پاکستان کے ساتھ کن معاملات میں الجھنے سے گریز کرنا چاہیے

richard-oleson

رچرڈ اولسن

ٹرمپ کی طرف سے پاکستان کو جھوٹا اور دھوکہ باز قرار دینے اور پھر سکیورٹی امداد روکنے کے اقدامات سے معلوم ہوتا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ پاکستان کے خلاف جارحانہ رویہ اختیار کر کے پاکستان کو اپنی مدد پر مجبور کرنے پر آمادہ ہے۔ پچھلے ہفتے جمعرات کے روز سٹیٹ ڈیپارٹمںٹ آ ف امریکہ نے امریکی امداد روکے جانے کی تصدیق کی۔ اس فیصلہ سے پاکستان کو سالانہ 1 اعشاریہ 3 بلین ڈالر کی رقم جو ملتی تھی وہ روک لی گئی ہے۔  اگرچہ جذباتی لحاظ سے دیکھا جائے تو پاکستان کو16 سال تک امریکہ سے رقم لے کر بھی مدد نہ کرنے پر سزا دینا درست ہے لیکن اتنظامیہ نے جو راستہ اختیار کیا ہے وہ بلکل کارگر ثابت نہیں ہو گا۔ پاکستان امریکہ پر اتنا منحصر نہیں ہے جتنا امریکہ پاکستان پر ہے۔ پاکستان کی پالیسی کو سمجھنے اور امریکی آپشنز کی کمی کو دیکھنے کے دو پہلو ہیں ایک جغرافیائی اور دوسرا تاریخی۔ پاکستان دریائے سندھ کے دونوں طرف پھیلا ہوا ہے جس کے بعد میدانی علاقہ شروع ہوتا ہے اور دوسری طرف پہاڑی علاقوں میں قبائلی عوام موجود ہیں۔ یہ سب صورتحال زیادہ خطرناک نہ ہوتی اگر بھارت کے ساتھ پاکستان کا ہمیشہ سے دشمنی کا رویہ نہ رہا ہوتا۔ پاکستان کے قیام سے آج تک پاکستان ہمیشہ بھارت کو اپنے وجود کےلیے خطرہ تصور کرتا ہے۔ پاکستان کو لگتا ہے کہ بھارت کسی بھی وقت پنجاب کے راستے لاہور پر حملہ آور ہر کر پاکستان کے وجود کے لیے خطرہ بن سکتا ہے۔ ممکن ہے ہم لوگ پاکستان کے اس عقیدے سے اتفاق نہ رکھتے ہوں لیکن یہ واضح ہے کہ پاکستانی عوام کی اکثریت بھارت کو اپنے لیے خطرہ ہی سمجھتی ہے۔ اس خطرے سے نمٹنے کے لیے پاکستان نے اپنے طور پر کچھ پالیسیاں بنا رکھی ہیں جن میں پراکسی کا استعمال سب سے اہم ملٹری سولیوشن سمجھا جاتا ہے۔ پاکستانی فوج اور آئی ایس آئی نے ہمیشہ بھارت مخالف اور افغان مخالف گروپوں کی حمایت اور مدد کی ہے۔ 1980 کے زمانہ میں امریکہ نے افغانستان میں سوویت یونین کو شسکت دینے لیے ان پراکسی گروپوں کو مضبوط کیا۔ یہ پالیسی 1989 میں بدل گئی کیونکہ افغانستان میں سوویت جنگ ختم ہو چکی تھی۔ 1990 کی پریسلر امینڈمنٹ کے مطابق ہم نے پاکستان کو ایٹمی ہتھیار بنانے کی سزا کے طور پر سکیورٹی کی مد میں دی جانے والی امداد بند کر دی۔ لیکن پاکستان کی چونکہ اپنی بڑی تعداد پختون پر مشتمل ہے اس لیے اس کےلیے ممکن نہ تھا کہ طالبان سے تعلقات توڑ لے۔ اسی وجہ سے پاکستان آج تک طالبان اور حقانی نیٹ ورک کو اپنے ملک میں پناہ دینے اور انہیں خاموشی سے
سپورٹ فراہم کرنے پر مجبور ہے۔ پاکستان کی جغرافیائی حیثیت بھی امریکہ کےلیے ایک معمہ ہے۔ پچھلے سولہ سال سے امریکہ کےلیے افغانستان جانا چاہے زمینی راستے سے ہو یا فضائی، صرف پاکستان کے راستے ہی ممکن ہے۔ اس کے علاوہ کوئی دوسرا ملک یہ راستہ فراہم کرنےکے لیے تیار نہیں ہو گا خاص طور پر ایران جس سے امریکہ کے تعلقات عموما خراب رہتے ہیں۔ سینٹرل ایشین ریاستوں کے ذریعے سپلائی ممکن تو ہے لیکن وہ بھی روس کی مدد
کے بغیر ممکن نہیں ہو گی۔ پاکستان کے تعاون کے بغیر افغانستان میں امریکی فوج بہت بری صورتحال کا شکار ہو جائے گی۔ امریکہ نے اس کا حل یہ نکالا کہ پاکستان کو ایک امدادی پیکج دیا جائے۔ یہ سلسلہ 2001 سے شروع ہوا جب بش امریکی صدر تھے۔ امریکہ کا ارادہ تھا کہ پاکستان کو افغانستان میں امریکی جنگ لڑنےکی وجہ سے اس کے اخراجات کی مکمل ادائیگی کی جائے گی۔ پاکستان نے اس امداد کو اپنی مقامی دہشت گردی کے خلاف جنگ کا انعام
سمجھ لیا جس میں پاکستان کو 50000 سے زیادہ جانیں اور اربوں ڈالر کی معیشت کا نقصان برداشت کرنا پڑا۔ اوبامہ ایڈمنسٹریشن کے دور میں سالانہ ۱ ارب ڈالر کی امداد دے کر بھی امریکہ پاکستان پر اس قدر بھاری نہیں بن سکا جتنا یہ چاہتا تھا۔ پاکستانی جرنیل جو راولپنڈی میں بیٹھ کر افغان پالیسی بناتے ہیں انہیں کبھی یہ سوچنے پر آمادہ نہیں کیا جا سکا کہ وہ طالبان اور امریکہ میں سے کسی ایک ساتھی کو چنیں یہی ان کےلیے بہتر ہے۔ میں خود اس بات کا اعتراف کرتا ہوں کہ میں نے 4 سال تک کوشش کی کہ پاکستان کو امریکہ کو طالبان پر ترجیح دینے پر آمادہ کر سکوں لیکن ایسا ممکن نہیں ہو سکا۔ جرنیلوں کو معلوم تھا کہ جب تک امریکی فوج افغانستان میں موجود ہے تب تک اس کا انحصار پاکستان پر ہے نہ کہ پاکستان کا امریکہ پر۔ امریکہ اور پاکستان میں اس معاملے میں علیحدہ ترجیحات کی وجہ سے تعلقات کمزور ہوتے گئے جیسا کہ اوبامہ کے آخری سال کے واقعات سے پتا چلتا ہے۔ ایک کڑوا سچ ہے کہ امریکہ پر راولپنڈی اور اسلام آباد کا انحصار کم ہوتا جا رہا ہے۔ جیسے جیسے امریکی امداد میں کمی آتی جا رہی ہے چین کی طرف سے انویسٹ منٹ میں بدستور اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ چین نے پاکستان میں 62 بلین ڈالر کی انویسٹمںٹ کر رکھی ہے جس کے مقابلے میں امریکی رقم اونٹ کے منہ میں زیرہ کے برابر ہے۔ اس لیے ٹرمپ انتظامیہ کا پاکستان کو ذلیل کرنے اور امداد روکنے کا رویہ کارگر ثابت نہیں ہو گا۔ بہت سے ممالک کی طرح پاکستان بھی عوامی دباو کے تحت بہت برا ری ایکشن کرنے والا ملک ہے۔ اس لیے ممکن ہے کہ پاکستان اشتعال میں افغانستان میں ہمارے لیے رکاوٹیں پیدا کر دے۔ بہترین اپروچ یہ ہے کہ امریکہ تمام پاکستانی حکام پر واضح کرے کہ انہیں طالبان اور حقانی نیٹ ورک سے روابط ختم کرنا ہوں گے اور صرف اسی صورت امریکہ سے خوشگوار تعلقات قائم رکھے جا سکتے ہیں۔ چونکہ ٹرمپ انتظامیہ اپنے جارحانہ مزاج کی وجہ سے جانی جاتی ہے اور یہ ہر حال میں کچھ کر گزرنے کےلیے تیار ہے اس لیے یہ پاکستان کو یہ پیغام واضح طریقے سے دے سکتی ہے۔ لیکن ٹویٹر کا استعمال اور امداد روک دینے جیسی پالیسیاں کامیابی کے راستے میں رکاوٹ بن سکتی ہیں۔
امریکہ افغانستان کا مسئلہ تبھی حل کر سکتا ہے جب یہ مذاکرات کا راستہ اختیار کرے۔ پاکستان کوننڈرم کا واحد جواب پاکستان اور طالبان کےساتھ براہ راست
مذاکرات ہیں جب کہ موجودہ طریقہ کار اس کے بلکل بر عکس ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ نے واضح الفاظ میں کہا ہے کہ معاملہ بات چیت اور مذاکرات سے حل
ہو گا۔ یہ سمجھنا مشکل ہے کہ ابھی تک سفارتی مذاکرات کا سلسلہ کیوں شروع نہیں کیا گیا۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *