آسانی ؛ زینب مشکل سوال پوچھتی ہے !!

mir moeed

کل بھی ہم اور تم

ظلمتوں کی چکی میں

یوں ہی پیسے جاتے تھے اور اب بھی پستے ہیں

کل بھی سینکٹروں مائیں

اپنے لال تاروں کو

کٹتے دیکھ کر یوں ہی

روز رویا کرتی تھیں ، آج بھی وہی ماتم

کل بھی ناریاں یوں ہی

عصمتیں بچانے کے

خوف لے کے سوتی تھیں اور کچھ درندے تھے

جو کہ پھول کلیوں کا شکار کھیلا کرتے تھے

آج بھی وہی شکرے

کل بھی میرے بچوں کے ننھے منھے ہاتھوں کا

اوزار ہی کھلونا تھے گالیا ں مقدر تھیں

آج بھی وہی رونا

لیکن !

زرا سوچوتو!

کل کی داستانوں میں

اور اب کےدکھڑوں میں

کوئی تو فرق بھی ہے

آج کچھ آسانی ہے

کل جو ہم پستے تھے ، چکیاں تھیں دوجوں کی

کل جو خون بہتا تھا، گولیاں تھیں دوجوں کی

کل جو میری عزت کے پاک صاف دامن کو

تار تار کرتے تھے سیاہیوں سے بھرتے تھے

وہ بھی لوگ دوجے تھے

کل جو میرے بچوں کی کتابیں چھینا کرتے تھے

کھلونے توڑا کرتے تھے

سارے یار دوجے تھے

آج سارے اپنے ہیں

چکیاں بھی اپنی ہیں گولیاں بھی اپنی ہیں

بے کس پھول کلیوں کے

انگارہ جسموں کی ، آگ کھینچنے والے

گھاٹ بھی تو اپنے ہیں

اور میرے بچوں کی کتاب چھیننے والے

کھلونے توڑنے والے ، ہاتھ بھی تو اپنے ہیں

کسقدر آسانی ہے آج ظلم سہنے میں

کل جو ظلم سہتے تھے

دوسروں کی ٹھوکر سے

آج اپنے جوتوں سے

خود پپ ظلم کرتے ہیں

اور ظلم سہتے ہیں

کسقدر آسانی ہے

آج ظلم سہنے میں !!

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *