کیا ترکی کے سابق صدر عبداللہ گل اگلے الیکشن میں اردگان کا مقابلہ کریں گے؟

ambreen zaman

عنبرین زمان

ایران میں جہاں مظاہرین کی بھر پور طاقت کے بعد اس بات پر بحث جاری ہے کہ یہ ریاست اب مذہبی ریاست رہ پائے گی یا ہیں تو دوسری طرف ترکی میں اس بات پر بحث چل رہی ہے کہ سابق صدر عبداللہ گل طیب اردگان کا مقابلہ اگلے الیکشن میں کر پائیں گے یا نہیں اور آیا ترکی میں جمہوریت خاتمہ کے قریب پہنچ چکی ہے یا نہیں۔ ۲۰۱۶ میں ترک صدر کے خلاف فوجی بغاوت کی ناکامی کے بعد جمہوری اداروں کو جس طرح سے دبایا جا رہا ہے اس سے ملک میں جمہوریت کی صورتحال ڈانواں ڈول نظر آتی ہے۔ لیکن سابق صدر عبداللہ گل نے جب سے بولنے کی ہمت کی ہے ملک کی جمہوریت پر پھیلتے ہوئے بادل ہٹتے نظر آنے لگے ہیں۔ عبداللہ گل جنہیں اردگان کا حقیقی مخالف سمجھا جاتا تھا انہوں نے حال ہی میں ٹویٹر کے ذریعے حکومتی پالیسیوں کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا جن میں سے ایک اہم پالیسی ایسی تھی جس کے ذریعے حکومت کے حمایتی طبقہ کو کسی بھی شخص پر جسمانی تشدد کرنے پر قانونی کاورائی سے بری قرار دیا گیا۔  گل نے بہت محتاط زبان استعمال کرتے ہوئے لکھا کہ انہیں یقین ہے کہ یہ قانون جمہوریت کا دفاع کرنے والوں کےلیے بنایا گیا ہے جنہوں نے جانیں خطرے میں ڈال کر بغاوت کو ناکام بنایا لیکن اس قانون کے الفاظ اس قدر مبہم اور غیر واضح ہیں کہ کوئی بھی شخص اس قانون کا غلط استعمال کر سکتا ہے۔ اس کے بعد انہوں نے مطالبہ کیا کہ مستقبل میں ایسے واقعات سے بچانے کےلیے ایک واضح لائحہ عمل اپنایا جانا چاہیے۔ اس معمولی سی آواز کے ساتھ ہی گل نے بہت سے عوام کے دل میں ایک امید پیدا کر دی ہے کہ وہ اگلے الیکشن میں طیب اردگان کو شکست دینے کے ارادے سے شرکت کریں گے اور الیکشن جیت کر ملک کو جمہوری روایات کے راستے پر ڈالیں گے۔ انہوں نے نہ صرف صدارتی پالیسیوں کو تنقید کا نشانہ بنایا بلکہ اپنے بیان پر قائم بھی رہے۔ ترکی کے اسلامک موومنٹ کے تجزیہ کار روسن کاکیر کا کہنا تھا کہ اردگان اور ان کے اتحادی اس بات سے بہت پریشان ہیں کہ اگر عبداللہ گل سیاسی طور پر دوبارہ سے متحرک ہو گئے تو ان کی سیاسی حالت کمزور ہو جائے گی۔  اگر وہ ایسا نہیں کرتے تو کیا ہو گا؟ سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ اگر اردگان
صدارتی الیکشن میں فتح حاصل کر لیتے ہیں تو مستقبل کے سارے الیکشن ون مین رول کے لیے ربر سٹمپ کی حیثیت اختیار کر لیں گے۔ پچھلے چند سالوں میں اردگان کے خلاف آواز نہ اٹھانے پر گل کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا تھا۔ گل کی خاموشی سے یہ اندازہ لگایا جا رہا تھا کہ اردگان کے پاس ان کے خلاف کوئی خاص معلومات ہیں جن کی بنیاد پر وہ انہیں بلیک میل کر کے خاموش رہنے پر مجبور کر رہے ہیں۔  خاموش رہنے کی وجہ سے گل کے حمایتی بھی ان سے ناراض ہونے لگے تھے اور بلآخر گل نے زبان کھول کر ایک لمبے عرصہ کی خاموشی کو توڑ ہی دیا۔ ایک اور مشہور کنزرویٹو تجزیہ کار نے شناخت ظاہر نہ کرتے ہوئے کہا کہ اردگان گل کو اکسا رہے ہیں جب کہ گل اپنی جگہ پر رہ کر تیر برسانے میں لگے ہیں۔ وہ اردگان کی طرف سے عبداللہ پر تابڑ توڑ حملوں کی طرف اشارہ کر رہے تھے جس میں اردگان نے کہا کہ جب ترکی جل رہا تھا تو یہ لوگ خاموش تھے اور اب انہیں تبصرے کرنے کا شوق ہو گیا ہے۔  اب جب ترکی ترقی کی راہ پر ہے تو ان لوگوں کو آزادی اور ترقی ہضم نہیں ہو رہی۔ کچھ سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق گل اردگان کو ہرا سکتے ہیں لیکن ایک مسئلہ درپیش ہے۔ گل ایک رسک ٹیکنگ شخص نہیں ہیں اور ممکن ہے کہ وہ اردگان کی طرف سے مزید دباو برداشت نہ کر پائیں۔ گل چاہتے ہیں کہ وہ کوئی رسک لیے بغیر ملک کے حکمران بن جائیں۔  ماہرین اور تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ صرف گل ہی اردگان کو الیکشن میں ٹف ٹائم دے سکتے ہیں کیونکہ وہ حزب اختلاف سے بھی سپورٹ حاصل کرنے میں کامیاب ہو سکتے ہیں۔ اس بات کا انداز گل کے ایک ٹویٹ پر رد عمل سے ہی لگا یا جا سکتا ہے۔
ایک سابقہ ترک سفیر نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ صرف عبداللہ گل ترکی کا امیج دنیا میں ایک بار پھر بہتر بنا سکتے ہیں۔  موجودہ صورتحال میں اگر گل ایک آزاد امیدوار کی حیثیت سے لڑتے ہین تو انہیں 1 لاکھ دستخط چاہیے ہوں گے تا کہ وہ کوالیفائی کر سکیں۔ ایک کردش سیاستدان کے مطابق یہ کوئی مشکل نہیں ہے۔ ایک سیاستدان نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر المونیٹر کو بتایا کہ ایچ ڈی پی اس بات پر غور کررہی ہے کہ اگر عبداللہ گل اردگان کے خلاف کھڑے ہوتے ہیں تو ان کا ساتھ دیا جائے یا نہیں۔  زیادہ تر لوگوں کا ماننا ہے کہ انہیں سپورٹ کرنا چاہیے کیونکہ واحد عبداللہ ہی ہیں جو اردگان کو شکست دے کر ملک کو تباہی سے بچا سکتے ہیں اور قانون کی عمل داری ایک بار پھر ملک میں نافذ کر سکتے ہیں۔ اگرچہ عبداللہ دل سے ایک نیشنلسٹ ہیں لیکن انہیں معلوم ہے کہ اگر کردوں کے مسائل حل نہ کیے گئے تو ملک ترقی کی راہ پر گامزن نہیں ہو پائے گا۔ جب گل کو 2009 میں تہران سے ترکی لے جانے والے طیارے میں میری ان سے ملاقات ہوئی تو انہوں نے کہا کہ مستقبل قریب میں کردوں کےلیے بہت اچھے فیصلے دیکھنے کو ملیں گے۔کردش سیاستدان گل کا کہنا تھا کہ اگر میرل اکسینر کے ساتھ اتحاد کر لیا جائے تو بھی انہیں کردوں کی حمایت حاصل ہو جائے گی اور اکسینر کی مدد سے گل اردگان کی طرف سے حملوں کا سامنا کرنے میں کامیاب ہو سکتے ہیں۔ کنزرویٹو ایٹلیکچول کے مطابق گل کی اگلی چال یہ ہو گی کہ وہ ایک بیان جاری کریں کہ 15 جنوری کے بعد ایمرجنسی رول کو طول نہیں دیا جا سکتا اور انہیں اس بیان کو وضاحت بھی کھل کر کرنی چاہیے۔  یہاں مسئلہ کیمل کیلیداروگلو کا ہے جو سی ایچ پی کے لیڈر ہیں اور الیکشن میں حصہ لینے کا ذہن بنا چکے ہیں۔اگرچہ 2010 سے انہوں نے کوئی الیکشن نہیں جیتا لیکن انہیں یقین ہے کہ وہ اپوزیشن بلاک کے لیڈر بن سکتے ہیں۔  رپورٹس کے مطابق وہ اکسینر اور ایچ ڈی پی سے سپورٹ کے بھی طلبگار ہیں۔ جواب میں وہ اکسینر اور پرو ایچ ڈی پی کرد کے کسی نمائندے کو وائس پریزیڈینٹ بنانے کا وعدہ بھی کرتے ہیں۔ سی ایچ پی 25 فیصد نمائندگی رکھتی ہے اور کلیدارگلو اپوزیشن کو توڑ کر اردگان کےلیے ایک بار پھر جیت کی راہ ہموار کر سکتے ہیں۔ کردش سیاستان نے وضاحت کرتے ہوئے بتایا: بہتر آپشن یہ ہو گی کہ اکسینر اور کرد طبقہ عبد اللہ گل کو اپنا امیدوار بنائے تا کہ اسے کچھ سیٹس ملنے کا یقین ہو۔البتہ یہ ذہن میں رکھتے ہوئے کہ اقتدار سے چمٹے رہنے کے لیے طیب اردگان فراڈ کا سہارا لے سکتے ہیں، اگر کلیداروگلو کو ریس سے باہر نکال کر ہی اپوزیشن اپنی فتح کو یقینی بنا سکتی ہے۔  اس لیے کلیداروگلو کی یہ ذمہ داری بنتی ہے کہ اپنا نام واپس لے کر گل کو الیکشن لڑنے دیں۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *