے جارحانہ تھی جس میں وزیر اعظم نے کوشش کی کہ پاکستان کو مزید سفارتی دباو سے بچایا جا سکے۔ آرمی چیف سے علیحدہ علیحدہ ملاقاتوں میں، ملاقات میں موجود نمائندوں کے مطابق، نواز شریف نے پہلی بار سخت الفاط کا استعمال کرتے ہوئے یہ بتانے کی کوشش کی کہ اگر پالیسیاں بدلی نہ گئیں تو پاکستان کو عالمی تنہائی کا شکار ہونا پڑ سکتا ہے۔ (6 اکتوبر 2016 کو شائع ہونے والی اس ڈان رپورٹ کو ملٹری ترجمان اور سویلین
حکومت نے مسترد کر دیا تھا اور اس کے نتیجہ میں کچھ سویلین اہلکاروں کو اپنے عہدوں سے بھی علیحدہ ہونا پڑا جن میں پرویز رشید، اور طارق فاطمی شامل تھے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *